خلیجِ بنگال میں شدید سمندری طوفان کا خطرہ

Image caption مچھیروں سے کہا گیا ہے کہ وہ سمندر میں نہ جائیں اور اطلاعات کے مطابق دونوں ریاستوں میں شدید بارش جاری ہے

بھارت میں خلیجِ بنگال میں آنے والے ایک بہت بڑے سمندری طوفان پایلن سے نمٹنے کی تیاریاں کی جا رہی ہے۔

سمندری طوفان پایلن کو ماہرِ موسمیات نے ’انتہائی شدید‘ طوفان کہا ہے اور یہ سنیچر کے روز بھارتی ریاستوں اڑیسہ اور آندھرا پردیش پہنچے گا۔

محکمہِ موسمیات کی پیش گوئی ہے کہ یہ طوفان زمین تک پہنچنے پر 205 سے 215 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہوائیں اپنے ساتھ لے کر آئے گا۔

1999 میں اڑیسہ میں ایک شدید سمندری طوفان آیا تھا جس سے دس ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اطلاعات کے مطابق ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے اور امدادی کارروائیوں کے لیے فوج تیار ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ طوفان سے جو علاقے متاثر ہوں گے ان کے لیے ہیلی کاپٹر اور اشیائے خورد و نوش تیار کر لی گئی ہیں۔ مچھیروں سے کہاگیا ہے کہ وہ سمندر میں نہ جائیں اور اطلاعات کے مطابق دونوں ریاستوں میں شدید بارش جاری ہے۔

اڑیسہ میں حکام کا کہنا ہے کہ وہ ممکنہ متاثرہ افراد کے لیے عارضی پناہ گاہیں تیار کر رہے ہیں۔ قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کے اہل کار سوریا نارائن پترا نے ایک مقامی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم قدرت سے لڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم اس مرتبہ بہتر انداز میں تیار ہیں۔ ہم نے 1999 سے بہت کچھ سیکھا ہے۔‘

بھارت میں نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کا مشرقی ساحل اور بنگلہ دیش میں اکثر اپریل اور نومبر کے مہینوں کے درمیان سمندری طوفان آتے رہتے ہیں جن کی وجہ سے جانی اور مالی نقصان ہوتا ہے۔

دسمبر 2011 میں جنوبی ریاست تمل ناڈو میں آنے والے ’تھیں‘ نامی سمندری طوفان سے درجنوں افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں