افغانستان میں طالبان حکومت کا ایک سال مکمل: پانچ شہروں پر قبضہ اور کابل کے گھیراؤ کی حکمت عملی

افغانستان، طالبان

،تصویر کا ذریعہEPA

صدر جو بائیڈن نے گذشتہ برس اگست کے آخر تک افغانستان سے امریکی افواج کے آخری دستوں کے انخلا کے حتمی فیصلے کا اعلان کیا تھا۔

افغانستان سے بین الاقوامی افواج کے غیر مشروط انخلا کے فیصلے کے ساتھ ہی دو ماہ میں طالبان نے افغانستان کے 143 سے زیادہ اضلاع پر تیزی سے اپنی حکومت قائم کر لی تھی۔

طالبان جنگجوؤں نے بغیر کسی بڑی مزاحمت کے یکے بعد دیگرے کئی اضلاع کا کنٹرول حاصل کر لیا۔

اس سے پہلے طالبان دیہی علاقوں اور سڑکوں پر موجود تھے، صرف چند اضلاع میں ہی وہ سرکاری اہلکاروں کو بے دخل کرنے میں کامیاب ہوتے تھے اور پھر وہاں کے حکمران بن جاتے تھے۔

غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد طالبان ملک کے دور دراز علاقوں تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ مقامی حکام نے خود کچھ اضلاع کے مراکز کو خالی کروایا اور انتظامی مراکز کو دوسری جگہ منتقل کر دیا۔

کچھ اضلاع کا کنٹرول طالبان نے بغیر لڑے حاصل کر لیا یا یہ علاقے مقامی عمائدین کی مدد سے طالبان کے حوالے کر دیے گئے۔

ابتدا میں غیر ملکی افواج کا افغانستان کے دور دراز کے اضلاع سے انخلا اور صرف اہم شہروں پر توجہ مرکوز رکھنے کی عسکری حکمت عملی سمجھ آتی تھی۔

بدخشاں صوبے کی نمائندگی کرنے والی فوزیہ کوفی نے اپنے فیس بک پر لکھا تھا کہ بدخشاں میں جیسے ہی حکومتی افواج نے علاقہ چھوڑا تو چند گھنٹوں کے اندر طالبان نے آ کر یہاں کا کنٹرول سنبھال لیا۔

گذشتہ سال یکم اگست تک طالبان نے پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات بنانے اور کسی بھی ممکنہ مزاحمت کو روکنے کے لیے تمام سرحدی گزرگاہوں کا کنٹرول سنبھال لیا۔

شبرغان: مارشل دوستم کا ٹھکانہ طالبان کے ہاتھ میں چلا گیا

6 اگست کو طالبان نے صوبہ نمروز کے مرکز زرنج شہر پر قبضہ کر لیا۔ یوں اس صوبے کا دارالحکومت زرنج بغیر کسی بڑے جگھڑے کے طالبان کے کنٹرول میں چلا گیا۔

یہاں کے مقامی اہلکاروں اور افواج نے اپنی فوجی گاڑیوں میں سرحد پار کر کے ایران میں پناہ حاصل کر لی۔

افغان فوج، جو ہمیشہ بین الاقوامی افواج کے شانہ بشانہ یا ان کی فضائی اور انٹیلی جنس مدد سے دو دہائیوں تک لڑتی رہی، نے اچانک خود کو تنہا پایا۔ یوں فوج کا لڑنے کا جذبہ ماند پڑ گیا۔

اب افغان فوج نے پورے ملک میں یہ لڑائی صرف اپنے بل بوتے پر لڑنا تھی، جنھیں اب ائیر فورس کمانڈوز کے ہمراہ مختلف صوبوں میں بھیج دیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہARQ

جوزجان اور فاریاب میں مارشل دوستم کے بڑے بیٹے یار محمد دوستم کے لوگوں نے حکومتی افواج کے ساتھ مل کر طالبان کی پیش قدمی کے سامنے بڑی مشکل سے مقابلہ کیا مگر پھر انھوں نے ہتھیار ڈال دیے۔

جوزجان اور فاریاب سابق نائب صدر، مارشل عبدالرشید دوستم کے مضبوط گڑھ تھے۔ صدارت کے دوسرے دور میں صدر اشرف غنی نے انھیں مارشل کے خطاب سے نوازا جو کہ افغان فوج میں اعلیٰ ترین رسمی خطاب ہے۔

اسی دن مارشل دوستم نے اشرف غنی سے قلعے میں ملاقات کی اور صدر کو مجوزہ سکیورٹی پلان پیش کیا، جس پر بظاہر عمل نہیں ہوا۔

اسی دن یعنی 7 اگست کی شام کو امریکی بی-52 جنگی طیارے نے جوزجان میں طالبان جنگجوؤں پر بمباری بھی کی۔ مگر اس سے زمینی حقائق میں کوئی بڑی تبدیلی واقع نہیں ہوئی اور بالآخر صوبہ مکمل طور پر طالبان کے قبضے میں چلا گیا۔

،تصویر کا ذریعہTaliban

،تصویر کا کیپشن

شبرغان میں مارشل عبدالرشید دوستم کے گھر پر قبضہ کرنے کے بعد طالبان نے مارشل کی وردی کے ساتھ ایک یادگار تصویر کھینچی

قندھار: طالبان نے اپنا پرانا گڑھ دوبارہ حاصل کر لیا

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

قندھار جنوبی افغانستان کا سب سے اہم شہر ہے۔ خیال رہے کہ یہاں سے سنہ 1990 کی دہائی کے اوائل میں طالبان تحریک کا آغاز ہوا تھا۔

صوبہ قندھار روایتی طور پر افغانستان کی عصری تاریخ میں فیصلہ کُن حیثیت رکھتا ہے اور ملک کے زیادہ تر حکمران اسی صوبے سے رہے ہیں۔

طالبان نے ہلمند اور قندھار کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے شدید لڑائی کی۔

جون اور جولائی کے آخر میں بارڈر کراسنگ سپن بولدک پر قبضہ کیا گیا۔ یہی وہ سرحدی قصبہ ہے جہاں سے طالبان کے بانیوں نے سب سے پہلے اپنی تحریک کا آغاز کیا تھا۔

طالبان نے سپن بولدک میں بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی۔ حکومت نے طالبان پر عام شہریوں کے قتل کا الزام لگایا اور یہ دعویٰ کیا گیا کہ اچکزئی برادری کے ارکان کی ایک بڑی تعداد، جن کا تعلق قندھار کے سابق کمانڈر جنرل رازق سے سمجھا جاتا تھا، طالبان کے ہاتھوں مارے گئے۔

اگست کے آغاز سے طالبان اور افغان حکومتی افواج کے درمیان لڑائی کا دائرہ قندھار شہر کے مضافات اور اندرون تک پھیل گیا۔ طالبان جنگجوؤں نے ملک کے جنوب میں دوسرے اہم ترین صوبے ہلمند کے دارالحکومت لشکرگاہ میں داخل ہو گئے۔

ہلمند اور قندھار میں فوج کے خصوصی دستوں کی طالبان جنگجوؤں کے ساتھ شدید جھڑپیں ہوئیں۔ وزارتِ دفاع نے اس شہر میں خصوصی کمانڈو دستے بھیجے اور اطلاعات کے مطابق یہاں شدید لڑائی ہوئی۔

11 اگست کو طالبان نے قندھار شہر کے مرکز میں اہم سیاسی اور فوجی مراکز پر قبضہ کر لیا۔

طالبان نے قندھار سینٹرل جیل پر قبضہ کر کے قیدیوں کو رہا کر دیا۔

ہرات: اسماعیل خان پھر سے طالبان کی حراست میں

،تصویر کا ذریعہHirat Government Office

،تصویر کا کیپشن

اسماعیل خان اور ہرات کے گورنر عبدالصبور غنی

ہرات پڑوسی ملک ایران کے مغرب میں سب سے اہم شہر ہے۔

ہرات کے ایک سابق جنگجو اسماعیل خان نے حکومتی اہلکاروں کے ساتھ مل کر شہر کے دفاع کے لیے ایک 'ملٹری کوآرڈینیشن کونسل' بنائی جس نے کئی ہفتوں تک ہرات پر طالبان کے قبضے کو روکا۔

افغانستان کی وزارت دفاع نے ان کی مدد کے لیے فوج کے 300 خصوصی دستے ہرات بھیجے۔

لیکن آخر کار 13 اگست کو طالبان نے ایک تصویر شائع کی، جس میں اسماعیل خان کو گروپ کی افواج کے دائرے میں دکھایا گیا ہے۔ اسماعیل خان کو سنہ 1990 کی دہائی کے آخر میں طالبان نے پکڑ لیا تھا اور کچھ عرصے بعد وہ ایران فرار ہو گئے تھے۔

اس بار طالبان نے ان کی اور ہرات کے گورنر عبدالصبور قان کی ایک ویڈیو جاری کی، جس میں انھوں نے تنازعات کو ختم کرنے اور پُرامن حل تلاش کرنے کا کہا۔ چند روز بعد طالبان نے انھیں ایران جانے کی اجازت دے دی۔

،تصویر کا ذریعہSocial Media

،تصویر کا کیپشن

اسماعیل خان حیران رہ گیا اور طالبان کی افواج نے اس پر قبضہ کر لیا

ہرات اور قندھار پر طالبان کے قبضے نے کابل میں طالبان کی حکومت کی بنیاد رکھی۔

دوحہ، قطر میں ہونے والے امن مذاکرات بھی کسی سمجھوتے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے۔ طالبان کے نمائندوں نے اشرف غنی کی حکومت سے براہ راست بات کرنے سے انکار کر دیا، جسے وہ ’کابل انتظامی‘ کہہ کر پکارتے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

شہروں پر قبضہ کر کے طالبان نے مرکزی جیلوں کے دروازے بھی کھول دیے یا قیدیوں کو قید رکھنے پر توجہ نہیں دی اور نام نہاد دولت اسلامیہ کے سینکڑوں قیدیوں کو بھی رہا کر دیا گیا جنھوں نے گذشتہ سال پھر طالبان کو خوب چیلنج دیا۔

مزار شریف: ایک ایسی شکست جسے 'سازش' کہا گیا

،تصویر کا ذریعہNoor

،تصویر کا کیپشن

مزار شریف کے سقوط سے ایک دن پہلے اپنے لوگوں اور حکومتی افواج کے درمیان عطا محمد نور

اب افغان فوج اور پولیس کے اڈوں سے ملا فوجی ساز و سامان طالبان جنگجوؤں کے ہاتھ لگ گیا تھا جسے انھوں نے بڑے شہروں پر قبضے کے لیے استعمال کیا۔

امریکی سپیشل انسپکٹر جنرل (سگار) کے دفتر کے مطابق تقریباً 7.2 ارب ڈالر کا امریکی اور نیٹو فوجی ساز و سامان طالبان کے ہاتھ میں چلا گیا تھا۔

بین الاقوامی افواج کے انخلا کے ساتھ ساتھ غیر ملکی کنٹریکٹ کمپنیوں نے بھی افغانستان چھوڑ دیا جس کی وجہ سے ملک کی زیادہ تر فضائیہ ناکارہ ہو گئی۔ اور یہ سب ایک ایسے وقت پر ہوا جب فوج کو طالبان کی پیش قدمی کو سست کرنے کے لیے میدان جنگ میں فضائی مدد کی اشد ضرورت تھی۔

مزار شریف، صوبہ بلخ کا مرکز، سب سے زیادہ آبادی والا شہر اور ملک کے شمال میں سب سے اہم تجارتی اور اقتصادی مرکز ہے۔ اس کی سرحدیں بندر ہریتان تک ہائی وے اور ریلوے کے ذریعے ازبکستان سے جا ملتی ہیں۔

جب طالبان بلخ میں تیزی سے پیش قدمی کر رہے تھے تو یہاں کے سابق گورنر عطا محمد نور نے حکومت کی کمان سنبھال لی اور طالبان کے خلاف مزاحمتی گروہوں کی قیادت کی۔ محمد محقق اور مارشل دوستم نے بھی ان کی حمایت کا اعلان کیا۔

مزار شریف میں قائم ہونے والی مزاحمت سے طالبان کی پیش قدمی میں رکاوٹ کی توقع کی جا رہی تھی لیکن صرف چند ہفتوں تک ہی وہ طالبان کو شہر میں داخل ہونے سے روک سکے۔

طالبان فورسز نے شہر کا محاصرہ سخت کر کے اردگرد کے قصبوں پر قبضہ کر لیا اور 14 اگست کی سہ پہر مزار شریف میں داخل ہو گئے۔

اس دن کی شام کو عطا محمد نور اور ان کے کئی ساتھی حیاراتان میں دوستی کا پل عبور کر کے ازبکستان میں داخل ہوئے۔ آدھی رات کو انھوں نے اپنے فیس بک پر مزار شریف کے سقوط کو ایک ’سازش‘ قرار دیا اور لکھا کہ 'وہ میرے دوست مارشل اور مجھے پھنسانا چاہتے تھے۔‘

،تصویر کا ذریعہ@ZIAULHAQAMARKHI

جلال آباد: بغیر لڑائی کے طالبان کے قبضے میں چلا گیا

جلال آباد صوبہ ننگرہار کا دارالحکومت اور مشرقی افغانستان کا سب سے اہم شہر ہے۔ اس کی سرحد قبائلی علاقوں اور پاکستان کے شہر پشاور سے ملتی ہیں۔

جب طالبان کی افواج شہر میں گُھس چکی تھیں تو اس صوبے کے گورنر ضیا الحق امرخیل نے 15 اگست کی صبح اپنا دفتر طالبان کے حوالے کر دیا۔

ضیاالحق امرخیل نے اپنے ٹوئٹر پر ایک تصویر (جس میں بظاہر طالبان کے لوگ اپنے دفتر میں دکھائی دے رہے ہیں) پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ 'مجھے خوشی ہے کہ مرکز اور اضلاع میں بغیر کسی خون خرابے کے پُرامن طریقے سے ننگرہار طالبان کے حوالے کر دیا گیا۔‘

امرخیل اس وقت کے صدر محمد اشرف غنی کے قریبی لوگوں میں سے ایک تھے اور جلال آباد کا گنجان آباد شہر بھی حکومت کے اہم اڈوں میں سے ایک تھا۔

جلال آباد کے ہتھیار ڈالنے کے بعد طالبان نے کابل میں داخل ہونے اور دو دہائیوں کے بعد اقتدار میں واپسی پر توجہ مرکوز کی اور اسی شام کابل میں صدارتی محل میں داخل ہوئے۔