بھارتی کالرا: انڈین استانی جس نے وبا کے دوران غریب طلبا میں سمارٹ فونز بانٹے تاکہ وہ پڑھائی جاری رکھ سکیں

  • سوامیناتھن نٹراجن
  • بی بی سی ورلڈ سروس
Bharti Kalra in her schcool

،تصویر کا ذریعہBharti Kalra

،تصویر کا کیپشن

بھارتی کالرا کی کوششوں کی وجہ سے بہت سے بچے جو سکول چھوڑ رہے تھے دوبارہ تعلیم حاصل کرنے لگے

جب کووڈ کی وبا شروع ہوئی تو دنیا بھر میں بہت سے سکولوں میں ورچوئل کلاسیں ہونا شروع ہو گئیں۔

یہ سب ٹھیک ہے اگر آپ جدید ترین لیپ ٹاپ خرید سکتے ہیں اور آپ کا انٹرنیٹ کنکشن اچھا ہے، لیکن وہ کیا کریں جن کے پاس یہ سہولیات نہیں ہیں؟

اقوامِ متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسیف) کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے انڈیا میں پندرہ لاکھ سکولوں کے بند ہونے سے چوبیس کروڑ ستر لاکھ طلبا متاثر ہوئے ہیں، اور چار میں سے صرف ایک بچے کی انٹرنیٹ تک رسائی ہے۔

یہ وہ چیز تھی جسے ٹیچر بھارتی کالرا بہت اچھی طرح جانتی تھیں، اس لیے انھوں نے اپنا مشن بنایا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ان کے شاگردوں کو ان کی ضرورت کی ٹیکنالوجی میسر ہو، تاکہ کوئی بھی پیچھے نہ رہ جائے۔

دہلی میں ایک سرکاری سکول کی نائب پرنسپل کہتی ہیں کہ ’ہماری دسویں اور بارہویں جماعت میں پاس ہونے کی شرح 100 فیصد ہے، حالانکہ ہم باقاعدہ کلاسیں نہیں لے سکے اور ہم نے آن لائن سوئچ کیا۔ یہ بہت تسلی بخش ہے۔‘

انڈیا کے تعلیمی نظام میں دسویں اور بارہویں کے امتحان کے نتائج بنیادی طور پر ایک طالب علم کے تعلیمی راستے کا تعین کرتے ہیں۔

لیکن یہ کوئی آسان کام نہیں تھا۔

،تصویر کا ذریعہBharti Kalra

،تصویر کا کیپشن

دو مہینے سے زیادہ کے عرصے میں کالرا کے طالب علموں کو موبائل فونز ملتے رہے

کالرا کے سکول میں دو ہزار چھ سو طالب علم زیر تعلیم ہیں جو کم آمدنی والے خاندانوں سے آتے ہیں۔

جب انڈیا میں کووڈ پھیل گیا تو کالرا کو احساس ہوا کہ اب کلاسیں آن لائن ہوں گی، لیکن انھیں یہ بھی پتہ تھا کہ ان کا کوئی بھی طالب علم سمارٹ فون رکھنے کی حیثیت نہیں رکھتا۔ تو انھوں نے اپنے خاندان والوں اور دوستوں کا سہارا لیا اور حیرت انگیز طور پر 321 سمارٹ فونز اکٹھے کر لیے جو بعد میں انھوں نے اپنے سب سے زیادہ مستحق طلبہ کو دیے۔

ان کے خیال میں بچوں کو پڑھنے کے لیے سمارٹ فونز ملنے کی وجہ سے ان کے سکول کے اتنے اچھے نتائج آئے ہیں اور دہلی کی حکومت بھی اس سے متفق ہے۔ ستمبر میں ٹیچرز ڈے پر انھیں ان کی کاوشوں کے لیے ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔

سو انھیں یہ سوچ کیسے آئی اور انھوں نے اس پھر کیسے عمل کیا؟

ایک طالب علم کے خاندان میں موت

گذشتہ جولائی کو جب عالمی وبا کی وجہ سے ان کا سکول بند ہوا تو کالرا کو یہ کام سونپا گیا کہ وہ کلاس روم ٹیچنگ کو آن لائن ٹیچنگ میں تبدیل کرنے کی نگرانی کریں۔

،تصویر کا ذریعہBharti Kalra

،تصویر کا کیپشن

کالرا نے اپنے طالب علموں سے وعدہ لیا کہ وہ سمارٹ فونز کو کسی غلط کام کے لیے استعمال نہیں کریں گے

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

’ٹیچرز مجھے بتاتے تھے کہ 40 طالب علموں کی کلاس میں سے صرف 10 یا 12 ہی ان لائن کلاس پڑھ رہے ہیں۔‘

جب کالرا اس بات کا کوئی حل نکالنے کی کوشش میں تھیں کہ کس طرح طالب علموں کو ہمیشہ کے لیے سکول چھوڑنے سے روکا جائے تو ان کی ملاقات ایک بہت پریشان خاندان سے ہوئی۔

’میرے ایک طالب علم نے مجھے بتایا کہ وہ سمارٹ فون نہیں خرید سکتا کیونکہ پانچ دن پہلے ہی اس کے والد کا انتقال ہوا ہے۔‘

اس طالب علم کا نام روہن کمار تھا۔ اس کے والد نے خطرات کے باوجود وبائی امراض کے دوران سکیورٹی گارڈ کی حیثیت سے کام کیا کیونکہ وہ واحد کمانے والے تھے۔ بدقسمتی سے انھیں کووڈ ہو گیا اور بعد میں اس کی وجہ سے وہ چل بسے۔

انڈیا میں کووڈ کی وجہ سے کم از کم چار لاکھ تینتالیس ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں، حالانکہ آزاد ذرائع اموات کی تعداد اس سے کہیں زیادہ بتاتے ہیں، خاص طور پر اس موسم گرما کے دوران آنے والی دوسری لہر میں بہت سی اموات رپورٹ ہی نہیں کی گئیں۔

کالرا کہتی ہیں کہ ’میں اس رات سو ہی نہیں سکی۔‘

’میں سوچتی رہی کہ اس کی ماں خاندان کو کیسے سنبھال سکے گی؟ سو میں نے کچھ بنیادی اشیا جیسے چاول، دال اور کھانا پکانے کا تیل وغیرہ اکٹھی کیں اور انھیں دے دیں۔‘

روہن اپنی ماں اور چھوٹے بھائی کے ساتھ دو کمروں کے ایک چھوٹے سے گھر میں رہتا ہے۔ ایک استاد ہونے کے ناطے، کالرا کو احساس تھا کہ خاندان کی مشکلات کے باوجود روہن کے لیے اپنی تعلیم جاری رکھنا کتنا ضروری تھا۔

’میں نے 110 ڈالر کی لاگت کا ایک نیا فون خریدا اور اگلے ہی دن روہن کو دے دیا۔ وہ بہت خوش ہوا۔‘

اس کہ نتیجہ یہ ہوا کہ روہن دوبارہ پڑھنے لگا، نئے سمارٹ فون کی وجہ سے آن لائن کلاسز میں شرکت کرنے لگا۔ لیکن یہ صرف ایک آغاز تھا۔

معاشی مشکلات

بہت سے دوسرے طلبا جن کے والدین کم اجرت والی نوکریاں کرتے تھے، وہ بھی اپنی نوکریاں کھونے لگے کیونکہ بہت سے کاروبار وبا کی وجہ سے بند ہو رہے تھے۔

،تصویر کا ذریعہBharti Kalra

،تصویر کا کیپشن

جب کلاسز آن لائن سوئچ ہوئیں تو بہت سے طالب علم پریشان ہو گئے تھے کیونکہ ان کے پاس وہ ٹیکنالوجی نہیں تھی

’ہمارے طلبا ہمیں بتا رہے تھے کہ ان کے خاندان تو کھانا خریدنے کے متحمل نہیں۔ لہذا سمارٹ فون خریدنے کا ان کے پاس کوئی طریقہ نہیں تھا۔‘

کالرا نے اپنے دوسرے اساتذہ سے کہا کہ وہ ان طلبہ کی فہرست بنائیں جنھیں مدد کی ضرورت ہے۔ پھر انھوں نے سوشل میڈیا کا استعمال کیا اور اپنے خاندان اور دوستوں کو مدد کے لیے پکارا۔

کالرا نے تہیہ کیا کہ ہر طالب علم کو ایک ہی طرح کا فون ملے گا۔ لہذا انھوں نے لوگوں کو کہا کہ ایک خاص ماڈل خریدیں اور انھیں بھیجیں۔

خاندان اور دوستوں کی طرف سے مدد

کالرا کے خاندان اور دوستوں کی مدد سے صرف دو مہینوں کے اندر اندر ان سب طالب علموں کے پاس ایک فون تھا جنھیں فون کی ضرورت تھی۔

کالرا کہتی ہیں کہ ان کے کزن نے جو امریکہ میں رہتے ہیں، نمونیہ کی وجہ سے ہلاک ہونے والے اپنے ایک بیٹے کی یاد میں، انھیں 50 موبائل فونز عطیہ دیے۔

کالرا کے بھائی اور بھانجی نے مل کر 100 فونز اکٹھے کیے۔ ان کے ریٹائرڈ انکل نے دو دیے اور خاندان کے ایک اور فرد نے جو ایک این جی او چلاتے ہیں 60 فونز کا عطیہ دیا۔ اس کے علاوہ دوستوں نے بھی مدد کی۔

’کچھ طالب علموں کے پاس اتنے پیسے بھی نہیں تھے کہ وہ سم کارڈ اور ڈیٹا پیک خرید سکیں۔ سو میں نے اور دوسرے اساتذہ نے انھیں یہ چیزیں بھی لے کر دیں۔‘

لیکن ایسا نہیں تھا کہ ان فونز سے صرف سکول کے طالب علموں کو فائدہ ہوا تھا، ان سے ان کے بہن بھائیوں کا بھی فائدہ ہوا کیونکہ انھوں نے ان کے ساتھ بھی اپنے فونز شیئر کیے تھے۔

،تصویر کا ذریعہBharti Kalra

،تصویر کا کیپشن

کالرا کہتی ہیں کہ سمارٹ فونز کے بغیر شاید بہت سے طالب علم اپنے پڑھائی چھوڑ چکے ہوتے

’ایک مرتبہ جب ٹولز بچوں کے ہاتھ میں آ جائیں اور اگر وہ انھیں مثبت طریقے سے استعمال کریں تو پھر پیچھے مڑ کر دیکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بہت سے لوگوں نے مجھے بتایا کہ انھوں نے کلاس کے باہر بھی بہت کچھ سیکھا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

،ویڈیو کیپشن

عالمی وبا کیا ہوتی ہے؟

امتحان کے نتائج نے ان افراد کے شکوک و شبہات کو غلط ثابت کیا جنھیں خدشہ تھا کہ نوعمر بچوں کے فونز کا غلط استعمال کرنے کے امکانات زیادہ ہیں۔ جو لڑکا سکول میں اول آیا وہ بھی مفت فون وصول کرنے والوں میں شامل تھا۔

بڑے خواب

روہن کمار نے امتحانات میں 90 فیصد نمبر حاصل کر کے کامیابی حاصل کی ہے اور اب ان کی خواہش ہے کہ وہ انجینئرنگ کالج میں داخلہ لیں اور بالآخر ایک ایپ ڈویلپر بنیں۔

،تصویر کا ذریعہRohan Kumar

،تصویر کا کیپشن

کمار انجینیئرنگ کی تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں

کمار کہتے ہیں کہ ’میں نے انٹرنیٹ سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ میں اب حصص بازاروں، سوشل انفلوئنسر مارکیٹنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور بہت سی چیزوں کے بارے میں جانتا ہوں۔‘

کمار کے مالک مکان نے ان کے ساتھ اپنا وائی فائی پاس ورڈ شیئر کر رکھا ہے جس کی وجہ سے وہ گھنٹوں آن لائن ویڈیوز دیکھ سکتے ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ بروقت ملنے والے تحفے نے ان کی زندگی بدل کے رکھ دی ہے۔

’مجھے کئی مفت آن لائن کورسز بھی ملے جنھوں نے مجھے اپنے ہنر اور صلاحیتوں کو بہتر بنانے میں مدد دی۔ آن لائن لرننگ نے میرا نقطہ نظر بدل دیا ہے۔‘

اب ان کا ارادہ اپنا فون اپنے بھائی کو دینے کا ہے جو دسویں جماعت میں ہے۔

دریں اثنا کمار کی ماں کو ایک ریسیپشنسٹ کی نوکری مل گئی ہے۔ اس کے باوجود ان کی تنخواہ سے کمار کے انجینیئر بننے کا خواب پورا ہونا مشکل ہے۔

کالرا نے یہاں بھی اپنے ہونہار شاگرد کو اکیلا نہیں چھوڑا۔

،تصویر کا ذریعہBharti Kalra

،تصویر کا کیپشن

کالرا کو ان کے کام کی وجہ سے حکومت نے ایک خصوصی انعام دیا ہے

’میں نے اسے کہا ہے کہ وہ کسی اچھے کالج میں داخلے کے لیے کوشش کرتا رہے۔ میں ہمشہ اس کی فیس ادا کرنے کا کوئی طریقہ ڈھونڈ سکتی ہوں۔‘

ان کے شاگرد تو اپنی ٹیچر کی محنت اور لگن کے شکر گزار ہیں ہی، لیکن انھوں نے خود بھی اس تجربے سے بہت کچھ سیکھا ہے۔

’مجھے نہیں معلوم کہ آگے کیا چیلنجز آئیں گے۔ لیکن مجھے یہ ضرور پتہ ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے میں آسانی کے ساتھ وسائل اکٹھے کر سکوں گی۔ میں بس امید کرتی ہوں کہ اس کی ضرورت نہ پڑے۔‘