ایل او سی:15 دن سے جاری جھڑپیں ختم

Image caption جھڑپیں ختم ہونے کا اعلان انڈین آرمی جنرل چھاجر نے کیا

کشمیر کو پاکستان اور بھارت کے درمیان تقسیم کرنے والی لائن آف کنڑول کے بھارتی علاقے میں بھارتی فوج نے شدت پسندوں کے ساتھ اب تک کے طویل ترین مسلح تصادم ختم ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارتی فوج کی شمالی کمان کے سربراہ لیفٹنٹ جنرل سنجے چھاجر نے جموں کشمیر کے گورنر کے ساتھ ملاقات کے بعد آپریشن ختم کرنے کا اعلان سرینگر میں کیا۔

جنرل چھاجر نے بتایا: ’لائن آف کنٹرول پر دونوں ملکوں کی افواج آمنے سامنے ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں دراندازوں کا یہاں داخل ہونا پاکستانی فوج کی مدد کے بغیر ممکن ہی ہے۔‘

لیکن اس طویل آپریشن کے بارے میں فوج نے تفصیلات فراہم نہیں کیں اور آزاد ذرائع سے اس تصادم کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ فوج کا دعویٰ ہے کہ تین الگ الگ مواقع پر اس تصادم کے دوران اُنیس مسلح دراندازوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔

نئی دلی میں ایک تقریب کے بعد بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بکرم سنگھ نے کہا کہ مارے گئے دراندازوں کی لاشیں مکمل طور پر برآمد نہیں ہوسکتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے تصادموں میں درنداز اکثر اوقات ساتھیوں کی لاشیں ساتھ لے جاتے ہیں۔

واضح رہے کشمیر میں تعینات بھارتی فوج کے کمانڈر لیفٹننٹ جنرل گورمیت سنگھ نے دعویٰ کیا تھا کہ چوبیس ستمبر کو شمالی کشمیر کے کپوارہ ضلع میں کیرن سیکٹر کے قریب ایک تصادم کے دوران بارہ دراندازوں کو ہلاک کردیا جس کے بعد تصادم شروع ہوا ۔ اس تصادم کے بارے میں بھارتی میڈیا میں یہ قیاس آرائیاں بھی کی گئیں کہ لداخ خطے میں پاکستانی افواج اور مسلح دارندازوں کی جارحیت کی طرز پر ایک نیا حملہ کیا گیا ہے۔

اس طویل تصادم کو بھارت کی سب سے بڑی اپوزیشن بھارتیہ جنتا پارٹی نے بھی موضوع بنایا اور کانگریس حکومت سے کہا کہ وہ سرحد پار سے دہشت گردی کے منصوبوں کے خاتمہ تک پاکستان کے ساتھ تعلقات استوار نہ کرے۔ کیرن سیکٹر کے تصادم کی خبریں نیویارک میں پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کی ملاقات کے فوراً آنا شروع ہوئیں اور بھارتی میڈیا نے پندرہ سال قبل کرگل میں ہوئی لڑائی کے ساتھ اس کا موازنہ شروع کردیا۔

واضح رہے فوج نے ہلاک کیے گئے دراندازوں کی تحویل سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولی بارود کی برآمدگی کا دعویٰ کیا ہے لیکن ان کی لاشوں کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کی جارہی ہیں۔ کیرن کے دشوار گزار اور جنگ زدہ خطے میں جو کچھ بھی ہورہا ہے اس کی اطلاعات فوج کے حوالے سے ہی موصول ہورہی ہیں، یہی وجہ ہے اور اس آپریشن کے بارے میں طرح طرح کی قیاس آرائیاں ہورہی ہیں

اسی بارے میں