ایشیائی والدین میں بچوں کی تعلیم کا بخار

 سکول
Image caption کوریا کے گھروں میں مجموعی خرچ کا ستر فیصد حصہ بچوں کی پرائیوٹ تعلیم پر خرچ ہوتا ہے

چین کے ایک چھوٹے سے قصبے کے رہنے والے 18 سالہ ذہین طالبعلم زانگ ینگ کو ہیفی کی مشہور یونیورسٹی کے میڈیکل کالج میں داخلہ مل گیا تو یہ اس کے لیے بہت بڑی بات تھی لیکن ان کے والد یہ خبر برداشت نہ کر پائے۔ اپنی کامیابی کی خوشخبری جب انہوں نے اپنے گھر والوں کو سنائی تو ان کے والد نے کیڑے مار دوا کھا کر خود کشی کر لی۔

زانگ ینگ کے والد دو سال پہلے سٹروک کے سبب مفلوج ہوگئے تھے اور کام کرنے کے لائق نہیں تھے۔ انہیں یہ فکر تھی کہ وہ جو پہلے ہی سے قرض میں ڈوبے ہوئے ہیں اپنے بیٹے کے میڈیکل کالج کا خرچ کیسے برداشت کریں گے۔

زانگ ینگ کی کہانی ایک الگ واقعہ ہے لیکن مشرقی ایشیا میں زیادہ تر والدین اپنے بچوں کی بہترین تعلیم پر زیادہ سے زیادہ رقم خرچ کر رہے ہیں۔

جنوبی کوریا اور چین جیسے ممالک میں زیادہ تر لوگوں میں اپنے بچوں کی ’تعلیم کا بخار‘ عام ہے۔

کئی مرتبہ والدین سخت اور مشکل حالات میں بھی بچوں کی تعلیم کے لیے بڑے سے بڑا خرچ برداشت کرنے کے لیے تیار ہوتے ہیں اور بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے بیرون ملک بھیجنے کے لیے وہ اپنے گھر بار بھی فروخت کر دیتے ہیں۔گھر والے اپنے دوسرے خرچ بلکل کم کر دیتے ہیں۔

آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی میں ماہرِ بشریات اینڈریو کِپنِس کا کہنا ہے کہ بچوں کی تعلیم پر خرچ ہونے والی رقم وقت کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے۔

اینڈریو کِپنِس کا کہنا ہے کہ صرف درمیانے طبقے کے لوگ ہی نہیں بلکہ مزدور طبقے کے لوگ بھی چاہتے ہیں کہ ان کے بچے بہترین تعلیم حاصل کر کے معاشرے میں اپنا مقام بنائیں اور اس کے لیے وہ قرضوں میں ڈوب جاتے ہیں جو کئی بار ان کے لیے واپس کرنا مشکل ہوتا ہے۔

ایشیا میں تعلیم کے امور کے ماہر ٹاڈ میورر کا کہنا ہے کہ چین، جنوبی کوریا، تائیوان، ہانگ کانگ، سنگا پور، بھارت اور انڈنیشیا میں والدین بچوں کی تعلیم پر بہت زیادہ خرچ کرتے ہیں۔ پرائیویٹ سکولوں کی تعداد بڑھ گئی ہے جن میں گھنٹوں تک چلنے والی مہنگی ٹیوشن کے علاوہ دیگر سرگرمیوں کی فیس بھی والدین کے سر ہوتی ہے۔

بچوں کو چھوٹی سے چھوٹی عمر میں سکول اور نرسری میں بھرتی کرا دیا جاتا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق کوریا کے گھروں میں مجموعی خرچ کا ستر فیصد حصہ بچوں کی پرائیوٹ تعلیم پر خرچ ہوتا ہے۔

ماضی میں بیرونِ ملک تعلیم صرف دولت مند گھرانوں کا رواج تھا لیکن اب جلدی ترقی کے لیے دوسرے لوگ بھی اپنے بچوں کو بیرون ملک تعلیم کے لیے بھیجنے کی کوشش کرتے ہیں جس کے سبب والدین پر شدید مالی دباؤ رہتا ہے۔

والدین اپنی تمام جمع پونجی بچوں پر خرچ کر دیتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بچوں پر بھی ڈگری حاصل کرنے کے بعد جلدی ہی کمانے کا دباؤ رہتا ہے۔

ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ بڑی تعدا میں لوگ ڈگریاں حاصل کر رہے ہیں ملازمتیں کم ہیں اور یہ کہ بیرون ملک سے ڈگری حاصل کرنا پہلے کی طرح بہت بڑی حیثیت کی بات بھی نہیں رہی۔

اسی بارے میں