اڑیسہ:طوفان کے بعد تباہی اور اضطراب

Image caption زندہ بچ جانے والے کے لیے ابھی کچھ دیر اور بقاء کی جدوجہد جاری رہے گی

طوفان جا چکا ہے لیکن اس کی شدت کے اثرات چاروں طرف دیکھے جا سکتے ہیں۔

ٹیلی فون اور بجلی کے گرے ہوئے کھمبے، گھروں، سکولوں اور دیگر عمارتوں کی منہدم دیواریں اور کرچی کرچی شیشے۔ سڑکوں اور گلیوں میں طوفان کے باعث اكھڑے ہوئے درخت۔

اس طوفان میں گجم ضلع سب سے زیادہ متاثر ہوا۔

یہاں ٹریفک کے عوامی ذرائع پوری طرح ٹھپ پڑے ہیں۔ کھانے پینے کے تمام ہوٹل اور ڈھابے بند ہیں۔ دُرگا پوجا کے لیے بنائے گئے سارے خیمے اور پنڈال اجڑ گئے ہیں۔

علاقے کے تمام رہائشی ہوٹل بند ہیں۔ ہم جس ہوٹل میں ٹھہرے ہیں اس میں بھی کافی نقصان ہوا ہے۔ کھڑکیوں اور دروازوں کے شیشیے ٹوٹ گئے ہیں۔

بجلی تو کل صبح سے ہی غائب ہے۔ گوپال پور اور بھوونیشور کے راستے پر طویل ٹریفک جام ہے۔

لوگ خود کو خوش قسمت سمجھتے ہیں کہ فی الحال یہاں بارش رکی ہوئی ہے۔

اڑیسہ کا یہ علاقہ کسی جنگ کے بعد برباد ہوئے شہر جیسا نظر آ رہا ہے۔ لوگوں کے چہروں پر طوفان کے خوف کے بعد اب پریشانی نمایاں ہے۔

جن لوگوں کے گھروں کی چھتیں اڑ گئیں، جن کے مال و اسباب بکھر گئے ہیں وہ انہیں ایک ایک کر کے اکٹھا کرنے کی کوشش کرتے دیکھے گئے، کیونکہ طوفان تو گذر جاتے ہیں لیکن زندگی نہیں رکتی۔

اڑیسہ کے ساحلی علاقوں سے تقریبا ڈیڑھ لاکھ لوگوں کو محفوظ مقامات کی طرف منتقل کیا گیا ہے۔ گوپال پور میں بھی امدادی کام جاری ہے۔

ساحل کے انتہائی قریب رہنے والے ایک ہزار مقامی افراد مقامی کیمپ میں منتقل کیے گئے ہیں۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق یہاں چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

زندہ بچ جانے والے لوگوں کے لیے بھی ابھی کچھ دیر اور بقاء کی جدوجہد جاری رہے گی۔

پرانا محاورہ ہے، ’طوفان کے بعد کا سناٹا‘ لیکن یہ سناٹا کتنا خطرناک ہو سکتا ہے اسے اس وقت اڑیسہ میں محسوس کیا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں