آزادی کے 75 سال: ’بجٹ جنگ کے بجائے تعلیم پر لگے تو دونوں ممالک ترقی کر سکتے ہیں‘

  • نیاز فاروقی
  • بی بی سی، نئی دہلی
وشواجیت سنگھ کمبوج
،تصویر کا کیپشن

وشواجیت سنگھ کمبوج: ’تعلقات خراب ہوتے ہیں وہ صرف لیڈروں کے درمیان ہوتے ہیں اور اس کی وجہ ان کی سیاست ہوتی ہے لیکن عام لوگوں کے درمیان رشتے تو بہتر ہی ہیں‘

حالیہ تاریخ میں چند ہی ایسے واقعات ہیں جنھوں نے راتوں رات لوگوں کی شناخت اور زندگیاں بدل کر رکھ دی ہوں مگر برصغیر کی تقسیم ایسے واقعات میں انفرادی حیثیت کی حامل ہے اور 75 سال بعد بھی اس کے اثرات برقرار ہیں، اس بات سے قطع نظر کہ آپ اس خطے میں کہیں بھی مقیم ہوں۔

انڈیا اور پاکستان کے نوجوان دونوں ممالک کے درمیان جاری تلخی کو عوام کا نہیں بلکہ سیاسی اشرافیہ کی کمزریوں کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔

وشواجیت سنگھ کمبوج انڈین پنجاب کے فیروز پور کے علاقے کے رہائشی ہیں جن کا گاؤں سرحد سے محض چند ہی کلومیٹر کی دوری پر ہے۔ تقسیم کے وقت اُن کے دادا کو نئی سرحد کے اس پار کے گاؤں میں نقل مکانی کرنی پڑی تھی جہاں اب کمبوج مقیم ہیں اور جو کہ ان کے دادا کے گاؤں سے محض چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

ایک نوجوان کے طور پر وہ ایک ایسی نسل سے ہیں جس نے اپنی پیدائش سے ہی انڈیا اور پاکستان کو الگ الگ ممالک کے طور پر دیکھا ہے اور کبھی تقسیم کا براہ راست اثر محسوس نہیں کیا ہے۔ لیکن انھوں نے اپنی پچھلی نسلوں سے تقسیم کے دوارن ہوئے تشدد کی خوفناک کہانیاں ضرور سُنی ہیں۔

تاہم اس کے باوجود وہ تقسیم کے بارے میں ایک غیر جانبدارانہ نظریہ رکھتے ہیں۔

’عام لوگوں کے درمیاں رشتے کبھی خراب تھے ہی نہیں‘

،تصویر کا کیپشن

دانیہ صدیقی: ’جن کے ہاتھ میں پاور ہے ان پر منحصر ہے کہ وہ کیا چاہتے ہیں‘

وہ کہتے ہیں کہ مجھے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کے عوام کے درمیان رشتہ کبھی خراب ہوا ہی نہیں تھا۔ ’تعلقات خراب ہوتے ہیں وہ صرف لیڈروں کے درمیان ہوتے ہیں اور اس کی وجہ ان کی سیاست ہوتی ہے لیکن عام لوگوں کے درمیان رشتے تو بہتر ہی ہیں۔‘

اپنے اس دعوے کی تائید میں کمبوج کہتے ہیں کہ جب ان کے خاندان کو اپنے آبائی گاؤں سے ہجرت کرنا پڑی تب درحقیقت انھوں نے اپنی کُل جائیداد بشمول سونا اور دیگر قیمتی اشیا بھی اپنے مسلمان پڑوسیوں کے حوالے کر دی تھیں اور بعد میں ان کے خاندان والے اپنے بچھڑے گاؤں والوں سے اتنی ہی محبت سے ملتے رہے۔

اگرچہ کمبوج نے وہ تشدد نہیں دیکھا جو برصغیر نے 1947 میں دیکھا تھا لیکن وہ کرتار پور کوریڈور کے افتتاح جیسے اقدامات کے مشاہد رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں ’میں سکھ مذہب سے ہوں۔ کرتار پور کوریڈور کھلنے سے ہم پاکستان میں سکھ لوگوں سے مل پا رہے ہیں۔ کوئی بھائی بہن جو ستر سالوں پہلے بچھڑے تھے وہ مل پاتے ہیں، وہ مل کر کتنا خوش ہوتے ہیں۔‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ ’مذہب کو صرف توڑنے کے لیے نہیں بلکہ جوڑنے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔‘

’عام لوگوں کا آپس میں ملنا ضروری‘

،تصویر کا کیپشن

کاویہ کو پاکستان جا کر یہ دیکھنا ہے کہ وہاں لوگ کیسے ہیں اور انڈیا والوں کے بارے میں وہ کیا سوچتے ہیں

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

فیروز پور کے کمبوج کی طرح پاکستان سے تعلق رکھنے والے آفاق نور بھی کچھ ایسا ہی محسوس کرتے ہے۔

اُن کا کہنا ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے رشتوں میں بہتری تب تک نہیں ہو گی ’جب تک آپ لوگوں کو ایک ساتھ نہیں بٹھائیں گے اور جب تک آپ قومی سطح پر انھیں محبت کا درس نہیں دیں گے۔‘

اگرچہ دونوں ممالک سیاسی سطح پر غیر عوامی طریقے سے ’ٹریک ٹو ڈپلومیسی‘ کی شکل میں رشتوں کر بہتر کرنے کوششیں کر رہیں لیکن ماضی کے متعدد مواقع کی طرح معاملہ لگ بھگ وہیں تھما ہوا ہے جہاں سے شروع ہوا تھا۔

تاہم دونوں ممالک کے نوجوان اس بات پر واضح نظر آتے ہیں کہ اس دوری کی وجہ سیاست اور سیاستدان ہیں، نہ کہ عوام۔

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ انفرادی طور پر لوگ ایک دوسرے کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں لاہور کی رانی رائے کہتی ہیں، ’میں سمجھتی ہوں کی پاکستان اور انڈیا کے درمیان کسی قسم کا کوئی فرق نہیں ہے۔ ہم ایک ہی خطے کے لوگ ہیں، ایک ہی تہذیب و تمدن رکھنے والے، ہمیں صرف مذہب کے نام پر الگ کیا گیا ہے۔‘

اسی طرح شازیہ کا کہنا ہے کہ انفرادی سطح پر تعلقات ٹھیک ہیں اور دونوں ممالک میں لوگ اچھے ہیں لیکن سیاسی سطح پر پالیسیاں مسئلہ ہیں۔

حالانکہ دونوں ممالک میں دوسرے ملک کے شہریوں کے لیے سفر کرنا آسان نہیں ہے لیکن پھر بھی کئی تنظیمیں انفرادی سطح پر حالات کو بہتر کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ مثلا ’پنجاب لہر‘ نامی ایک یوٹیوب چینل جو کہ دونوں ممالک کے درمیان تقسیم کی وجہ سے بچھڑے لوگوں کو ملانے کی کوشش کر رہا ہے اور ٹیکنالاجی کے وجہ سے کئی لوگوں کو ملانے میں کامیاب رہا ہے۔

’ہمارے مسائل ایک جیسے ہیں‘

تجزیہ کار غنا مہر کہتی ہیں کہ پاکستان اور انڈیا کے مسائل بالکل ایک جیسے ہیں مثلاً فوڈ سکیورٹی، غربت یا ماحولیاتی تبدیلی وغیرہ۔

وہ کہتی ہیں کہ ’پاکستان اور انڈیا کے تعلقات کو ہمیشہ فوجی نقطہ نظر سے دیکھا جاتا ہے لیکن ان ممالک میں بہت سی چیزیں مشترک ہیں جن کی بنیاد پر دونوں ممالک مل کر ایشیا کو آگے لے جا سکتے ہیں۔‘

لیکن مستقبل کی تعمیر کے لیے تاریخ سے پوری طرح بچنا اتنا آسان بھی نہیں ہے۔

برصغیر کی بات کرتے ہوئے محمد حارث حسن کہتے ہیں کہ ایک ایسی جگہ جو مذہبی ہم آہنگی اور تکثیریت کے لیے مشہور تھی وہ مذہب کی بنیاد پر تقسیم کر دی گئی۔

وہ کہتے ہیں ’ہم نوجوان دیکھ رہے ہیں کہ گذشتہ 75 برسوں سے مذہبی انتہا پسندی عروج پر ہے۔ نئے انتہا پسند گروہ ابھر رہے ہیں، جو اس بات کا علامت ہے کہ مذہب کی بنیاد پر جب بھی کسی قوم کو تقسم کیا جاتا ہے تو معاملات بد سے بدتر ہوتے چلے جاتے ہیں۔‘

’ہم ایک جیسے ہیں‘

دونوں ممالک میں مذہبی انتہا پسندی مزید بڑھ گئی ہے جس کی نشاندہی دونوں ممالک میں بہت سے نوجوان کرتے ہیں۔ اس خطے میں خواتین کے کئی بار وزیر اعظم بننے کے باوجود خواتین کی صورتحال میں توقع کے مطابق بہتری نہیں آئی ہے۔

احسان کہتے ہیں کہ ’پاکستان اور انڈیا کے تعلقات ویسے ہی ہونے چاہییں جیسے دو ہمسایہ ممالک میں ہوتے ہیں۔ ان میں تجارت، ثقافت اور معیشت کا تبادلہ ہونا چاہیے۔‘

وہ کہتے ہیں ’سرحد کے دونوں طرف ایک ہی نسل ہے، ایک ہی زباں بولنے والے لوگ ہیں۔ لیکن ان کو نفرت کی سیاست کے وجہ سے تقسیم کر دیا گیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارا بجٹ جنگ کے بجائے تعلیم پر لگے تو دونوں ممالک ایسی ترقی کر سکتے ہیں جیسی کہ ترقی یافتہ قومیں کر رہی ہیں۔‘

،تصویر کا کیپشن

اکنت رے پاکستان جا کر کرکٹ کھیلنا چاہتے ہیں

دہلی کی دانیہ صدیقی کے خیالات بھی کچھ ایسے ہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں ’جن کے ہاتھ میں پاور ہے ان پر منحصر ہے کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ کیوںکہ ہم تو عام انسان ہیں، ہم اپنی بات رکھ بھی دیں گے تو سُنے گا کون۔‘

پروفیسر بھٹاچاریہ خود کو ’چلڈرن آف پارٹیشن‘ کہتی ہیں کیوں کہ اُن کا خاندان بھی مشرقی سرحد پر اس سے متاثر ہوئی تھی۔ وہ اپنے 2015 میں بنگلا دیش کے دورے کا ذکر کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’عام انسانوں کے سطح پر اسے بھلانا تو بہت مشکل ہو گا لیکن 'ایکسچینج' سے چیزیں ضرور بہتر ہوں گی۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’تقسیم تو ایک ہر لمحے میں ساتھ رہنے والی حقیقت ہے۔ لیکن اس صدمے کو ذاتی سطح پر ہونے والی ملاقاتوں سے شاید کم کیا جا سکتا ہے۔‘

’جنگ تو خود ایک مسئلہ ہے‘

لیکن تمام تر نیک تمناؤں کے باوجود دونوں ممالک کسی مستقل حل سے بہت دور ہیں۔ دہائیوں سے ہونے والی متعدد کوششیں ناکام رہی ہیں۔ اس صدی میں بھی کی گئی کئی سنجیدہ کوششیں بھی مناسب نتیجہ حاصل کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

لیکن نوجوان اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ حالات ایسے ہی نہیں رہ سکتے ہیں بلکہ ان میں بہتری کی ضرورت ہے۔

حارث کہتے ہیں کہ ’پاکستان اور انڈیا 75 سال سے جنگ کی حالت میں ہیں۔ اس کا کوئی اختتام نظر نہیں آتا۔ جنگ کسی معاملے کا حل نہیں ہے۔‘

حارث مزید کہتے ہیں ’پاکستان انڈیا کے تعلقات بہتری کی طرف جانے چاہییں، جیسا کہ ساحر لدھیانوی کہتے تھے کہ 'جنگ تو خود ایک مسئلہ ہے، جنگ کیا کسی مسئلے کا حل دے گی۔‘

اگرچہ دونوں ممالک فی الحال ایک دوسرے سے جنگ نہیں لڑ رہے ہیں لیکن لفظ جنگ ان ہمسایہ ممالک کے لیے ایک بہترین استعارہ ہے۔ لیکن دونوں ممالک میں نوجوانوں کا ایک پراثر طبقہ چاہتا ہے کہ دونوں ممالک بہتری کی طرف ایک مستقل قدم آگے بڑھائیں۔

اکنت پاکستان جا کر کرکٹ کھیلنا چاہتے ہیں۔ کاویہ کو وہاں جا کر یہ دیکھنا ہے کہ وہاں لوگ کیسے ہیں اور انڈیا والوں کے بارے میں وہ کیا سوچتے ہیں؟ اور کمبوج اپنے آبائی گاؤں کو دیکھنا چاہتے ہیں۔

کمبوج کہتے ہیں کہ ’میں دیکھنا چاہوں گا کہ وہاں کے کھیت کیسے ہیں؟ کیا وہاں ایسے ہی کھیت ہیں جیسے ہمارے گاؤں میں ہیں۔ کیا وہاں کا کھانا ویسا ہی ہے جیسا ہمارا ہے؟ کیا وہاں کے لوگ بھی ویسے ہی ہیں جیسے ہم؟ اگر ویسے ہی ہیں تو دونوں کے بیچ یہ فرق کیوں، یہ دیوار کیوں؟‘