کابل ڈائری: ’اٹھو، اٹھو جنرل فیض آ رہے ہیں‘

  • ملک مدثر
  • بی بی سی، کابل
جنرل فیض

،تصویر کا ذریعہTwitter/Lindsey Hilsum

کابل میں کل پہلی رات تھی کہ میں کچھ لمبی تو نہیں لیکن مناسب نیند لے سکا۔ دراصل ہم کابل نہیں لندن کے مقامی وقت کے ساتھ بھی چلتے ہیں تو رات کہیں چار، پانچ بجے سو کر سنیچر کی صبح آٹھ بجے آنکھ کھلی لیکن میں پھر سو گیا اور گیارہ بجے کے قریب میرے ایک دوست کی کال آئی اور اس نے پرجوش آواز میں مجھے کہا ’اٹھو، اٹھو جنرل فیض آ رہے ہیں۔‘

جنرل فیض یعنی آئی ایس آئی کے سربراہ اچانک کابل آ رہے ہیں۔ رات تک تو اس خبر کا نام و نشان نہیں تھا لیکن میں کمرے سے نکل کر ہوٹل کے دروازے تک گیا تو وہاں تو سماں ہی بدلا ہوا تھا۔

باہر سپیشل فورس موجود تھی۔۔۔ کمانڈنٹ آف کابل، طالبان، پاکستانی سفارتخانے کے اہلکار، قطری عملہ اور ہوٹل کا عملہ۔

پاکستانی عملے کے لیے وی ایٹ گاڑیوں میں مختلف سامان رکھا جا رہا تھا یہ غالباً رسمی طور پر سفارتخانے کی جانب سے دیے جانے والے تحائف تھے۔

جنرل فیض کی آمد اور چائے پیتے ہوئے تصاویر سوشل میڈیا کی زینت بن چکی تھیں۔

میں نے تصویر لی تو چینل فور کی خاتون صحافی سمیت ان چند صحافیوں سے مکمل کہانی سنی جو ہوٹل کی لابی میں جنرل فیض سے ملے اور وہاں ان سے سلام کا تبادلہ کر سکے تھے۔

ایک صحافی نے بتایا کہ کل شام انھوں نے ہوٹل کے باہر پاکستانی سفارتخانے کی گاڑی دیکھی تو سمجھا کہ پاکستان سے کوئی وفد آ رہا ہو گا۔

’لیکن صبح جب دوبارہ وہ گاڑی دیکھی تو ہوٹل والوں سے پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ کوئی جنرل آ رہے ہیں۔ میں سمجھ گیا کہ کون سے جنرل ہو سکتے ہیں اور پروٹوکول کی وہ گاڑی کس کی ہے۔‘

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

دس بجے پاکستان کے ایک سینیئر صحافی کامران خان نے ٹویٹ کی حالانکہ اس وقت وفد ابھی پہنچا نہیں تھا۔ ساڑھے گیارہ بجے کا وقت تھا جب فیض صاحب آئے اور قطر کے سفیر نے ان کا استقبال کیا۔

ہوٹل میں جنرل فیض کی تصاویر تو آپ نے اب تک دیکھ لی ہوں گی۔ انھوں نے ہاتھ میں قہوے کا کپ پکڑ رکھا تھا۔ انھوں نے وہاں سامنے موجود صحافیوں کو دیکھ کر کہا ’یہ کیا ہے؟‘

تو وہاں موجود ایک صاحب نے کہا کہ اب صحافیوں کو تو نہیں روکا جا سکتا۔ خیر جنرل صاحب نے صحافیوں سے رسمی طور پر سلام کیا۔

وہاں موجود خاتون صحافی نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ طالبان سے ملیں گے تو انھوں نے پاکستانی سفیر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ ’ابھی مجھے واضح نہیں کیونکہ میں ابھی ہی آیا ہوں۔‘

پاکستان کے سفیر نے کہا کہ ہم امن اور سکیورٹی کے لیے کام کر رہے ہیں۔ اس کے بعد جنرل فیض نے مسکراتے ہوئے کہا ’امن، پریشان نہ ہوں سب ٹھیک ہو گا۔‘

اس کے دو منٹ کے بعد ایک سینئیر فوجی افسر آگے بڑھے اور انھوں نے ہم صحافیوں سے کہا کہ ٹیکسٹ چلا دیں لیکن ویڈیو نہ چلائیں۔

ابھی انھوں نے یہ کہا ہی تھا کہ باہر سے طالبان کا بندہ آیا اور اس نے بھی یہی مطالبہ دہرایا کہ آپ خبر لکھ سکتے ہیں تصویر نہیں دینی۔ اور تو اور وہاں قطری سکیورٹی والے نے جب یہی مطالبہ کیا تو ایک صحافی نے کہا کہ ’سر ہم تو نہیں چلائیں گے لیکن گوروں کا ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔‘

یہ بھی پڑھیے

ان کا یہ کہنا ہی تھا کہ اسی لمحے چینل فور کی ایڈیٹر لنڈسے ہلسم نے ٹویٹ کر دی۔

مقامی وقت کے مطابق ڈھائی بجے کے قریب جنرل فیض میٹنگ کے لیے انٹرکنٹینیٹل گئے۔ یہ نیم سرکاری ہوٹل ہے تو آپ سمجھ جائیں کہ وہاں کون کون ہو سکتا ہے اور کابل میں اس وقت حکومت کس کی ہے۔

یہاں یہ خبریں بھی کل سے گردش کر رہی ہیں کہ ملا ہیبت اللہ بھی کابل میں ہی موجود ہیں لیکن اس خبر کی تصدیق طالبان نے ابھی تک نہیں کی۔

جنرل فیض ہوٹل لوٹے اور کوئی ساڑھے سات بجے حزب اسلامی کے گلبدین حکمت یار بھی ہوٹل آئے۔

سارا دن ہوٹل کے باہر وی ایٹ گاڑیاں موجود تھیں۔ منصور علی خان ایسے پھر رہے تھے جیسے کسی شادی میں گھر والے مصروف ہوتے ہیں۔

میں ہوٹل سے نکل کر گرین زون کی جانب کام سے گیا تو وہاں بھی طالبان کا پہرہ تھا۔

باہر موجود گارڈ نے مجھ سے شناخت پوچھی تو میں نے تعارف کروا کر ذبیح اللہ مجاہد کا وہ پرچہ تھمایا جو انھوں نے میڈیا کے لوگوں کو دے رکھا ہے لیکن طالب نے مجھے مشکوک نظروں سے دیکھ کر کہا اصلی نہیں لگتا بلکہ جعلی لگ رہا ہے۔

خیر اس نے دوسرا سوال یہ پوچھا ’کدھر کے ہو‘ تو میں نے کہا پاکستان۔ پھر پوچھا ’پاکستان میں کدھر سے‘ تو میں نے کہا کوئٹہ سے۔ یہ سن کر اس نے کچھ نرمی برتی اور مجھے جانے دیا۔

جب میں مطلوبہ جگہ پہنچا تو دوستوں نے بھی یہی سوال پوچھا کہ بھئی تم یہاں تک پہنچے کیسے، وہ تو کسی کو نہیں آنے دیتے؟ تو جب میں نے سارا قصہ سنایا تو انھوں نے برجستہ کہا ’یار مدثر پہلی بار تمھارے پاکستانی ہونے کا فائدہ ہوا۔‘

ہوٹل واپسی کے سفر اور گیٹ پر جنرل فیض کے لیے موجود پروٹوکول کی وی ایٹ گاڑیوں کو دیکھتے ہوئے میں ایک بار پھر ماضی میں کھو گیا۔ یہ میرے افغانستان میں دس سال کے کرئیر کی یاد نہیں بلکہ سنہ 1994 کی ہے۔ یہ میرے بچپن کی یادیں ہیں اور تب جنرل فیض کی جگہ کرنل امام یہاں افغانستان آئے تھے۔