افغانستان میں طالبان: افغان موٹر مکینک جو امریکہ، یورپ جانے کی آس میں خاندان سمیت پاکستان سے افغانستان پہنچا اور پھنس کر رہ گیا

  • عزیز اللہ خان
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
افغانستان، طورخم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

فائل فوٹو

’یہ طورخم سرحد کب کھلے گی؟ میں تو یہاں افغانستان آ کر پھنس گیا ہوں، واپس پاکستان نہیں جا سکتا، کوشش کریں کسی طریقے سے میں واپس پاکستان پہنچ جاؤں۔‘

یہ الفاظ ہیں پشاور سے افغانستان جانے والے اس افغان موٹر مکینک کے ہیں جو ان دنوں کابل میں پھنسے ہوئے ہیں۔

داؤد (فرضی نام) ان دنوں سخت پریشان ہیں اور ہر دوسرے روز فون کر کے صرف یہی پوچھتے ہیں کہ طورخم سرحد کب کھلے گی اور وہ کب پاکستان واپس پہنچ سکیں گے؟

لیکن میرے پاس اس کا جواب نہیں ہوتا اور میں صرف یہی کہتا ہوں کہ فی الحال سرحد بند ہے اور سختی بہت زیادہ ہے۔ اب حکومت کی پالیسی پر منحصر ہے کہ کیا فیصلہ ہوتا ہے۔

کابل میں اپنے گھرانے کے آٹھ افراد کے ساتھ موجود داؤد نے ٹیلیفون پر مجھے بتایا کہ وہ بڑی مشکل میں ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اگرچہ وہ افغان ہیں لیکن ان کی اور ان کے بچوں کی پیدائش تو پاکستان میں ہوئی ہے۔

داؤد نے بتایا کہ وہ ہر دو روز بعد کابل سے جلال آباد اور پھر طور خم تک کا سفر اس امید پر کرتے ہیں کہ شاید سرحد کے کھلنے کا علم ہو سکے اور وہ واپس پاکستان جا سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ سرحد پر جا کر لوگوں کی منتیں بھی کرتے ہیں لیکن ان کی کہیں سنوائی نہیں ہو رہی۔

داؤد نے بتایا کہ افغانستان میں بے روزگاری ہے اور فی الحال وہ ایک رشتہ دار کے ساتھ رہ رہے ہیں۔

’یہاں مہنگائی بھی بہت ہے، کچھ سمجھ نہیں آ رہا، کوئی کام بھی نہیں مل رہا۔ کوشش کر رہا ہوں کہ کسی طریقے سے واپس پاکستان پہنچ جاؤں۔‘

واضح رہے کہ داؤد اپنے اہلخانہ کے ساتھ اس وقت افغانستان پہنچے تھے جب طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد بڑی تعداد میں لوگ ملک چھوڑنے کے لیے ایئرپورٹ کی جانب بھاگ رہے تھے۔

پاکستان سے افغانستان پہنچنے والے داؤد اور افغانستان سے بچ نکلنے والوں میں جو ایک بات مشترک تھی وہ یہ کہ ان سب کی منزل ایک تھی۔۔۔ جی ہاں یہ سب لوگ یورپ یا امریکہ جانا چاہتے تھے۔

داؤد کو پشاور میں جب اس صورتحال کا علم ہوا کہ لوگ کابل سے یورپ جا رہے ہیں تو وہ افغانستان کی جانب چل پڑے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انھوں نے گھر جانے کی زحمت بھی نہیں کی، اپنی ورکشاپ سے ہی سارے انتظام کیے، کچھ رقم ادھار لی، گھر میں پیغام بھجوایا کے فوری طور پر سامان لے کر بس سٹینڈ پر پہنچیں اور پھر وہ اپنے بچوں سمیت افغانستان پہنچ گئے۔

داؤد اس یقین کے ساتھ افغانستان گئے تھے کہ بس اب انھیں منزل مل گئی ہے اور اسی اس لیے انھوں نے اپنی ورکشاپ بھی شاگردوں کے حوالے کر دی۔

لیکن داؤد یورپ نہیں جا سکے اور کئی دن ایئرپورٹ کے باہر انتظار میں کھڑے رہے کہ شاید ان کی قسمت بھی جاگ جائے اور وہ بھی دیگر افغانوں کے ساتھ یورپ یا امریکہ پہنچ جائیں۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان افغان سرحد پر کیا ہو رہا ہے؟

افغانستان میں طالبان کے آنے کے بعد سے پاک افغان سرحد بند ہے اور صرف تجارت کے لیے گاڑیاں آ جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ پاکستانی جو افغانستان میں موجود ہیں وہ آ سکتے ہیں اور وہ افغان جو پاکستان میں موجود ہیں وہ افغانستان جا سکتے ہیں۔

چند روز پہلے جب پشاور سے کوئی 48 کلومیٹر دور طور خم سرحد پر جانا ہوا تو اس وقت افغانستان کی جانب بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔ سرحد پر قائم گیٹ پر افغانستان کی جانب لمبے بالوں اور ترچھی ٹوپی پہنے طالب موجود تھے۔

سرحد پر طالبان کی کوئی زیادہ تعداد نہیں تھی۔ وہاں ٹرک بھی کھڑے تھے اور کسی کو آسانی سے سرحد عبور کرنے کی اجازت نہیں تھی۔

سرحد پر پاکستان کی جانب موجود سکیورٹی اہلکار دستاویز دیکھنے کے بعد ہی کسی کو آنے کی اجازت دیتے ہیں۔ سرحد پر پاکستان کی جانب مختلف اداروں کے اہلکار بھی موجود رہتے ہیں جو آنے جانے والے افراد اور گاڑیوں کی انٹری کرتے ہیں اور ایسے بھی ہیں جو صرف صورتحال کی نگرانی کرتے رہتے ہیں۔

افغانستان میں بڑی تعداد میں لوگ طبی سہولیات کے لیے پاکستان پر انحصار کرتے ہیں اور عام طور پر بڑی تعداد میں وہ مریض سرحد پر موجود رہتے ہیں جنھیں فوری طور پر علاج کی ضررت ہوتی ہے۔

پشاور کے ہسپتالوں میں افغان مریضوں کی بڑی تعداد موجود رہتی ہے۔ ان میں ایسے مریض آتے ہیں جو نجی ہسپتالوں میں اپنا علاج کراتے ہیں جبکہ بڑی تعداد میں افغان مریض پشاور کے سرکاری ہسپتالوں کو ترجیح دیتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بیمار بہن اور بھائی کے ساتھ کیا ہوا؟

سرحد پر افغانستان کی جانب بڑی تعداد میں ایسے لوگوں کی ہے جو بیمار ہیں اور علاج کے لیے پاکستان آنا چاہتے ہیں۔ ان میں ایسی خواتین بھی موجود تھیں جو ویل چیئر پر تھیں اور وہ اپنے رشتہ داروں کے رحم و کرم پر تھیں کہ کسی طرح انھیں پاکستان میں ہسپتال پہنچا سکیں۔

چند روز پہلے افغانستان کے صوبہ ننگر ہار سے ایک بھائی اپنی بیمار بہن کو طورخم کی سرحد پر لایا تاکہ حکام کی منت سماجت کر کے کسی طرح بہن کو پشاور میں ہسپتال پہنچا سکے۔

سوشل میڈیا پر شیئر ہونے والی خبر کے مطابق کوشش کے باوجود جب کامیابی حاصل نہیں ہوئی تو کسی نے انھیں مشورہ دیا کہ وہ غیر معروف راستے یعنی پہاڑی راستوں پر خفیہ مقامات سے جانے کی کوشش کریں۔ اس شخص نے اپنی بہن کی جان کی خاطر یہ خطرہ مول لیا اور پہاڑی راستے پر روانہ ہو گئے۔

ان پہاڑوں پر اچانک اس شخص کا پاؤں پھسلا اور وہ پہاڑ سے گر کر ہلاک ہو گئے۔ بہن اس وقت چلائی لیکن وہاں کوئی نہیں تھا جو ان کی مدد کر سکتا اور پھر بہن بھی وہاں فوت ہو گئیں۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ ان کی لاشیں دو روز تک وہاں پڑی رہیں، پھر مقامی لوگ پہنچے اور میتیں لے کر آئے اور امانتاً ان کی تدفین کی دی۔ چند روز بعد ننگر ہار سے ان دونوں بہن بھائیوں کے رشتہ دار وہاں پہنچے اور میتیں لے کر چلے گئے۔

افغانستان کے چینل طلوع نیوز کو ان کے والد پیر گل شریفی نے بتایا کہ ان کی بیٹی دو ماہ سے سخت بیمار تھیں۔

ضلع کرم سے مقامی لوگوں نے بتایا کہ جس راستے سے بہن بھائی آ رہے تھے یہ افغانستان اور ضلع کرم کے درمیان کوہ سفید کا راستہ ہے، جو راستہ برف سے ڈھکا رہتا ہے اور یہاں شدید سردی ہوتی ہے۔

صرف یہی نہیں اس طرح کے واقعات پکتیکا اور جنوبی وزیرستان کے درمیان انگور اڈا کے قریب بھی غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے والے افراد کے ساتھ پیش آ چکے ہیں۔

افغانستان کے صوبہ پکتیکا سے مقامی لوگوں نے بتایا کہ چند روز پہلے پاکستان سے کچھ لوگ تین میتیں افغانستان لائے تھے جن کی پاکستان میں طبی موت واقع ہوئی تھی لیکن ان کی تدفین کے لیے انھیں افغانستان کے شہر قندوز لے جایا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ تدفین کے عمل سے فارغ ہونے کے بعد جب وہ پاکستان جانے کے لیے پھر سرحد پر پہنچے تو انھیں جانے کی اجازت نہیں دی گئی اور اب وہ سرحد کے قریب ایک ہوٹل میں مقیم ہیں اور اس انتظار میں ہیں کہ کب سرحد کھلے گی۔