کوئلہ سکینڈل: منموہن سنگھ کو شاملِ تفتیش کیا جائے: اپوزیشن

وزیر اعظم منموہن سنگھ
Image caption وزیر اعظم منموہن سنگھ اس وقت کوئلہ امور کے وزیر بھی تھے

بھارت میں کوئلہ بلاکس کی الاٹمنٹ کے معاملے میں حزبِ اختلاف نے وزیر اعظم منموہن سنگھ کو شامل تفتیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

کوئلہ امور کے سابق سیکرٹری سی پی پاریکھ نے تفتیش کے دوران سی بی آئی کو بتایا ہے کہ کوئلہ بلاک کی الاٹمنٹ کے معاملے میں حتمی فیصلہ وزیراعظم کا تھا، لہذا ان کا نام بھی سازش میں شامل ہونا چاہیے۔

پی سی پاریکھ کے الزامات کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی نے ایک بار پھر وزیر اعظم کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

آٹھ سال پہلے اوڈشا میں ہونے والے دو کوئلہ بلاکس کی الاٹمنٹ کے معاملے میں بے ضابطگیاں کے الزام میں سی بی آئی نے ایک دن پہلے ہی صنعت کار کمار منگلم برلا اور پی سی پاریکھ کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔

سی بی آئی کی تفتیش

مقدمہ درج ہونے کے بعد سی بی آئی کی تحقیقاتی ٹیم نے ہڈكو کے دفتر سمیت ممبئی، دہلی، حیدرآباد اور بھونیشور میں چھ ٹھکانوں پر چھاپے مارے ہیں۔ اس میں حیدرآباد میں سی پی پاریکھ کا گھر بھی شامل ہے۔

پی سی پاریکھ نے یہ بھی کہا کہ ان کے خلاف لگائے گئے تمام الزامات بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت کے فیصلے میں کچھ بھی غلط نہیں تھا۔

پی سی پاریکھ نے نجی ٹی وی چینلز کو بتایا کہ ’حکومت کے فیصلے میں کچھ بھی غلط نہیں تھا۔ہم نے کافی شفاف اور صحیح فیصلہ لیا تھا میں یہ نہیں جانتا کہ سی بی آئی کو اس میں کیا سازش دکھائی دی ہے۔‘

پاریکھ نے یہ بھی کہا کہ ’اگر کوئی سازش ہے بھی، تو اس میں کئی لوگ شامل ہیں۔ كے ایم برلا نے پریزینٹیشن کیا تھا تو وہ ایک سازشی ہوئے۔ میں نے ان کے پریزنٹیشن کو دیکھا اور سفارش کی تو میں دوسرا سازشی ہوا۔، ایسے میں وزیر اعظم جو اس وقت کوئلہ امور کے وزیر بھی تھے، انہوں نے فیصلہ لیا تو انہیں تیسرا سازشی ہونا چاہیے۔‘

وزیر اعظم پر سوال

Image caption کیگ کے مطابق کوئلہ بلاک الاٹمنٹ میں ہونے والے گھپلوں سے ملک کو ایک لاکھ چھہتتر ہزار کروڑ روپے کا خسارہ ہوا ۔

سی پی پاریکھ نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر سی بی آئی کو کوئلہ بلاک الاٹمنٹ معاملے میں کوئی سازش لگتی ہے تو ایجنسی نے صرف صعنتکار برلا اور انہیں ہی کیوں ملزم بنایا ہے۔

پی سی پاریکھ کے بیانات کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی نے وزیر اعظم کوایک بار پھر نشانہ بنایا ہے۔ راجیہ سبھا میں پارٹی کے رہنما روی شنکر پرساد نے کہا کہ یہ وزیر اعظم اور ان کے دفتر کی ذمہ داری ہے اس لیے اس سلسلے میں نئے سرے سے تحقیقات کی جائیں۔

دوسری طرف، کانگریس نے کہا کہ معاملے کی تحقیقات سپریم کورٹ کی نگرانی میں جاری ہے اور حکومت تحقیقات میں پوری طرح سے مدد کر رہی ہے۔

وہیں کانگریس کے جنرل سکرٹری دگ وجے سنگھ نے کہا کہ پاریکھ آزاد انسان ہیں، لیکن انہیں اپنی بات سی بی آئی کے سامنے رکھنی چاہیے تھی۔

اربوں کا گھپلہ

بھارت میں سرکاری کھاتوں کی جانچ پڑتال کرنے والے ادارے کیگ کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ ایک لاکھ 86 ہزار کروڑ روپے کا گھپلہ ہے۔

کیگ نے کہا تھا کہ نجی کمپنیوں کو کوئلے کی كانیں ملنے سے حکومت کو 1.86 لاکھ کروڑ کا نقصان ہوا ہے ان كمپنيوں کو کوئلہ کی کانیں بغیر کوئی بولی لگائے دی گئی تھیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ اگر ان کوئلہ کانوں کی نیلامی کی گئی ہوتی تو حکومت کو اتنا نقصان نہیں اٹھانا پڑا ہوتا۔

اسی بارے میں