نوپور شرما کا متنازع بیان: القاعدہ کی انڈین مسلمانوں پر تنقید، ’ہندو انتہا پسندوں‘ کے خلاف لڑنے کی تجویز

  • بی بی سی مانیٹرنگ
  • بی بی سی
القاعدہ

،تصویر کا ذریعہNAwai Ghazwai Hind

دہشت گرد تنظیم القاعدہ نے انڈیا کے مسلمانوں پر زور دیا ہے کہ وہ پیغمبرِ اسلام سے متعلق حالیہ متنازع بیانات اور دیگر مبینہ مسلم مخالف پالیسیوں کے خلاف لڑیں۔

تنظیم کے بیان میں مسلمانوں کو ’عاجزی‘ کا مظاہرہ کرنے پر شرم دلائی گئی ہے۔

القاعدہ برِصغیر کا یہ بیان اس گروہ کے اردو میگزین نوائے غزوہ ہند کے ادارے میں سامنے آیا ہے۔ یہ اداریہ 14 اگست کو اس کی آفیشل ویب سائٹ پر شیئر کیا گیا تھا اور ٹیلی گرام میسجنگ ایپلیکشن پر اس کے حامیوں نے اسے خوب شیئر کیا۔

القاعدہ کا برصغیر سے منسلک گروپ سنہ 2012 میں شروع کیا گیا تھا اور مبینہ طور پر افغانستان، پاکستان، انڈیا، میانمار اور بنگلہ دیش میں اس کی موجودگی یا سرگرمیاں ہیں۔

واضح رہے کہ انڈیا کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے دو رہنماؤں کی طرف سے پیغبر اسلام سے متعلق متنازع بیانات دیے گئے تھے۔

بی جے پی کی سرکاری ترجمان نوپور شرما نے ایک ٹی وی شو میں پیغمبر اسلام سے متعلق متنازع بیان دیا تھا جبکہ حکمراں جماعت سے ہی تعلق رکھنے والے ایک اور رہنما نوین جندل نے، جو پارٹی کے میڈیا ونگ کے سربراہ بھی تھے، اس معاملے پر ٹویٹ کیا تھا۔

دونوں رہنماؤں نے اپنے بیانات پر بعد میں معذرت بھی کی لیکن بی جے پی نے نوپور شرما کی پارٹی رکنیت معطل کر دی جبکہ نوین جندل کو بھی پارٹی سے نکال دیا گیا۔

سات صفحات پر مشتمل اس اداریے میں کہا گیا ہے کہ انڈین سیاستدان نوپور شرما کے پیغمبرِ اسلام کے متعلق بیانات پر انڈین مسلمانوں اور مسلم اکثریتی ریاستوں کا ردِ عمل کمزور تھا۔

اس میں ’ہندو انتہا پسندوں‘ اور انڈین حکومت کے خلاف ’جہاد‘ کو مسلمانوں کے لیے انڈیا میں اپنے مذہب اور حقوق کے تحفظ کا واحد ذریعہ قرار دیا گیا۔

القاعدہ برِصغیر نے انڈین مسلمانوں کو ہر ممکن اسلحہ اکٹھا کرنے اور قریبی ممالک اور خطوں میں جہادی تنظیموں میں شامل ہونے کی تجویز دی ہے تاکہ وہ تربیت حاصل کر سکیں اور واپس اپنے ملک جا کر مزاحمت میں حصہ لے سکیں۔

تاہم اداریے میں تربیت کے حصول کے لیے مسلمانوں کو القاعدہ کی سخت حریف شدت پسند تنظیم نام نہاد دولتِ اسلامیہ میں شمولیت سے سختی سے روکا گیا جس کی انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں کچھ حد تک موجودگی ہے جبکہ پاکستان اور افغانستان میں یہ کافی سرگرم ہے۔

،تصویر کا ذریعہNUPUR SHARMA/TWITTER

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

اداریے میں دولتِ اسلامیہ کو ’خارجیوں‘ کا گروہ قرار دیا گیا۔

اداریے میں نوپور شرما کے تبصروں کی حمایت کرنے والے شخص کی دو انڈین مسلمانوں کے ہاتھوں 28 جون کو ہلاکت کی تعریف کی گئی۔

اس کے بارے میں کہا گیا کہ یہ پیغمبر کی شان میں گستاخی کا واحد منھ توڑ جواب ہے اور اداریے میں دیگر انڈین مسلمان نوجوانوں کے ردِعمل کو ناکافی قرار دیا گیا۔

اس کے علاوہ اس بیان میں ’ہندو انتہا پسندوں‘ کی سرگرمی کا موازنہ انڈین مسلمانوں کی مبینہ لاچاری یا بے فکری سے بھی کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

مضمون میں کہا گیا کہ ہندو ’انتہا پسند‘ اپنی لڑکیوں کو بھی مسلمانوں کے خلاف عسکری تربیت فراہم کر رہے ہیں جبکہ مسلمانوں کے پاس اپنے آپ کو بچانے کے لیے کوئی منصوبے نہیں۔

اسی طرح القاعدہ برِصغیر نے مسلم اکثریتی ممالک کی جانب سے ’علامتی‘ مذمت پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ اس کا مقصد انڈیا کے ساتھ تعلقات اور باہمی مفادات کو خراب ہونے سے بچانا ہے۔

واضح رہے کہ جون کے اوائل میں القاعدہ برِصغیر نے پیغمبرِ اسلام کے بارے میں متنازع بیان کے بعد انڈیا میں حملوں اور بم دھماکوں کی دھمکی دی تھی۔