افغانستان میں طالبان کی حکومت کا ایک سال: 'میں اپنے سکول کی سب سے لائق طالبہ تھی'

  • لز ڈوسٹ
  • چیف بین الاقوامی نامہ نگار
Kabul

،تصویر کا ذریعہJack Garland

جب آپ کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پہنچتے ہیں تو جو چیز آپ سب سے پہلے نوٹ کرتے ہیں وہ یہ کہ بھورے رنگ کے سکارف اور کالے چغاؤں میں ملبوس خواتین پاسپورٹ پر مہر لگا رہی ہوتی ہیں۔

ایک ایسا ہوائی اڈہ جو ایک برس قبل ان افراد سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا جو انتہائی مایوسی کے عالم میں یہاں سے فرار ہونا چاہتے تھے، وہاں اب کافی خاموشی ہے۔

موسم گرما کی ہوا میں طالبان کے سفید جھنڈے لہرا رہے ہیں۔۔۔ پُرانے مشہور چہروں والے بل بورڈز پینٹ کر دیے گئے ہیں۔

اس گیٹ وے سے آگے اس ملک میں کیا ہے، جسے طالبان کی ایک تیز پیش قدمی نے الٹا کر رکھ دیا تھا؟

کابل جہاں خواتین کو کہا گیا کہ وہ اپنی ملازمتیں مردوں کو دے دیں

پیغامات چونکا دینے والے ہیں۔

ایک میسنجنگ پلیٹ فارم پر ایک خاتون نے لکھا کہ ’وہ چاہتے ہیں کہ میں اپنی ملازمت اپنے بھائی کو دے دوں۔‘

ایک اور خاتون نے لکھا کہ ’ہم نے اپنے عہدے تجربے اور تعلیم کے بعد حاصل کیے۔۔۔ اگر ہم یہ قبول کر لیتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ہم نے خود کو دھوکہ دیا۔‘

میں وزارت خزانہ کی ایسی سابق سینئیر سول سرونٹس کے ساتھ بیٹھی تھی، جنھوں نے یہ پیغامات شیئر کیے۔

وہ 60 سے زائد خواتین کے اس گروپ کا حصہ ہیں، جن میں سے اکثر افغانستان ریونیو ڈائریکٹوریٹ سے ہیں اور جو گزشتہ برس اگست میں گھر جانے کا حکم ملنے کے بعد متحد ہو گئیں۔

،تصویر کا ذریعہJack Garland

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

وہ بتاتی ہیں طالبان نے انھیں اس وقت کہا کہ ’اپنے مرد رشتہ داروں کے سی وی بھیجیں جو ان کی ملازمتوں پر درخواست دے سکیں۔‘

اپنی شناخت چھپانے کی شرط پر ایک خاتون نے بتایا کہ ’یہ میری نوکری ہے۔ میں نے اس نوکری کو حاصل کرنے کے لیے 17 برس بہت محنت کی اور اپنی ماسٹر کی ڈگری مکمل کی۔ اب ہم دوبارہ صفر پر آ گئے ہیں۔‘

ٹیلی فونک کال پر افغانستان کے باہر سے بات کرتے ہوئے ڈائریکٹوریٹ کی سابق ڈائریکٹر جنرل آمنہ احمدی بھی ہمارے ساتھ شامل ہوئیں۔

وہ کسی طرح افغانستان سے نکلنے میں کامیاب ہو گئی تھیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’ہم اپنی شناخت کھو رہے ہیں۔ وہ جگہ جہاں ہم اپنی شناخت قائم کر سکتے ہیں وہ صرف ہمارا ملک ہے۔‘

ان کے گروپ کا نام ’افغانستان کی خاتون رہنما‘ انھیں طاقت اور حوصلہ دیتا ہے لیکن انھیں اپنی ملازمتیں واپس چاہیے۔

یہ وہ خواتین ہیں، جنھوں نے بین الاقوامی مدد سے گذشتہ دو دہائیوں کے دوران تعلیم اور ملازمت میں اپنے لیے نئے مواقع تلاش کیے لیکن طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد اب یہ ختم ہو گیا۔

طالبان عہدیدار کہتے ہیں کہ خواتین ابھی بھی کام کر رہی ہیں۔ کام کرنے والی خواتین زیادہ تر میڈیکل، تعلیم اور ائیرپورٹ میں سکیورٹی کے شعبوں میں نظر آتی ہیں، ایسی جگہیں جہاں خواتین کثیر تعداد میں آتی ہیں۔

طالبان اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ خواتین جو حکومتی ملازمتوں میں ایک چوتھائی کی مالک تھیں، کو ابھی بھی تنخواہ دی جا رہی ہے، اگرچہ یہ ان کی تنخواہ کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔

ایک سابق سرکاری ملازم نے مجھے بتایا کہ کیسے ایک طالبان اہلکار نے انھیں گلی میں روکا اور ان کے سکارف کو تنقید کا نشانہ بنایا اگرچہ انھوں نے خود کو مکمل طور پر ڈھانپا ہوا تھا۔

’میں نے اسے واپس جواب دیا کہ آپ کے پاس حجاب سے بڑے مسئلے موجود ہیں جنھیں حل کرنے کی ضرورت ہے۔‘

صوبہ غُر میں قحط کا خدشہ

یہ منظر انتہائی خوبصورت دکھائی دیتا ہے۔

افغانستان کے دور دراز وسطی پہاڑی علاقوں میں موسم گرما کی دھوپ میں گندم کی بالیاں چمک رہی ہیں۔ آپ گایوں کی ہلکی ہلکی آواز بھی سن سکتے ہیں۔

18 برس کے نور محمد اور 25 برس کے احمد فصل کی باقیات کو درانتی سے صاف کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہJack Garland

نور نے اپنے چہرے سے پسینہ پونچھتے ہوئے ہمیں بتایا کہ ’خشک سالی کی وجہ سے اس برس گندم کی پیداوار بہت کم ہوئی ہے لیکن میرے پاس صرف یہی کام ہے۔‘

ایک ایسا کھیت، جہاں کٹائی ہو چکی تھی، ہمارے پیچھے دور تک پھیلا ہوا تھا۔ یہ سارا کام صرف دو آدمیوں نے دس دن میں کیا، اور اس کے لیے انھیں یومیہ دو ڈالر اجرت دی گئی۔

نور نے ہمیں بتایا کہ ’میں الیکٹریکل انجینئیرنگ پڑھ رہا تھا لیکن خاندان کی کفالت کے لیے مجھے پڑھائی چھوڑنا پڑھائی۔‘

پچھتاوا اور افسوس نور کی باتوں سے صاف ظاہر ہو رہا تھا۔

نور کی کہانی کافی تکیلف دہ ہے۔ ’میں نے ایران جانے کے لیے اپنی موٹر سائیکل فروخت کی لیکن مجھے وہاں کام نہیں ملا۔‘

ہمسایہ ملک ایران میں موسمی کام افغانستان کے غریب ترین علاقوں میں رہنے والوں کی مدد کرتا تھا لیکن اب ایران میں بھی کام کے مواقع کم ہو گئے ہیں۔

نور کہتے ہیں کہ ’ہم اپنے طالبان بھائیوں کو خوش آمدید کہتے ہیں لیکن ہمیں ایک ایسی حکومت کی ضرورت ہے جو ہمیں مواقع دے۔‘

اس سے قبل اسی روز، ہم غور کی صوبائی کابینہ کے پگڑی والے اراکین کے ساتھ ایک چمکدار پائن ٹیبل کے گرد بیٹھے تھے، جو طالبان کے گورنر احمد شاہ دین دوست کے ساتھ بیٹھے تھے۔

جنگ کے دوران ایک سابق شیڈو ڈپٹی گورنر بڑبڑا کر اپنی تمام تمام غموں کے بارے میں بتاتا ہے۔

غربت، خراب سڑکیں، ہسپتالوں تک رسائی کی کمی اور سکولوں کا صحیح طریقے سے کام نہ کرنے جیسے مسائل بتاتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ 'یہ تمام مسائل مجھے غمگین کر دیتے ہیں '۔

جنگ کے خاتمے کا مطلب یہ ہے کہ اب مزید امدادی ایجنسیاں افغانستان میں کام کر رہی ہیں۔ اس میں اب دور دراز کے ایسے اضلاع بھی شامل ہیں جہاں پہلے ان امدادی اداروں کو رسائی حاصل نہیں تھی۔ اس سال کے آغاز میں غُر کے دو انتہائی دور دراز اضلاع میں قحط سالی کے بارے میں علم ہوا ہے۔

لیکن گورنر دین دوست کے لیے جنگ ختم نہیں ہوئی۔

ان کا کہنا ہے کہ انھیں امریکی افواج نے قید اور تشدد کا نشانہ بنایا۔ وہ یہ بات زور دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ 'ہمیں مزید تکلیف نہ دو۔ ہمیں مغرب سے مدد کی ضرورت نہیں ہے '۔

انھوں نے سوالیہ انداز میں پوچھا کہ 'آخر مغرب ہمیشہ مداخلت کیوں کرتا ہے '؟ وہ کہتے ہیں کہ 'ہم تو ان سے یہ سوال نہیں کرتے کہ آپ اپنی عورتوں یا مردوں کے ساتھ کیسا سلوک روا رکھتے ہیں'۔

،تصویر کا ذریعہJack Garland

،تصویر کا کیپشن

طالبان کے گورنر احمد شاہ دین دوست

کچھ دن بعد ہم ان کی ٹیم کے ارکان کے ہمراہ ایک سکول اور غذائی قلت کے کلینک کا دورہ کرتے ہیں۔

طالبان کے ایک نوجوان اور یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ ہیلتھ ڈائریکٹر عبدالستار مفق ایک منجھے ہوئے بیوروکریٹ کی طرح کہتے ہیں کہ 'افغانستان کو توجہ کی ضرورت ہے '۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ 'ہمیں لوگوں کی جان بچانی ہے اور اس میں سیاست کرنے کی ضرورت نہیں ہے '۔

مجھے یاد ہے کہ نور محمد نے مجھے گندم کے کھیت میں کیا کہا تھا۔

'غربت اور قحط بھی ایک لڑائی ہے اور یہ بندوق کی لڑائی سے بڑی ہے '۔

یہ بھی پڑھیے

ہرات میں سٹار طالبہ کو کلاس سے باہر نکال دیا گیا

18 برس کی سہیلہ جوش و خروش سے چلا رہی ہیں۔ میں ہرات میں ان کے پیچھے خواتین کے لیے مختص بازار کے تہہ خانے میں ایک تاریک سیڑھی سے نیچے اترتی ہوں۔ خیال رہے کہ ہرات اپنی قدیم مغربی شہر ہے جو طویل عرصے سے اپنی زیادہ کھلی ثقافت، سائنس اور تخلیقی صلاحیتوں کے لیے جانا جاتا ہے۔

یہ بازار ابھی پہلے دن کُھلا ہے۔ طالبان نے اسے گذشتہ برس بند کر دیا تھا۔

ہم اس کے خاندان کی کپڑوں کی دکان کے شیشے کے سامنے سے جھانکتے ہیں جو ابھی تک تیار نہیں ہوئی ہے۔ سلائی مشینوں کی ایک قطار کونے میں نصب نظر آ رہی ہے، دل کے نشان کی طرح بنے سرخ رنگ کے غبارے چھت سے لٹک رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہJack Garland

،تصویر کا کیپشن

ہرات میں خواتین کے لیے مخصوص بازار

سہیلہ اپنی ماں اور دادی کی چمکیلی طرز کے روایتی کوچی ڈریسز (خاص طرز کے افغان ڈریسز) کی سلائی کی تاریخ بتاتے ہوئے کہتی ہیں کہ 'دس برس قبل میری بہن نے یہ دکان اس وقت شروع کی جب وہ 18 برس کی تھی '۔

ان کی بہن نے ایک انٹرنیٹ کلب اور ایک ریستوران بھی کھولا تھا۔

خواتین کی اس واحد جگہ میں خاموشی سے سرگرمی جاری ہے۔ کچھ اپنی الماریوں کو ذخیرہ کر رہی ہیں، دوسری خواتین گپ شپ کر رہی ہیں، جب وہ زیورات اور کڑھائی والے ملبوسات پر کام کر رہی ہوتی ہیں۔

احاطے میں روشنی کا انتظام خاطر خواہ نہیں ہے، لیکن اس اداسی کے ماحول میں ان خواتین کے لیے روشنی کی ایک کرن ہے، جنھوں نے بہت زیادہ وقت صرف گھروں میں ہی گزارا ہے۔

سہیلہ کے پاس سنانے کو ایک اور کہانی بھی ہے۔

انھوں نے ایک ایسی حقیقت کی نشاندہی کی ہے جس کا ان جیسے کم عمر لڑکیوں پر بہت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق 'طالبان نے ہائی سکولوں کو بند کر دیا ہے '۔

طالبان کے اعلیٰ انتہائی قدامت پسند علما کے حکم پر ملک میں زیادہ تر سکینڈری سکول بند ہیں اگرچہ طالبان کے ارکان سمیت بہت سے افغانوں نے انھیں دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔

سہیلہ نے بتایا کہ 'میں گریڈ 12 میں ہوں، اگر میں گریجویٹ نہیں ہوئی تو میں یونیورسٹی نہیں جا سکتی'۔

میں نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ سہیلہ بن سکتی ہے جو وہ افغانستان میں رہنا چاہتی ہے۔ وہ اعتماد سے کہتی ہیں کہ 'یقیناً '، یہ میرا ملک ہے اور میں کسی دوسرے ملک نہیں جانا چاہتی ہوں '۔ لیکن سکول کے بغیر ایک سال مشکل گزرا ہوگا۔ اس سوال پر ان کا کہنا تھا کہ 'یہ صرف میں نہیں، افغانستان کی تمام لڑکیوں کے لیے مشکل سال تھا۔ یہ ایک اُداس کر دینے والی یاد ہے۔

،تصویر کا ذریعہJack Garland

سسکیوں میں اب ان الفاظ کے ساتھ ان کی آواز ختم ہو جاتی ہے۔ 'میں سب سے لائق طالبہ تھی '۔