روسی تیل اور انڈیا پاکستان: انڈیا میں تیل کی قیمت میں کمی کی وجہ روسی تیل ہے؟ عمران خان کے سستا روسی تیل خریدنے کے دعوے کی حقیقت کیا ہے؟

  • مرزا اے بی بیگ
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی
پیٹرول

،تصویر کا ذریعہEPA/BILAWAL ARBAB

پاکستان میں جمعرات کو ملک کے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی طرف سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 30 روپے کے اضافے کے اعلان کے بعد شدید رد عمل دیکھنے میں آیا۔ رد عمل میں مختلف طبقات کی طرف سے بہت سے سوالات اٹھائے گئے جن میں انڈیا میں تیل کی قیمتوں سے موازنہ بھی شامل ہے اور یہ کہ وہاں حکومت کیسے پٹرول کی قیمت کر سکی اور انڈیا کی روس کے ساتھ تیل کی خرید کی کیا پالیسی ہے اور پاکستان ایسی پالیسی کیوں نہیں بنا سکتا؟ بی بی سی اردو نے انھی سوالات کے گرد بائیس مئی کو مندرجہ ذیل مضمون شائع کیا تھا جو اس تازہ بحث کے پیش نظر دوبارہ ویب سائیٹ پر پبلش کیا جا رہا ہے۔

انڈیا کی جانب سے روس سے سستا تیل خریدنے اور ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تقریباً ساڑھے نو روپے تک کمی کرنے کے اعلان نے انڈیا کے ساتھ ساتھ پاکستان کے سوشل میڈیا پر بھی ایک بحث کو جنم دے دیا ہے۔

انڈیا میں گذشتہ روز وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے یکے بعد دیگرے متعدد ٹویٹس کے ذریعے بتایا کہ حکومت 22 مئی سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کے ساتھ دوسری چیزوں میں بھی چھوٹ دینے جا رہی ہے۔

ان کی ٹویٹ کے مطابق مرکزی حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی ایکسائز ڈیوٹی میں بالترتیب آٹھ اور چھ روپے فی لیٹر کی کمی کا اعلان کیا ہے۔ اس کے سبب پیٹرول کی قیمت میں کم از کم نو روپے پچاس پیسے فی لیٹر کی کمی واقع ہوگی جبکہ ڈیزل کی قیمت میں یہ سات روپے کمی ہو گی۔

انڈین وزیر خزانہ نے ٹوئٹر پر یہ اعلان کرتے ہوئے ریاستوں سے کہا کہ وہ اس کی پیروی کریں۔ انھوں نے بطور خاص ان ریاستوں سے اپیل کی جنھوں نے گذشتہ سال نومبر کے مہینے میں اعلان کردہ چھوٹ کے بعد کمی نہیں کی تھی۔

واضح رہے کہ نومبر میں حکومت نے قیمتوں میں لگاتار اضافے کے بعد پانچ روپے کی کمی کا اعلان کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انڈیا میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت کا انحصار مرکزی حکومت کے ٹیکسوں کے علاوہ ریاستی حکومتوں کی جانب سے عائد ٹیکسوں کی بنیاد پر ہوتا ہے۔

خیال رہے کہ رواں سال مارچ اور اپریل کے درمیان تیل کی قیمتوں میں 14 مرتبہ اضافہ دیکھا گیا جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں مجموعی طور پر دس روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ آخری مرتبہ چھ اپریل کو 80 پیسے فی لیٹر اضافہ ہوا تھا۔

نرملا سیتا رمن نے اس اعلان کے ساتھ لکھا کہ اس چھوٹ کی وجہ سے حکومت کو ایک لاکھ کروڑ روپے کے محصول کا خسارہ ہو گا۔ لوگ اس پر بھی بات کر رہے ہیں۔

کانگریس اور حزب اختلاف نے اسے حکومت کا سیاسی کھیل قرار دیا ہے۔

کانگریس پارٹی کے ترجمان رندیپ سنگھ سورجے والا نے متواتر کئی ٹویٹس میں اس کی وضاحت کی۔ انھوں نے لکھا: 'ڈیئر ایف ایم، عوام کو کتنا بیوقوف بنائیں گی؟

'آج پیٹرول کی قیمت 105.41 روپے فی لیٹر ہے۔ آج آپ نے پیٹرول کی قیمت 9.50 روپے کم کر دی۔ صرف 60 دن پہلے 21 مارچ 2022 کو پیٹرول کی قیمت 95.41 روپے فی لیٹر تھی۔ 60 دنوں میں آپ نے پہلے پیٹرول کی قیمت میں 10 روپے فی لیٹر اضافہ کیا اور اب اسے 9.50 روپے فی لیٹر تک کم کیا۔‘

دوسری ٹویٹ میں یہی بات انھوں نے ڈیزل کے بارے میں لکھی: ’ڈیئر ایف ایم، عوام کو کتنا بیوقوف بنائیں گی؟ ڈیزل کی قیمت آج 96.67 روپے فی لیٹر ہے۔ آج آپ نے ڈیزل کی قیمت میں سات روپے کی کمی کی ہے۔ صرف 60 دن پہلے 21 مارچ 2022 کو ڈیزل کی قیمت 86.67 روپے فی لیٹر تھی۔

'60 دنوں میں آپ نے پہلے ڈیزل کی قیمت میں 10 روپے فی لیٹر اضافہ کیا اور اب اسے سات روپے فی لیٹر کم کیا۔ اس کا کیا فائدہ ہے؟‘

اسی طرح تیسری ٹویٹ میں انھوں نے لکھا کہ قوم کو دھوکہ دینے کے لیے اعداد و شمار کی شعبدہ بازی کی ضرورت نہیں۔ قوم کو ’جملوں‘ کی ضرورت نہیں، قوم کو پیٹرول اور ڈیزل پر ایکسائز واپس لینے کی ضرورت ہے جو کہ مئی 2014 تک پیٹرول پر 9.48 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 3.56 روپے فی لیٹر تھی۔‘

انھوں نے مزید لکھا کہ ’دھوکہ دینا بند کریں، ریلیف دینے کی ہمت دکھائیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images

عمران خان کی انڈین حکومت کی تعریف اور پاکستانی حکومت پر تنقید

انڈیا کی جانب سے روس سے سستا تیل خرید کر عوام کو ریلیف دینے پر پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان نے ایک ٹویٹ کے ذریعے موجودہ حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے انڈیا کی تعریف کی ہے۔

انھوں نے انڈیا میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حکومت کی جانب سے کی جانے والی کمی کی ایک خبر کو ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’کواڈ کا حصہ ہونے کے باوجود انڈیا نے امریکی دباؤ برداشت کیا اور اپنے عوام کو سہولت فراہم کرنے کے لیے روس سے سستا تیل خریدا۔ ایک آزاد خارجہ پالیسی کے ذریعے ہماری حکومت بھی اسی کے حصول کے لیے کوشاں تھی۔‘

کواڈ چار ممالک کی تنظیم ہے جس میں امریکہ، آسٹریلیا، جاپان اور انڈیا شامل ہیں۔

اسی کے ساتھ ایک دوسری ٹویٹ میں انھوں نے لکھا: ’ہماری حکومت کے لیے پاکستان کا مفاد مقدم تھا مگر بدقسمتی سے مقامی میر جعفر و میر صادق بیرونی دباؤ کے تحت حکومت کی تبدیلی کی سازش کے مہرے بن گئے اور اب معیشت کو تباہی کے گڑھے میں پھینک کر مارے مارے پھر رہے ہیں۔‘

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان نے اتوار کو پریس کانفرنس کے دوران ایک بار پھر موجودہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’ہماری حکومت نے روس سے تین فیصد کم قیمت پر تیل خریدنے پر مذاکرات شروع کر دیے تھے، لیکن ہماری حکومت کو سازش کے تحت ہٹا دیا گیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’انڈیا کی طرح ہم بھی روس سے سستا تیل خرید کر اپنی عوام کو ریلیف دینا چاہتے تھے۔‘

واضح رہے کہ پاکستان اس وقت تیل کی قیمتوں کے مسئلے سے دوچار ہے۔ سابقہ حکومت نے فروری کے آخر میں پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں کو نئے مالی سال کے بجٹ تک منجمد کرنے کا اعلان کیا تھا جسے نئی مخلوط حکومت کی جانب سے ابھی تک برقرار رکھا گیا ہے، تاہم قیمتوں کو نہ بڑھانے کی وجہ سے حکومت کو اربوں روپے کی سبسڈی دینی پڑ رہی ہے جس کا ملک کے خزانے پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔

اس سے قبل سابق وزیر توانائی حماد اظہر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ روس 30 فیصد کم نرخوں پر تیل کی سپلائی کے لیے خریداروں کی تلاش میں ہے اور پاکستان کیونکہ تیل کی مصنوعات کا ایک بڑا درآمد کنندہ ہے اس لیے روس پاکستان کو بھی تیل بیچنا چاہتا ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ اپریل میں پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب کر کے ان کی حکومت کو گرایا گیا تھا۔

عمران خان کے بیان پر پاکستان کے سوشل میڈیا صارفین نے روس سے خام تیل خریدنے اور اس کو ریفائن (صفائی) کرنے سے متعلق محتلف سوالات اور آرا رکھتے ہیں۔ خرم قریشی نامی ایک صارف نے عمران خان کی ٹویٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے پاس روس سے ملنے والے خام تیل کو ریفائن کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔

،تصویر کا ذریعہ@Qureshik74

جبکہ روشن نامی صارف نے اس پر سوال اٹھایا کہ ’پاکستان کے پاس روس سے تیل خریدنے کے پیسے کہاں ہیں، سعودی عرب تو پاکستان کو موخر ادائیگی کی شرائط پر تیل دیتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہ@RoshiTM

جبکہ عمران خان کے بیان کے حامی صارف نے ٹویٹ کرتے ہوئے سوال کیا کہ ’جب پاکستان کے ارد گرد ذہنی غلامی والے افراد تو ملک امریکہ، یورپ، مشرق وسطیٰ کے احکامات پر عمل کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتا۔ سوال یہ ہونا چاہیے کہ پچھلے 30/40 برسوں میں ہمارے پاس اتنی سہولتیں کیوں نہیں ہیں؟ ہمارے دوسرے ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات اور تجارت کیوں نہیں ہے؟‘

،تصویر کا ذریعہ@RASH72

واضح رہے کہ پاکستان کو اس وقت انتہائی سنگین معاشی حالات کا سامنا ہے اور پاکستان تحریک انصاف کی سابق حکومت کی جانب ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر دی جانے والی سبسڈی کے باعث ملک کو خسارہ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ جہاں ایک جانب زرمبادلہ کی ذخائر میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے وہیں اس سبسڈی سے قومی خزانے پر بھی بوجھ بڑھ رہا ہے۔

کیا انڈیا میں تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سستا روسی تیل ہے؟

پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کے بیان اور کانگریس کے الزامات کے حوالے سے معروف ماہر معاشیات اور دہلی میں قائم جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سابق استاد پروفیسر ارون کمار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا روس سے بہت کم مقدار میں تیل لیتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ انڈیا روس سے ایک یا دو دن کی کھپت کے لائق ہی تیل خریدتا ہے اس لیے حالیہ تیل کی قیمت میں کمی کی بنیاد روس سے خریدا جانے والا سستا تیل نہیں ہو سکتا۔

اس کمی کی دوسری کیا وجوہات ہو سکتی ہیں کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ یہ اس کے پس پشت سیاسی اور معاشی دونوں وجوہات کار فرما ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’مہنگائی اس قدر بڑھ رہی ہے کہ لوگ اس پر بات کرنے لگے ہیں اور اس کے لیے حکومت کو کچھ ایسا کرنا تھا کہ جس سے لگے کہ حکومت عوام کے لیے کچھ کر رہی ہے۔ تو یہ ایک طرح سے سیاسی قدم بھی ہے اور معاشی بھی ہے۔‘

پھر جب ان سے پوچھا گیا کہ کانگریس جو الزامات لگاتی ہے کہ ان کے دور حکومت میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمت آج سے کہیں زیادہ تھی لیکن ملک میں وہ کہیں سستی قیمتوں پر پیٹرول اور ڈیزل فراہم کرا رہے تھے۔ اس میں کس حد تک سچائی ہے؟

،تصویر کا ذریعہTwitter

،تصویر کا کیپشن

سورجے والا

تو انھوں نے کہا کہ ’یہ بات تو سچ ہے۔ اور اس کی وجہ کانگریس حکومت کی جانب سے کم ٹیکس لگایا جانا تھا۔ لیکن عالمی وبا کے زمانے میں جب دنیا بھر میں تیل کی قیمت میں کمی ہو رہی تھی تو حکومت نے تیل کی قیمت میں بظاہر اس وجہ سے کمی نہیں کی کہ ملک کے محصول میں کمی واقع ہو جائے گی۔ اس کے برعکس قیمتوں میں اضافہ ہوتا رہا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ حکومت اگر ایسائز ڈیوٹی کو مزید کم کرے تو ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں مزید دس پندرہ روپے کم ہو سکتی ہے۔

سوشل میڈیا پر بحث

عمران خان کی ٹویٹس اور ان کے بیان کے بعد جہاں پاکستان کے سوشل میں میڈیا میں اس پر مباحثہ جاری ہے وہیں انڈیا میں بھی حکومت کے حامی اسے حکومت کی کامیابی کے طور پر بیان کر رہے ہیں۔

این سی پی کے سلیم سارنگ نے لکھا: ’بی جے پی کے کھیل کا منصوبہ۔ اترپردیش کے انتخابات کے بعد پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کیا۔ اب گجرات کے انتخابات نزدیک آ رہے ہیں تو اس میں جزوی کمی کی گئی ہے۔ گجرات کے انتخابات کے بعد پھر سے بڑے اضافے کے لیے تیار رہیں۔ بس یہی کھیل چل رہا ہے۔‘

بہت سے صارفین لکھ رہے ہیں کہ ’انڈیا کو لوٹنے کی کرونولوجی ہے کہ پہلے پیٹرول کی قیمت دس روپے بڑھائیں۔ ہزاروں کروڑ روپے ٹیکس میں لوٹیں۔ دو مہینے بعد تیل کی قیمت دس روپے کم کر دیں۔ اور اسے ماسٹر سٹروک بتا کر سہرا اپنے سر لیں۔‘

بہر حال بہت سے لوگ حکومت کے اس اقدام کی پذیرائی کر رہے ہیں اور امید کر رہے ہیں کہ اس سے مہنگائی پر لگام لگے گی۔