افغانستان میں طالبان حکومت کا ایک برس: برطانوی اداروں کے لیے کام کرنے والے افغان ملازمین کو جان کا خوف

  • یوگیتا لیمائے
  • بی بی سی نیوز، کابل
نوریہ طالبان کے اقتدار پر قابض ہونے سے قبل انگریزی پڑھاتی تھیں لیکن اب وہ روپوش ہیں
،تصویر کا کیپشن

نوریہ طالبان کے اقتدار پر قابض ہونے سے قبل انگریزی پڑھاتی تھیں لیکن اب وہ روپوش ہیں

ایک عام سے سفید پلاسٹک بیگ میں عمار نے کاغذات کا ایک بنڈل رکھا ہوا ہے جو اس وقت اس کے سب سے قیمتی سامان میں سے ایک ہے۔

اگر ہم ان کے گھر جاتے تو ہماری طرف لوگوں کی بہت زیادہ توجہ ہوتی۔ اس لیے عمار اپنی موٹر سائیکل پر ایک محفوظ مقام پر ہم سے ملنے آئے۔ اس دوران انھیں یہ خوف بھی تھا کہ کہیں طالبان کسی چوکی پر ان کی تلاشی نہ لے لیں اور کہیں ان کے کاغذات نہ دیکھ لیں۔

دستاویزات میں برٹش کونسل کے ساتھ دو سال کے لیے ان کے بطور استاد ملازمت معاہدے کے علاوہ برطانیہ کے ساتھ ان کی وابستگی کے دیگر شواہد بھی شامل ہیں۔

عمار کا خیال ہے کہ ان دستاویزات سے انھیں اور ان کے خاندان کو تحفظ حاصل کرنے میں مدد مل سکے گی۔ برطانیہ کی حکومت کے ساتھ کام کرنے کی وجہ سے انھیں اپنی جان کا خوف ہے۔

عمار کہتے ہیں کہ ’ہم نے افغانستان میں برطانیہ کی ثقافت اور ان کے اقدار کی تعلیم دی۔ انگریزی زبان کی تعلیم کے علاوہ، ہم نے مساوات، تنوع اور سب کو شامل حال رکھنے کے بارے میں بھی تعلیم دی۔ ان (طالبان) کے خیال میں یہ اسلام سے باہر کی چیز ہے، یہ غیر قانونی ہے۔ اس لیے وہ سمجھتے ہیں کہ ہم مجرم ہیں اور ہمیں سزا ملنی چاہیے۔ اسی وجہ سے ہمیں ڈر لگا رہتا ہے۔‘

انھیں پہلے بھی طالبان نے حراست میں لیا تھا جس کی وجہ سے انھیں ڈر ہے کہ انھوں نے اپنے اہلخانہ کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔

’وہ مجھے پولیس سٹیشن لے گئے اور یہ پوچھ رہے تھے کہ آیا میں نے کسی غیر ملکی حکومت کے لیے کام کیا ہے۔ خوش قسمتی سے انھیں میرے گھر یا میرے فون پر اس قسم کے شواہد نہیں ملے لیکن مجھے نہیں لگتا کہ بات یہیں پر ختم ہو جاتی ہے۔ وہ مجھ پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔‘

عمار ان 100 سے زائد افغان اساتذہ میں سے ایک ہیں جنھوں نے برٹش کونسل کے ساتھ عوامی سطح پر ملازمتوں میں کام کیا تھا اور وہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں ہی رہ گئے۔ ان میں بہت سی خواتین بھی شامل ہیں۔

ان میں سے ایک نوریہ ہیں اور وہ بھی انگلش ٹیچنگ پروگرام کا حصہ تھیں۔

نوریہ کہتی ہیں کہ ’یہ ہمارے لیے چیلنجنگ تھا۔ وہ انتہا پسندانہ خیالات رکھتے تھے اور اکثر کہتے تھے کہ آپ جو پڑھا رہے ہیں وہ ہمارے لیے ناقابل قبول ہے۔ ہم جہاں بھی گئے، ہمیں برطانوی حکومت کے نمائندے کے طور پر دیکھا گیا۔‘

’کچھ لوگوں نے ہمیں برطانیہ کا جاسوس سمجھا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

گذشتہ سال اقتدار پر قابض ہونے کے بعد سے طالبان کابل کی سڑکوں پر گشت کرتے نظر آ رہے ہیں

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

وہ کہتی ہیں کہ اس چیز نے انھیں اور ان کے خاندان کو افغانستان میں طالبان کے دور حکومت میں خطرے میں ڈال دیا ہے۔

اگرچہ طالبان نے سابقہ حکومت اور اس کے اتحادیوں کے لیے کام کرنے والے ہر فرد کے لیے عام معافی کا اعلان کیا ہے لیکن انتقامی قتل کے واقعات کے کافی شواہد موجود ہیں۔ اقوام متحدہ نے اس قسم کے 160 کیسز کو دستاویزی شکل دی ہے۔

نوریہ گذشتہ سال اگست میں طالبان کے اقتدار پر قبضے کے بعد سے روپوش ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ واقعی تناؤ کا باعث ہے۔ یہ کسی قیدی کی زندگی سے بھی بدتر ہے۔ ہم آزادانہ طور پر چل پھر بھی نہیں سکتے۔ جب ہم باہر جاتے ہیں تو ہم اپنا حلیہ بدلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس بات نے مجھے ذہنی طور پر متاثر کیا ہے۔ کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ یہ دنیا کا خاتمہ ہے۔‘

وہ برٹش کونسل پر اپنے عملے کے درمیان امتیازی سلوک کا الزام لگاتی ہیں۔

’انھوں نے دفتر میں کام کرنے والوں کو دوسری جگہ منتقل کر دیا لیکن ہمیں چھوڑ دیا۔ انھوں نے ہمیں افغان ری لوکیشن اسسٹنس پالیسی (ARAP) کے بارے میں بھی نہیں بتایا کہ وہ کب سامنے آیا۔‘

اب نوریہ اور دیگر اساتذہ نے برطانیہ کی جانب سے جاری کی جانے والی ایک اور ری لوکیشن سکیم کے تحت نقل مکانی کی درخواست دی ہے۔ اس سکیم کو افغان شہری آباد کاری سکیم (ACRS) کہا جاتا ہے لیکن ابھی تک انھیں صرف حوالہ نمبر ہی ملے ہیں۔

برٹش کونسل کا کہنا ہے کہ جب اے آر اے پی سکیم پہلی بار شروع ہوئی تو برطانیہ کی حکومت نے صرف ان ملازمین کی درخواستوں پر غور کیا جس میں ان کا دفتری عملہ شامل تھا لیکن اساتذہ اور دیگر ٹھیکیدار اس میں شامل نہیں تھے۔

کونسل کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ حکومت برطانیہ کے ساتھ اس معاملے میں پیشرفت پر زور دے رہے ہیں۔

برطانیہ کے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ برٹش کونسل کے ٹھیکیدار اے سی آر سی سکیم کے تحت نقل مکانی کے اہل ہیں اور وہ درخواستوں پر تیزی سے کارروائی کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن اس میں کتنا وقت لگ سکتا ہے اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

عمار کا کہنا ہے کہ ’اس میں اسی صورت میں تیزی آئے گی اور فوری ایکشن لیا جائے گا جب کسی ٹھیکیدار کی موت ہو جاتی ہے اور پھر انھیں محسوس ہو کہ ہاں، وہ (ٹھیکیدار) خطرے میں ہیں۔ اب کچھ کرتے ہیں۔ میرے خیال سے جلد یا بدیر ایسا ہی ہونے والا ہے۔‘

حفاظت ان لوگوں کے لیے اور بھی غیر یقینی ہے جنھوں نے برطانیہ کی حکومت کے ساتھ دوسرے عہدوں پر کام کیا۔

جعفر نے برطانوی حکومت کے لیے ایک سینیئر مشیر کے طور پر کام کیا اور وہ افغانستان میں برطانیہ کی حکومت کے تعاون سے ترقیاتی منصوبوں کے نفاذ میں سہولت فراہم کرتے رہے۔

وہ براہ راست برطانوی کمپنیوں میں ملازم تھے جس میں سے کچھ کو تو برطانوی حکومت نے قائم کی تھیں جبکہ بعض دوسری کمپنیوں کو اس نے ٹھیکے دیے تھے۔

انھوں نے امریکی فوجی اڈوں کے ساتھ ساتھ امریکی حکومت کے لیے بھی اسی طرح کے عہدوں پر کام کیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

گذشتہ سال طالبان کے اقتدار پر قابض ہونے کے بعد افغانستان سے باہر جانے کے لیے افغانیوں کی ایئرپورٹ پر بھیڑ

سنہ 2021 سے پہلے بھی جعفر کو طالبان کی طرف سے دھمکیاں ملی تھیں۔ یہ وہ وقت تھا جب اس گروپ کی جانب سے قتل و غارت کی ایک لہر کے دوران افغان سول سوسائٹی کے سرکردہ ارکان کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

انھوں نے موصول ہونے والے خطوط میں سے ایک ہمیں دکھایا، جس میں ان پر غیر ملکی حکومتوں کے جاسوس ہونے کا الزام لگایا گیا تھا اور دھمکی دی گئی تھی کہ انھیں ’اسلامی عقیدے سے غداری پر قتل کر دیا جائے گا۔‘

پچھلے سال اگست سے لے کر اب تک جعفر سات مرتبہ اپنی رہائش تبدیل کر چکے ہیں۔

انھوں نے رواں سال کے شروع میں اپنے خاندان کو بھیجا گیا ایک سمن ہمیں دکھایا، جس میں طالبان کی وزارت داخلہ کی طرف سے انھیں تفتیش کے لیے پولیس سٹیشن پہنچنے کے لیے کہا گیا تھا۔ انھیں ایسے تین خطوط موصول ہوئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’میں ذہنی تناؤ اور صدمے کی وجہ سے ہسپتال میں ہوں۔ میں سو بھی نہ پا رہا ہوں۔ ڈاکٹر نے مجھے زیادہ قوت والی دوائیں دی ہیں لیکن ان سے بھی زیادہ فائدہ نہیں ہو رہا۔ میری بیوی بھی ڈپریشن کا شکار ہے۔ میں اپنے بچوں کو سکول نہیں بھیج رہا ہوں۔ مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ پہچان نہ لیے جائیں۔‘

جعفر کو امریکہ سے خصوصی امیگرینٹ ویزا (ایس آئی وی) دینے سے انکار کر دیا گیا کیونکہ وہ اپنے سپروائزر سے سفارشی خط نہیں لے سکے اور ان کی کووڈ 19 سے موت ہو گئی۔

افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد انخلا کے لیے پھیلی افراتفری کے دوران جعفر کو برطانیہ کے ایک افسر نے ہوائی اڈے پر بلایا تھا۔ اپنے چھوٹے بچوں اور بیوی کے ساتھ وہ چھ گھنٹے تک ایئرپورٹ کے باہر ایک بس میں بیٹھے رہے۔

’میرے بیٹے کی طبیعت خراب ہونے لگی لیکن ہم بس کی کھڑکیاں بھی نہیں کھول سکتے تھے کیونکہ باہر جانے کے لیے گاڑی کے باہر موجود بیتاب افراد اندر داخل ہونے کی کوشش کریں گے۔ طالبان ہوائی فائرنگ کر رہے تھے۔ میرے بیٹے نے یہ سب دیکھا اور اسے بہت صدمہ پہنچا۔‘

یہ اسی دن کی بات ہے جب ہوائی اڈے پر خودکش حملہ آوروں نے حملہ کیا تھا جس میں 180 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

برطانیہ کا زمینی انخلا کا عمل مکمل ہو گیا اور جعفر اور ان کا خاندان افغانستان سے نہیں نکل سکا۔

اس کے بعد سے انھیں اے آر اے پی سکیم کے لیے اپنی درخواست کے جواب میں حکومت برطانیہ سے صرف ایک کیس نمبر موصول ہوا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’میں نے ان کے ساتھ کام کیا۔ میں نے انھیں سہولیات فراہم کیں۔ زمین پر ہمارے افغان باشندے ان (غیر ملکی شہریوں) سے نفرت نہیں کرتے تھے کیونکہ ہم نے ان لوگوں کو پراجیکٹس کی اجازت دینے پر راضی کیا تھا۔ ہمیں دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا اور اب میں اس حالت میں رہ گیا ہوں۔ میرے پاس دنیا میں کوئی جگہ نہیں، جہاں میں حفاظت اور وقار کے ساتھ رہ سکوں۔‘

یہ کہتے ہوئے ان کی آواز کانپ اٹھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

کہا جاتا ہے کہ برطانیہ کے لیے کوئی 2850 افراد نے مترجم کا کام کیا ہے

انھوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا ’میرے بچوں کا مستقبل کیا ہو گا؟ میری بیٹی پڑھ نہیں سکتی۔ میں نے اس کے لیے بڑے خواب دیکھے تھے۔ کیا میرے بیٹے انتہا پسند بن جائیں گے؟ میں (خود سے) پوچھتا رہتا ہوں کہ میں انھیں اس دنیا میں لایا ہی کیوں؟ اگر یہی ان کا مستقبل ہونے والا ہے تو ہو سکتا ہے کہ وہ زندہ نہ رہیں۔‘

ہم نے کم از کم مزید تین دوسرے لوگوں سے بات کی جنھوں نےحکومت برطانیہ کے ساتھ کام کیا تھا۔ ان میں سے ایک نے جنگی مترجم کے طور پر کام کیا تھا جو برطانوی فوجیوں کے ساتھ محاذ پر گیا تھا۔ ان سب نے ان لوگوں کی طرف سے دھوکہ دہی کے احساس کی بات کی جس کے لیے انھوں نے اپنی جانیں خطرے میں ڈالیں۔

برطانیہ کی حکومت نے گذشتہ سال اگست میں 15,000 لوگوں کو افغانستان سے نکالا تھا اور اس کے بعد سے 5,000 مزید لوگوں کو نکالا گیا لیکن اس کے باوجود ہزاروں اب بھی نکالے جانے کے منتظر ہیں اور ہر دن خوف کے عالم میں جی رہے ہیں۔

نوریہ نے کہا کہ ’میں برطانیہ کی حکومت کے لیے کام کر کے فخر محسوس کرتی تھی لیکن مجھے اب اس پر افسوس ہے۔ کاش میں ان کے لیے کبھی کام ہی نہ کیا ہوتا کیونکہ انھوں نے ہماری زندگی اور ہمارے کام کی قدر نہیں کی اور ہمیں پیچھے چھوڑ کر ہمارے ساتھ ظلم کیا۔‘

اس تحریر میں شامل لوگوں کے ناموں کو ان کی حفاظت کے پیش نظر بدل دیا گیا ہے۔