کشمیری نوجوانوں کی خودکشیاں: انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے نوجوانوں میں خودکشی کے بڑھتے رجحان کی وجہ کیا؟

  • ریاض مسرور
  • بی بی سی اردو سروس، سری نگر
خواتین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے جنوبی ضلع کولگام کے ایک دُور افتادہ گاوٴں میں رہنے والے یونیورسٹی طالب علم شعیب بشیر میر اُن سینکڑوں نوجوانوں میں شامل ہیں جنھوں نے گذشتہ دو سال کے دوران زندگی کا خاتمہ کرنے کی کوشش کی۔

ان میں سے اکثر کی جان بروقت ہسپتال پہنچانے پر بچا لی گئی لیکن شعیب ان درجنوں نوجوانوں میں سے ہیں جن کی موت ہو گئی۔

شعیب کے والد بشیر احمد میر محکمہ تعلیم میں استاد ہیں اور پچھلے دو سال سے اُن کی تنخواہ محض اس لیے روک دی گئی تھی کہ وہ ماضی میں مسلح عسکریت پسندوں کے ساتھ وابستگی کے الزام میں جیل جا چکے ہیں۔

والد کی تنخواہ معطل ہونے کے سبب شعیب نے کئی ہفتوں تک مزدوری کر کے دس ہزار روپے جمع کر کے اپنے والد کے بینک کھاتے میں اس لیے جمع کروائے تھے کہ یونیورسٹی کی فیس جمع کر پائیں۔

بشیر میر ندامت اور پچھتاوے کے لہجے میں کہتے ہیں کہ ’وہ غصہ ہو کر ماں کے پاس آیا اور پوچھا کہ پیسے کہاں گئے، ماں نے روتے ہوئے بولا کہ تنخواہ دو سال سے بند ہے، گھر میں کھانے کا سامان نہیں تھا۔‘

بشیر میر کے مطابق یہ سنتے ہی شعیب گھر سے جنگل کی طرف نکلا اور شام کو جب لوٹا تو اس پر غنودگی طاری تھی اور مشکل سے بات کر پا رہا تھا۔

ہسپتال پہنچاتے پہنچاتے شعیب کی موت ہوگئی۔ اُس نے میوہ درختوں کے لیے مخصوص سیال کھاد کی شیشی کی ساری مقدار پی لی تھی۔

شعیب نے اپنی جان لینے سے قبل ایک ویڈیو بنائی تھی جس میں انھوں نے کہا تھا کہ اُن کے والد کی تنخواہ روک دی گئی ہے اور وہ پڑھائی کرنا چاہتے تھے لیکن وسائل نہ ہونے کی وجہ سے وہ جان دے رہے ہیں تاکہ حکومت ان کے والد کی تنخواہ بحال کرے اور ان کے بھائی کی پڑھائی مکمل ہو سکے۔

شعیب کی موت کے بعد یہ ویڈیو وائرل ہو گئی اور حکومت نے فوراً بشیر میر کی تنخواہ بحال کر دی۔

،تصویر کا کیپشن

بشیر احمد میر کی تنخواہ اس لیے روک دی گئی تھی کہ وہ ماضی میں مسلح عسکریت پسندوں کے ساتھ وابستگی کے الزام میں جیل جا چکے ہیں

بشیر کہتے ہیں کہ ’کل ملا کر چھ لاکھ روپے ملے لیکن میں نے بینک سے تین لاکھ اور لوگوں سے پانچ لاکھ روپے قرض اُٹھائے تھے۔ بیوی کا علاج، بیٹی کا خرچہ اور دوسرے اخراجات کے لیے سرمایہ چاہیے تھا۔ میں نے ساری تنخواہ قرض داروں کو دے دی اور پھر بھی مقروض ہوں۔‘

گذشتہ برس سے کشمیر کے تقریباً سبھی علاقوں سے خود کشیوں کی خبریں آ رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ غربت، رشتوں میں تناوٴ، خوف اور بے روزگاری اس کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے سب سے بڑے طبی مرکز شری مہاراجہ ہری سنگھ ہسپتال کے میڈیکل سپرینٹنڈینٹ ڈاکٹر کنول جیت سنگھ نے گذشتہ برس اپریل سے اب تک ہسپتال میں خودکشی کے معاملوں سے متعلق اعداد و شمار کا حوالہ دے کر بی بی سی کو بتایا کہ گذشتہ 18 ماہ کے دوران ہسپتال میں خودکشی کے 795 معاملے درج ہوئے جن میں سے 42 کی موت ہو گئی۔

ہسپتال میں موجود ریکارڈ کے مطابق گذشتہ برس اپریل سے اس سال مارچ تک 515 ایسے واقعات درج ہوئے جن میں 343 خواتین تھیں۔

خود کشی کے واقعات یوں تو سبھی علاقوں میں رونما ہوئے تاہم سرینگر میں آئے روز کوئی نہ کوئی نوجوان لڑکا یا لڑکی دریا میں کُود جاتے تھے۔

،ویڈیو کیپشن

اگست 2019 میں انڈیا کی طرف سے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد حالات مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں۔

ایک اور ویڈیو بھی وائرل ہوئی تھی جس میں ایک لڑکی لال چوک میں پُل کے اوپر سے دریائے جہلم میں کودنا چاہتی تھیں لیکن موقع پر موجود پولیس اہلکاروں نے انھیں ایسا کرنے سے روک دیا۔

پرانے سرینگر کے ایک نوجوان ڈاکٹر کو اپنے کمرے میں پنکھے سے لٹکا ہوا پایا گیا اور کئی نوجوانوں کی لاشیں مختلف دریاوٴں سے برآمد کی گئیں۔

ذہنی امراض کے لیے وادی کے واحد ہسپتال میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ پچھلے 19 سال کے دوران 24 ہزار سے زیادہ افراد نے خود کشی کی کوشش کی جن میں سے تین ہزار سے زیادہ افراد کی موت ہو گئی۔

اس سال بہار کی آمد کے ساتھ ہی جب کشمیر میں خودکشیوں کا سلسلہ شدت اختیار کر گیا تو مقامی ڈاکٹروں نے سوشل میڈیا پر ایک مہم چلائی جس میں خود کشی کی کوششوں کی ویڈیوز کو بھی خود کشی کی ایک وجہ قرار دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

خود کشی کے واقعات یوں تو سبھی علاقوں میں رونما ہوئے ہیں تاہم سرینگر میں آئے روز کوئی نہ کوئی نوجوان لڑکا یا لڑکی دریا میں کُود جاتے ہیں

ذہنی صحت کے لیے مخصوص ہسپتال کے لیکچرار ڈاکٹر جُنید نبی کہتے ہیں کہ ’دوسروں کی نقالی میں بھی لوگ خودکشی کرتے ہیں۔ ہم نے میڈیا سے بھی اپیل کی ہے کہ خودکشی کی خبروں کو بے احتیاطی کے ساتھ رپورٹ نہ کریں۔ اسے ہم ’کاپی کیٹ سوسائیڈ‘ کہتے ہیں۔‘

ڈاکٹر جنید کہتے ہیں ماحول میں غیریقینی اور منشیات کی آسان دستیابی سے بھی خود کشی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

کشمیر کے معروف نیورو ڈاکٹر شیخ شعیب کہتے ہیں کہ ’کشمیر کا کوئی شہری ایسا نہیں جس نے اپنے کسی رشتہ دار کو تشدد کی کسی واردات میں نہ کھویا ہو۔ یہاں خوف بھی ہے اور صدمہ بھی اور اب معاشی بحران بھی ہے۔ ایسے میں جب بے روزگاری کا مسئلہ بھی شدید ہو جائے تو لوگ اُمید کھو بیٹھتے ہیں۔‘

واضح رہے کہ سنہ 2016 میں فرانسیسی تنظیم ’ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز‘ نے سرینگر میں واقع ذہنی صحت سے متعلق ہسپتال کے اشتراک سے ایک سروے کیا اور نتیجہ اخذ کیا کہ وادی میں فی الوقت 45 فیصد آبادی ذہنی تناوٴ کا شکار ہے۔

واضح رہے کہ پانچ اگست 2019 کو جب کشمیر کی نیم خودمختاری کے خاتمے کا اعلان ہوا تو کشمیر میں مسائل کا نیا دور چل پڑا۔

اس اعلان کے خلاف عوامی مزاحمت کو روکنے کے لیے کئی ہفتوں تک کشمیر میں بغیر اعلان کے کرفیو نافذ رہا۔ نہ صرف علیحدگی پسند بلکہ ہند نواز سیاسی رہنماوں اور اُن کے سینکڑوں کارکنوں کو بھی گرفتار کیا گیا۔ طویل مدت تک انٹرنیٹ اور فون رابطوں کے سبھی ذرائع معطل رکھے گئے۔

،تصویر کا کیپشن

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کا اثر لوگوں کی ذہنی صحت پر بھی پڑ رہا ہے

یہ صورتحال ابھی جاری ہی تھی کہ کورونا کرفیو کا نیا سلسلہ چل پڑا۔ فی الوقت تجارتی حلقے بھی پریشان ہیں اور طالب علم دو سال سے تعلیمی ادارے بند رہنے کی وجہ سے ذہنی دباوٴ کا شکار ہیں۔

اقتصادی امور کے ماہر اور معروف کالم نگار اعجاز ایوب کے مطابق انڈیا میں مہنگائی کی شرح 4.35 ہے جبکہ کشمیر میں یہ اب مزید بڑھ کر سات فیصد ہو گئی ہے۔

ان کا کہنا ہے پورے ہندوستان میں کشمیر واحد جگہ ہے جہاں بے روزگاری کی شرح 21 فیصد ہے حالانکہ حکومت ہند نے نیم خودمختاری کو کشمیر کی تعمیر و ترقی میں بڑی روکاوٹ قرار دیا تھا اور وعدہ کیا تھا کہ ’نئے کشمیر‘ میں امن اور خوشحالی ہو گی۔

گذشتہ دو سال سے وادی کے مضافات اور دیہات میں فوج، پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں کے آپریشن جاری ہیں اور آئے روز مسلح عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا جاتا ہے اور دوسری جانب نامعلوم مسلح افراد کے ہاتھ شہریوں کی ہلاکتوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

،تصویر کا کیپشن

شعیب نے اپنی جان لینے سے قبل ایک ویڈیو بنائی تھی جس میں انھوں نے کہا تھا کہ اُن کے والد کی تنخواہ روک دی گئی ہے اور وہ پڑھائی کرنا چاہتے تھے لیکن وسائل نہ ہونے کی وجہ سے وہ جان دے رہے ہیں

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کا اثر لوگوں کی ذہنی صحت پر بھی پڑ رہا ہے۔ کشمیر کے سائیکیٹری انسٹیٹوٹ کے پروفیسر ارشد حسین کہتے ہیں کہ ’سنہ 1990 سے قبل کشمیر میں ہر دو لاکھ افراد میں سے صرف ایک شخص خودکشی کرتا تھا لیکن فی الوقت آبادی میں سے فی ایک لاکھ لوگوں میں 13 افراد خودکشی کی کوشش کرتے ہیں۔‘

صورتحال یوں تو سنگین معلوم ہوتی ہے لیکن کولگام کے بشیر احمد کہتے ہیں کہ بچوں کے ساتھ جذباتی اور بے تکلف قربت اس بحران کے خلاف اہم اقدام ہو سکتا ہے۔

اُن کو پچھتاوا ہے کہ وہ اپنے بیٹے کے ساتھ زیادہ باتیں نہیں کرتے تھے۔

’میرا بیٹا تو چلا گیا لیکن میں والدین سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنے بچوں کے دوست بنیں، کبھی کبھی بچے اندر ہی اندر تناوٴ میں ہوتے ہیں اور جب ان سے بات نہ کی جائے تو وہ بے بس ہو کر خودکشی کر بیٹھتے ہیں۔‘