انڈیا: نوپور شرما کے قتل پر انعام کا اعلان کرنے والا اجمیر درگاہ کا خادم گرفتار

  • شکیل اختر
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، دلی
سلمان چشتی

،تصویر کا ذریعہANI

انڈیا کی ریاست راجستھان میں پولیس نے نوپور شرما کے بارے میں ایک اشتعال انگیز بیان دینے کے الزام میں اجمیر کی درگاہ کے ایک خادم سلمان چشتی کو گرفتار کر لیا ہے۔

پولیس کے مطابق سوشل میڈیا پر سلمان چشتی کی ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں انھوں نے کہا تھا کہ جو بھی نوپور شرما کا سر ان کے پاس لائے گا، اس کو وہ اپنا گھر دے دیں گے۔

ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد گزشتہ پیر کو ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔

’لگتا ہے ویڈیو نشے میں بنائی گئی‘

پولیس افسر وکاس سانگوان نے بتایا ہے کہ درگاہ کے خادم سلمان چشتی کو اجمیر کے خادم محلے میں واقع ان کی رہائشگاہ سے گرفتار کیا گیا ہے۔

ان کے مطابق ’ابتدائی شواہد سے لگتا ہے کہ خادم نے شراب کے نشے میں یہ ویڈیو بنائی تھی۔ ان سے اس سلسلے میں مزید پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔‘

چشتی کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد ان کے خلاف شدید ردعمل سامنے آیا تھا اور ان کی گرفتاری کے لیے راجستھان میں مظاہرے بھی ہوئے تھے۔

دوسری جانب اجمیر درگاہ کی جانب سے اس ویڈیو کی مذمت کی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہTWITTER @NUPURSHARMABJP

’ان خیالات کو درگاہ سے منسوب نہ کیا جائے‘

درگاہ کے دفتر کی طرف سے جاری ایک بیان میں زین العابدین علی خان نے کہا ہے کہ ’اجمیر درگاہ مذہبی ہم آہنگی کے مقام کے طور پر جانی جاتی ہے۔ خادم سلمان نے جن خیالات کا اظہار کیا، ان کو اس درگا ہ کے پیغام سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔‘

واضح رہے کہ ایک ہفتہ قبل کئی ہندو تنظیموں نے بی جے پی کی معطل رہنما نوپور شرما کی حمایت میں اجمیر میں ہی ایک بڑا جلوس نکالا تھا۔

اس دوران میڈیا کی خبروں کے مطابق اجمیر درگاہ کی انجمن کے سیکرٹری سرور چشتی کی بھی ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں ان کو یہ کہتے ہوئے دکھایا گیا کہ ’ہم کسی مذہب کے دیوی دیوتاؤں کی توہین نہیں کرتے تو پھر نوپور شرما کی حمایت میں جلوس کیوں نکالا جا رہا ہے۔ مسلمان پیغمبر اسلام کی توہین برداشت نہیں کریں گے۔‘

راجستھان میں تناؤ

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

واضح رہے کہ انڈیا میں نوپور شرما کی جانب سے پیغمبر اسلام کے بارے میں متنازع بیان پر تناؤ کی کیفیت تو موجود ہے ہی لیکن راجستھان ریاست میں معاملات اس وقت کچھ زیادہ ہی خراب ہوئے جب ایک ہندو درزی کنہیا لال کے قتل میں دو مسلمان ملوث پائے گئے۔

یہ واقعہ ریاست کے شہر اودے پور میں پیش آیا تھا جس میں ملزمان نے کنہیا لال کی دکان میں داخل ہونے کے بعد چھروں کی مدد سے اُن کی گردن پر وار کیا تھا۔

اس قتل کے بعد ان دونوں افراد نے ویڈیو بنائی اور تسلیم کیا کہ انھوں نے پیغمبر اسلام کی توہین کی وجہ سے کنہیا لال کا قتل کیا۔

مقتول درزی پر الزام ہے کہ انھوں نے فیس بک پر نوپور شرما کی حمایت میں پوسٹ لگائی تھی۔ اس واقعے کے بعد اودے پور میں مظاہرے ہوئے اور انتطامیہ نے کرفیو نافذ کر دیا۔

یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہANI

اودے پور میں اس قتل سے قبل مہاراشٹر میں دوائیوں کی دکان چلانے والے ایک شخص کو قتل کر دیا گیا تھا۔

بی جے پی کے کچھ لیڈروں نے الزام لگایا ہے کہ اس قتل کا سرا بھی نوپور شرما کیس سے ملتا ہے کیوںکہ امراوتی پولیس کے مطابق مقتول امیش نے بھی نوپور شرما کی حمایت میں سوشل میڈیا پر پوسٹ کی تھی۔

انڈیا کی مرکزی وزارت داخلہ کے مطابق قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) اس کیس کی تفتیش کر رہی ہے۔

نوپور شرما کا متنازع بیان

بی جے پی کی ترجمان نوپور شرما نے انڈیا کے مقامی نیوز چینل ٹائمز ناؤ کے ایک پروگرام میں شرکت کے دوران گیانواپی مسجد کے تنازعے پر بات کرتے ہوئے کچھ ایسا کہا، جہاں سے یہ سارا معاملہ شروع ہوا تھا۔

اس بیان پر پہلے انڈیا میں اور پھر بین الاقوامی سطح پر شدید ردعمل کے بعد نوپور شرما کی پارٹی رکنیت کو معطل کر دیا گیا تھا۔

نوپور شرما، جن کے خلاف انڈیا کے مختلف شہروں میں ایک درجن سے زیادہ مقدمات قائم ہوئے تھے، نے سپریم کورٹ سے درخواست کی تھی کہ ملک کی مختلف ریاستوں میں ان کے خلاف درج تمام مقدمات کو دلی منتقل کیا جائے۔

اس کے بعد اس درخواست کی سماعت کے دوران انڈیا کی سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ نے ریمارکس دیے تھے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی سابق ترجمان نوپور شرما کی جانب سے پیغمبر اسلام کے بارے میں متنازع بیان نے پورے ملک کو خطرے میں ڈال دیا۔