دیوتاؤں کی تصاویر والے اخبار میں چکن دینے پر مسلمان ریستوران مالک پر توہین مذہب کا مقدمہ

  • شکیل اختر
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
مہک ریسٹورنٹ

،تصویر کا ذریعہKKP

انڈیا کی ریاست اُتر پردیش کی پولیس نے ’سمبھل‘ نامی قصبے میں ایک ریسٹورنٹ کے مسلمان مالک محمد طالب کو توہین مذہب کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ اُن پر الزام ہے کہ انھوں نے اپنے ریسٹورنٹ میں بننے والا چکن فرائی جس اخبار میں پیک کر کے گاہک کو دیا تھا اُس پر ہندو دیوتاؤں کی تصاویر چھپی ہوئی تھیں۔

قصبہ سمبھل کے شیر خان علاقے میں واقع ’مہک ریسٹورنٹ‘ فرائیڈ چکن اور بریانی کے لیے مقامی لوگوں میں کافی مقبول ہے۔ دیگر بہت سے ریستورانوں کی طرح یہاں بھی گھر لے جانے والا کھانا ردی اخباروں میں پیک کر کے دیا جاتا ہے۔

مگر یہ صورتحال اس وقت بدلی جب ایک گاہک نے سوشل میڈیا صارفین کی توجہ دلائی کہ جن اخباروں میں کھانا پیک کر کے دیا جا رہا ہے اُس پر ہندو دیوی، دیوتاؤں کی تصاویر چھپی ہوئی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہKKP

اس گاہک نے اخبار کے متعلقہ صفحے اور اس میں چکن پیک کرتے ہوئے فوٹو بنائی اور اسے سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دیا۔

ایک ہندو تنظیم کے مقامی رہنما کیلاش گپتا نے دکان کے مالک کے خلاف پولیس میں درخواست دی اور الزام عائد کیا کہ محمد طالب نے دانستہ طور پر دیوی دیوتاؤں کی تصویر والے اخبار میں نان ویج پیک کر کے ہندوؤں کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا ہے۔

درخواست میں لکھا گیا کہ ’سمبھل کے مہک نامی ریسٹو رنٹ میں مرغی کا گوشت ملتا ہے۔ اسی ریسٹورنٹ سے ایسے سو، ڈیڑھ سو اخبار برآمد ہوئے جن میں دیوی دیوتاؤں کی تصویریں چھپی ہوئی تھیں۔ مہک ریسورنٹ کا مالک ان اخباروں میں مرغی کا گوشت پیک کر کے گاہکوں کو دیتا تھا۔ ہوٹل مالک نے ہندوؤں کے مذہبی جذبات کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے۔ ہم انتظامیہ سے درخواست کرتے ہیں کہ ہوٹل مالک کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔‘

یہ بھی پڑھیے

محمد طالب کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا ہے اور ان کی گرفتاری کے بعد اس علاقے میں حالات کچھ کشیدہ ہیں اور لوگوں میں خوف پھیلا ہوا ہے۔

طالب کے بیٹے محمد تابش نے بتایا کہ اُن کے ریستوران میں کھانا ہمیشہ ردی کے اخباری کاغذوں میں پیک کر کے دیا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہANWAR KAMAL

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

’ہم نے یہ نوٹس نہیں لیا کہ اخبار میں دیوی دیوتاؤں کی تصاویر چھپی ہیں۔ یہ اس طرح کا معاملہ نہیں تھا مگر اس کو اس طرح کا رنگ دیا گیا۔ میرے والد صاحب کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے۔ ہمارا ہوٹل کا کام ہے اور اس میں اخباری ردی استعمال کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ایک لڑکا آیا اور کھانا پیک کرا کر لے گیا۔ بس اتنی ہی بات تھی۔ اسی کی ساری فلم بنائی گئی اور میرے والد کو اس میں پھنسایا گیا ہے۔‘

ریسٹورنٹ میں کام کرنے والے عملے کے اراکین نے بھی بتایا کہ کھانے پینے کی چزیں پرانی اخباروں میں لپیٹ کر دینا عام بات ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ محمد طالب نے کسی کے جذبات مجروح کرنے کے لیے یہ سب نہیں کیا، یہ محض اتفاق تھا کہ طالب نے ایسےاخباروں کا استعمال کیا جس میں دیوی دیوتاؤں کی تصویریں چھپی ہوئی تھیں۔

پولیس نے مہک ریسٹورنٹ سے وہ اخبارات ضبط کر لیا ہے جس میں دیوتاؤں کی تصویریں چھپی ہوئی تھیں۔ پولیس کے مطابق یہ ایک ہندی اخبار تھا اور ہندوؤں کے ایک تہوار ’نوراتری‘ کے دوران شائع ہوا تھا۔

یاد رہے کہ اِس موقع پر اخبارات دیوی دیوتاؤں کی تصویروں کے ساتھ بڑے بڑے اشتہار شائع کرتے ہیں۔