امریکہ، افغانستان میں سلامتی کے دو طرفہ معاہدے پر اتفاق

Image caption صدر کرزئی کا کہنا ہے کہ متفقہ معاہدے کو مرکزی جرگے اور پارلیمان کے سامنے پیش کیا جائے گا

امریکہ اور افغانستان کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سلامتی کے دوطرفہ معاہدے پر طویل مذاکرات کے بعد اتفاق ہوگیا ہے تاہم کچھ معلامات میں ابھی بھی اختلافِ رائے ہے۔

صدر حامد کرزئی کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک میں اختلاف کی وجہ دو ہزار چودہ میں نیٹو افواج کے انخلاء کے بعد افغانستان میں تعینات رہنے والے امریکی فوجیوں کے لیے افغان عدالتوں سے استثنیٰ کا معاملہ ہے۔

ادھر امریکہ کے وزیرِخارجہ جان کیری کا کہنا ہے کہ افغانستان کی خودمختاری کا احترام کیا جائے گا۔

امریکی افواج کے انخلاء کےمعاہدے پر اختلافات

امریکہ اِس معاہدے کو جلد از جلد طے کرنا چاہتا ہے جس کے تحت، دو ہزار چودہ کے انخلاء کے بعد بھی، پانچ سے دس ہزار امریکی فوجی افغانستان میں رہ کر، افغان فورسز کو تربیت دینے اور القاعدہ کے خلاف کارروائیوں کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔

صدر حامد کرزئی نے امریکہ کے ساتھ، سلامتی کے معاہدے پر مذاکرات اس سال جون میں قطر میں طالبان کا دفتر کھولے جانے کے بعد معطل کر دیے تھے۔

اس کے علاوہ مذاکرات میں پر اثر انداز ہونے والا ایک اور واقعہ امریکی افواج کی جانب سے ایک سینیئر پاکستانی طالبان کمانڈر کی گرفتاری بھی تھا۔

امریکہ نے ایک فوجی کارروائی میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ایک اہم کمانڈ لطیف محسود کو پکڑ لیا تھا جبکہ افغان صدر نے امریکی وزیر خارجہ سے لطیف محسود کو افغان سکیورٹی فورسز سے چھڑا کر اپنے ساتھ لے جانے کے واقعے پر احتجاج کیا تھا۔

افغانستان کا موقف ہے کہ لطیف محسود طالبان کے ساتھ مذاکرات میں اہم کردار ادا کر رہے تھے اور انہیں اس سلسلے میں کئی ماہ کی کوششوں کے بعد آمادہ کیا جا سکا تھا۔

تفضیلات کے مطابق امریکی فوج نے یہ کارروائی لوگر صوبے میں اس وقت کی جب افغان فوج کے ایک قافلے میں لطیف محسود کو افغان خفیہ ادارے کے حکام سے بات چیت کے لیے لے جایا جا رہا تھا۔ امریکی فوج لطیف محسود کو بگرام کے فوجی اڈے میں لے گئی ہے۔

سنیچر کے روز اتفاقِ رائے سے تیار کیے گئے سلامتی کے دو طرفہ معاہدے پر عملدرآمد دو ہزار چودہ میں بین الاقوامی افواج کے افغانستان سے انخلا کے بعد کیا جائے گا۔

البتہ معاہدے کی تفصیلات ابھی منظرِ عام پر نہیں لائی گئیں، تاہم اطلاعات کے مطابق اس تنازع کا حل نہیں مل سکا کہ دو ہزار چودہ کے بعد افغانستان میں رہ جانے والے امریکی فوجیوں کی جانب سے ممکنہ مجرمانہ کارروائی کی صورت میں ان کی قانونی حیثیت کیا ہوگی۔

صدر کرزئی کا کہنا ہے کہ متفقہ معاہدے کو مرکزی جرگے اور پارلیمان کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

جان کیری کا کہنا ہے کہ اگر افغانستان میں رہ جانے والے فوجیوں کی قانونی حیثیت کا معاملہ حل نہ ہوا تو سلامتی کا دو طرفہ معاہدہ نہیں ہو سکے گا۔

اسی بارے میں