بھارت:’سمندری طوفان پائیلن سے 90 لاکھ افراد متاثر‘

بھارت میں حکام کا کہنا ہے کہ ملک کی مشرقی ساحلی ریاستوں اڑیسہ اور آندھرا پردیش میں سنیچر کو آنے والے سمندری طوفان سے کُل 90 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔

ادھر محفوظ مقامات پر منتقل کیے جانے والے دس لاکھ افراد کی اپنے گھروں کو واپسی کا عمل پیر کو شروع ہوگیا ہے۔

اڑیسہ سمندری طوفان کے بعد: تصاویر

پائیلن کا خطرہ اور نقل مکانی

پائیلن نامی اس طوفان سے ریاست اڑیسہ میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے اور ضلع گجم سب سے زیادہ متاثرہ ہوا ہے۔

طوفان کی بروقت اطلاع ملنے کی وجہ سے بھارتی تاریخ کے چند بڑے ریسکیو آپریشنز میں سے ایک میں دس لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا تھا اور یہی آپریشن شدید طوفان کے باوجود کم ہلاکتوں کی بڑی وجہ بنا۔

اڑیسہ میں حکام کے مطابق ریاست میں طوفان کی وجہ سے 21 اور آندھرا پردیش میں ایک شخص مارا گیا۔

طوفان کے بعد اب متاثرین اپنے اپنے علاقوں کی جانب لوٹ رہے ہیں تاہم ایک قابلِ ذکر تعداد ابھی کیمپوں میں ہی رہے گی کیونکہ ان کے مکانات گزشتہ چودہ برس میں آنے والے طاقتور ترین طوفان میں تباہ ہو چکے ہیں۔

خلیج بنگال میں اٹھنے والا یہ طوفان اڑیسہ کے ساحل سے سنیچر کی رات نو بجے ٹکرایا تھا اور اس وقت علاقے میں دو سو بیس کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلیں۔

اُڑیسہ میں سنہ انیس سو ننانوے میں ایک شدید سمندری طوفان آیا تھا جس سے دس ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے تاہم اس مرتبہ بروقت حکومتی اقدامات کی وجہ سے انتہائی کم جانی نقصان ہوا ہے۔

قومی آفات مینجمنٹ اتھارٹی کے نائب صدر ایم ششی ریڈی نے کہا ہے کہ ’جس طرح سے لوگوں کو محفوظ مقام پر پہنچایا گیا اس سے ہم مطمئن ہیں‘۔ طوفان سب سے پہلے گوپال پور سے ٹکرایا تھا اور وہاں کے 90 سے 95 فیصد لوگوں کو محفوظ مقام پر پہنچایا گیا تھا۔

طوفان گزرنے کے بعد اڑيسہ کے وزیرِاعلیٰ نوین پٹنائیک نے کہا: ’بنیادی مقصد جانی نقصان کو کم سے کم کرنا تھا اور ایسا کرنے میں کامیابی ہوئی تاہم کروڑوں روپے کی املاک کو نقصان پہنچا ہے اور اب بحالی کا کام کیا جائے گا۔‘

طوفان کی وجہ سے ہوئی تباہی کے بارے میں تفصیلی معلومات دیتے ہوئے اڑیسہ میں ریونیو کے وزیر ایس این پاترو نے بتایا ہے کہ طوفان سے بارہ اضلاع کے ساڑھے چودہ ہزار دیہات میں ساڑھے 80 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں۔

ان کے مطابق طوفانی ہواؤں اور بارش نے سوا دو لاکھ سے زیادہ گھر تباہ کیے جبکہ پونے نو لاکھ لوگوں کو محفوظ مقام پر پہنچایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کھیتوں میں پانی بھر جانے کی وجہ سے پانچ لاکھ ہیکٹر سے زیادہ علاقے میں دھان کی کھڑی فصل تباہ ہوگئی ہے۔

اس کے علاوہ حکام کا کہنا ہے کہ آندھرا پردیش میں بھی متاثرین کی تعداد دس لاکھ کے لگ بھگ ہے۔

متاثرہ علاقوں میں بجلي کی حالت کے بارے میں توانائی کی وزارت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پائيلن کی وجہ سے بجلی کی ٹرانسمیشن میں کچھ رکاوٹ ہوئی لیکن اسے ٹھیک کر لیا گیا۔

بھارتی محکمہ موسمیات کے مطابق اب پائیلن کمزور پڑگیا ہے اور ہواؤں کی رفتار پینتالیس سے پچپن کلومیٹر تک رہ گئی ہے۔ محکمے کے مطابق طوفان اب چھتیس گڑھ، اڑيسہ کے کچھ حصوں اور جھارکھنڈ کے اوپر موجود ہے اور ہوا کے انتہائی کم دباؤ میں تبدیل ہو گیا ہے۔

اسی بارے میں