انڈیا ڈائری

اب سچن تندولکر کیا کریں گے؟

Image caption تندولکر نے یہ اعلان کر ہی دیا کہ وہ دو سو ٹیسٹ میچوں کے بعد ریٹائر ہوجائیں گے

سچن رمیش تندولکر کی بے مثال ٹائمنگ نے ہی ان کی بیٹنگ کو ان بلندیوں پر پہنچایا کہ انڈیا میں انہیں کرکٹ کا خدا کہا جانے لگا۔ لیکن دو تین سال سے ان کی ٹائمنگ نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا تھا، کچھ شاید عمر کا تقاضہ تھا اور کچھ مستقبل کا خوف کہ کرکٹ نہیں کھیلیں گے تو پھر کریں گے کیا؟

سب مانتے ہیں کہ جب انڈیا نے ممبئی میں ورلڈ کپ جیتا تو تندولکر کو اپنی ’بہترین سینس آف ٹائمنگ‘ کا مظاہرہ کرتے ہوئے کرکٹ کو خیر باد کہہ دینا چاہیے تھا۔ لیکن وہ یہ کہتے رہے کہ ابھی انہیں کرکٹ میں مزا آرہا ہے۔ یہ سچن کو کسی نے نہیں بتایا کہ صرف انہیں ہی مزا آرہا تھا!

لیکن ’خدا‘ کے سامنے یہ گستاخی کون کرتا؟

سنا یہ ہے کہ بورڈ کو جب معلوم ہوا کہ تندولکر اس وقت سے کھیل رہے ہیں جب موجودہ قومی ٹیم کے کئی کھلاڑی پیدا بھی نہیں ہوئے تھے، تو اسے یہ تکلیف دہ پیغام ان تک پہنچانا ہی پڑا۔

انجام کار تندولکر نے یہ اعلان کر ہی دیا کہ وہ دو سو ٹیسٹ میچوں کے بعد ریٹائر ہوجائیں گے۔ پہلے تو لگا کہ کہیں وہ دو سو میچ اور تو نہیں کھیلنا چاہتے، پھر تسلی ہوئی کہ اب صرف دو ہی اور باقی ہیں!

بہرحال، ایک دروازہ بند ہوتا ہے تو کہیں نہ کہیں دوسرا کھل جاتا ہے۔ اب راہول گاندھی نے یہ اعلان کیا ہے کہ پارلیمانی انتخابات کے بعد ملک میں ’نوجوانوں‘ کی حکومت بنے گی! سچن راہول کے ہم عمر ہیں، اس نئے کھیل میں جوانی آتی بھی ذرا دیر سے ہے اور ریٹائرمنٹ کی بھی کوئی پابندی نہیں! اگر سچن اس ٹیم میں شامل ہوتے ہیں تو وہ ایک جوانی سے دوسری میں قدم رکھ سکیں گے، یہ کھیل انہیں خوب راس آئے گا!

مستقبل کے بارے میں سچن جو بھی فیصلہ کریں، کرکٹ کے میدان پر ان کی عظمت کو سلام! ٹوئٹر پر کسی نے ٹھیک ہی کہا ہے کہ عمر بھلے ہی برابر ہو، سچن اپنا غیر معمولی سفر ختم کر رہے ہیں اور راہول شروع۔

تیل کی بچت

Image caption سیاستدانوں کے ارد گرد اتنی سکیورٹی ہوتی ہے کہ انہیں شاید یہ معلوم بھی نہ ہو کہ ان ٹرینوں میں دوسرے لوگ بھی سفر کرتے ہیں!

انڈیا میں پیٹرولیم کے وزیر ویرپا موئلی نے کچھ ایسا کر دکھایا ہے جس کی برصغیر میں سیاستدانوں سے آپ عام طور پر توقع نہیں کرسکتے۔ تیل بچانے کے لیے انہوں نے ہفتے میں ایک دن میٹرو سے دفتر جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

پیغام تو بلاشبہ اہم ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان کے ساتھ درجنوں کی تعداد میں ان کا حفاظتی اور نجی عملہ بھی چلتا ہے، جس سے میٹرو استعمال کرنے والے ’عام‘ لوگوں کو پریشانی ہوتی ہے۔

عام لوگوں کو پریشانی ہوتی ہے تو وہ گاڑی سے دفتر جاسکتے ہیں، اس کا مطلب یہ نہیں کہ مسٹر موئلی میٹرو سے سفر کرنا بند کردیں۔ ویسے بھی سیاستدانوں کے ارد گرد اتنی سکیورٹی ہوتی ہے کہ انہیں شاید یہ معلوم بھی نہ ہو کہ ان ٹرینوں میں دوسرے لوگ بھی سفر کرتے ہیں!

لیکن سوال یہ ہے کہ جس دن مسٹر موئلی میٹرو سے سفر کرتے ہیں، اس دن ان کی گاڑیوں کا قافلہ آفس جاتا ہے یا نہیں؟ کیونکہ اگر جاتا ہے تو زیادہ سمجھداری کی بات یہ ہے کہ انہیں میں بیٹھ کر دفتر چلے جائیں! تیل اگر بچے گا نہیں تو کم سے کم ضائع بھی نہیں ہوگا!

وزیرِاعظم بننے سے پہلے برطانیہ میں کنزرویٹو پارٹی کے لیڈر ڈیوڈ کیمرون ہفتے میں ایک دن سائیکل سے پارلیمان جاتے تھے۔ اور ان کا بریف کیس لے کر ان کی گاڑی پیچھے پیچھے آتی تھی۔

مگر مچھ کے انسانی حقوق!

Image caption راجہ بھیا پر ایک سینیئر پولیس افسر کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام تھا

اترپردیش میں سماج وادی پارٹی نے متنازع سیاستدان کنور رگھوراج پرتاپ سنگھ عرف راجہ بھیا کو دوبارہ کابینہ میں شامل کرلیا ہے۔ ان پر ایک سینیئر پولیس افسر کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام تھا جو بظاہر غلط ثابت ہوا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ راجہ بھیا قانون کی زیادہ پرواہ نہیں کرتے۔ ان کے بارے میں بہت سے قصے مشہور ہیں، کچھ جھوٹے کچھ سچے۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ ان کی کوٹھی میں ایک تالاب ہے جس میں انہوں نے مگرمچھ پال رکھے ہیں اور وہ اپنے دشمنوں کو اس تالاب میں ڈلوا دیتے ہیں!

راجہ بھیا کو اکثر اس الزام کو مسترد کرنا پڑتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے ہندی فلم ’شان‘ دیکھ کر یہ افواہ پھیلائی ہے۔

اس تالاب میں واقعی مگر مچھ ہوں یہ نہ ہوں، یہ افواہ مگر مچھوں کے ساتھ بھی زیادتی ہے، کیا ان کے انسانی حقوق نہیں ہوتے؟

اسی بارے میں