دفاعی معاہدے پر امریکہ اور افغانستان کے درمیان مذاکرات جاری

Image caption کیری اور کرزئی کے درمیان ملاقات میں لطیف محسود کا معاملہ بھی زیر بحث رہا

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے جمعہ کو کابل میں افغان صدر حامد کرزئی سے ملاقات کی جس میں سنہ دو ہزار چودہ کے بعد افغانستان میں امریکی فوجیوں کی موجودگی کے بارے میں دفاعی معاہدے کی ان دو نکات پر بات ہوئی جن سے یہ پورا معاہدہ ہی خطرے میں پڑگیا ہے۔

افغانستان کے دارالحکومت سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ صدر کرزئی اور جان کیری کے درمیان ملاقات میں ان نکات پر کوئی پیش رفت ہوئی ہے کہ نہیں۔

امریکہ چاہتا ہے کہ اس اہم نوعیت کا دفاعی معاہدے کو اکتوبر کے اختتام تک طے کر لیا جائے۔ دوسری جانب افغان صدر حامد کرزئی کہہ چکےہیں کہ وہ آئندہ سال اپریل میں صدارتی انتخابات کے بعد تک انتظار کر سکتے ہیں۔۔

اس معاہدے سے ہی سنہ دو ہزار چودہ کے بعد زیادہ تر غیر ملکی فوجوں کے افغانستان سے چلے جانے کے بعد اس بات کا تعین ہوگا کہ امریکی فوجی افغانستان میں کیسے رہیں گے۔ معاہدے طے کرنے میں ناکامی کی صورت میں تمام امریکی فوجیوں کو افغانستان سے واپس جانا پڑے گا جس کو امریکی ’زیرو آپشن‘ یا بعید از امکان قرار دے رہے ہیں۔

کابل روانگی کے وقت امریکی وزارتِ خارجہ کے حکام نے کہا کہ اس معاہدے کے طے ہونے کا انحصار اب افغان حکومت پر ہے اور اس میں وقت بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ وقت گزرنے کے ساتھ منصوبہ بندی کے لیے وقت کم رہ جائے گا۔

معاہدے کی دو نکات پر عدم اتفاق اس معاہدے کےطے پانے میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔

ان میں سے ایک امریکہ کا یہ مطالبہ ہے کہ امریکی فوج کو انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں آزادانہ طور پر کرنے کی اجازت حاصل ہو۔ یہ ایک ایسا مطالبہ ہے جس سے کرزئی حکومت ایک عرصے سے نالاں ہے۔ افغان حکام چاہتے ہیں کہ امریکہ افغان سکیورٹی فورسز کو معلومات فراہم کر دیں اور وہ اس پر فوجی کارروائی کریں۔

دوسری وجہ تنازع امریکی حکومت کا کسی غیر ملکی جارحیت کی صورت میں افغانستان کو تحفظ فراہم کرنے سے انکار ہے کیونکہ یہ شرط امریکہ کو پاکستان کے خلاف براہ راست فوجی تصادم میں الجھا سکتی ہے۔

صدر کرزئی سے اس ملاقات میں جان کیری کے ساتھ افغانستان میں امریکی سفیر جمیز کنگہم اور افغانستان میں امریکی فوج کے اعلیٰ ترین کمانڈر جوزف ڈفورڈ بھی موجود تھے۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے جمعہ کو اپنی ایک خبر میں کہا کہ وائٹ ہاؤس افغانستان سے طویل المعیاد دفاعی معاہدے کو ترک کرنے پر آمادہ ہو رہا ہے۔

اخبار کے مطابق امریکی وزارتِ دفاع صبر کی تلقین کر رہی ہے جبکہ باقی امریکی انتظامیہ کرزئی کے رویے سے تنگ آ گئی ہے اور افغانستان ان کی نظر میں اہمیت کھوتا جا رہا ہے۔

عراق میں بھی امریکی فوجیوں کو مقامی قوانین سے استثنیٰ دینے کے معاملے پر عدم اتفاق سے معاہدہ طے نہیں پا سکا تھا اور تمام امریکی فوجیوں کو عراق سے واپس بلا لیا گیا تھا۔

اسی بارے میں