افغانستان: بلخ کی نہاں تاریخ

Image caption بلخ میں پندرہویں صدی کی مسجد خواجہ پارسا کی بحالی کا کام کیا جا رہا ہے

افغانستان کے شمالی صوبے بلخ میں دنیا کے کئی تاریخی مقامات ہیں اور خود بلخ شہر کو دنیا بھر میں اہمیت حاصل رہی ہے۔ ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصہ قبل لِن اوڈونل صوبہ بلخ گئیں تھیں اور اب وہ دوبارہ آثارِ قدیمہ کے ماہرین کی ایک ٹیم کے ساتھ اس صوبے میں آئی ہیں۔

بلخ کے تاریخی تجارتی راستے کی وجہ سے یہاں خانہ بدوشوں، جنگجوؤں اور مہاجرین کا آنا جانا رہا ہے۔ اور یہ لوگ جاتے ہوئے کئی راز یہیں چھوڑ گئے جو اب سامنے آ رہے ہیں۔

صوبہ بلخ کے باعث چار ہزار سال سے افغانستان کو ایشیا میں سیاسی، معاشی، مذہبی اور سماجی لحاظ سے اہمیت حاصل ہے۔

میں سنہ 2001 میں یہاں آخری بار آئی تھی۔ اس وقت میں ازبکستان سے آمو دریا پار کر کے آئی اور اس وقت امریکہ اور اتحادی فوجیں طالبان پر بمباری کر رہی تھیں۔

بارہ سال بعد میں افغان اور فرانسیسی آثارِ قدیمہ کے ماہرین کی ٹیم کے ساتھ میں دنیا کے قدیم ترین، شاندار اور تاریخی مقامات دیکھنے آئی ہوں۔ یہ وہ مقامات ہیں جو نہ صرف افغانستان کے شاندار ماضی پر روشنی ڈالتے ہیں بلکہ ہندوستان سے چین تک انسانی تہذیب کی ترقی پر بھی روشنی ڈالتے ہیں۔

Image caption زادیان میں ایک خوبصورت مٹی کا ایک عزیم الشان مینار ہے جس کی تعمیر بارہویں صدی میں کی گئی تھی

باختر کے میدانی علاقے افغانستان کی خفیہ تاریخ کا مجموعہ ہیں۔ اس ریگستان میں سکندرِ اعظم کی فوج نے پیش قدمی کی، بلخ کے بادشاہ کو قتل کیا اور اس کی خوبصورت بیٹی سے شادی کی۔ اس کے تقریباً پندرہ سو سال بعد ایک اور فاتح چنگیز خان نے اس علاقے کو زیرِ نگیں کیا۔

35 سو سال قبل زرتشت مذہب کے بانی بھی اسی علاقے میں رہے اور ممکنہ طور پر یہیں ان کی وفات ہوئی۔ تیرہویں صدی کے فارسی شاعر رومی بھی اسی بلخ میں پیدا ہوئے اور کئی افغانوں کا یہ کہنا ہے کہ ان کی تدفین بھی بلخ ہی میں ہوئی۔

اس علاقے میں مٹی سے ایک دیوار تعمیر کی گئی تاکہ بلخ کے زرخیز علاقوں میں صحرائی آبادی کو داخل ہونے سے روکا جا سکے۔ فرانسیسی آثارِ قدیمہ کے ماہرین اس علاقے میں اسی مٹی کی دیوار کا نمونہ لینے آئے ہیں جو اس وسیع قلعے کے ارد گرد کھڑی ہے۔

اس دیوار کی اصل شکل صرف سیٹیلائٹ سے لی گئی تصاویر ہی سے ظاہر ہو سکتی ہے۔

ماہرین نے اس دیوار کی بنیادوں کے قریب ایک گہرا گڑھا کھودا جس میں دھاتی پائپ ڈال کر گہرائی سے مٹی نکالی گئی تاکہ سائنسدان یہ معلوم کرسکیں کہ اس کی بنیادوں میں موجود دھات کوارٹز پر آخری بار روشنی کب پڑی تھی۔ سائنسدانوں کا موجودہ اندازہ ہے کہ اس پر آخری بار روشنی 25 سو سال قبل پڑی تھی۔

یہاں سے قریب ہی دولت آباد کا چھوٹا سا گاؤں زادیان واقع ہے۔ اس علاقے میں ہم صرف سکیورٹی کے ساتھ جا سکتے ہیں کیونکہ یہاں طالبان بہت متحرک ہیں۔

زادیان میں مٹی کا ایک خوبصورت اور عظیم الشان مینار ہے۔ یہ مینار بارہویں صدی میں تعمیر کیا گیا تھا اور اس کو کوئی نام نہیں دیا گیا تھا۔

یہ مینار نہ صرف چنگیز خان کی فوج کی نظروں سے بچا رہا بلکہ یہاں سیاحت کے لیے آنے والوں کی نظر بھی شاید اس شاندار مینار پر نہ پڑ سکی۔

Image caption 35 سو سال قبل زرتشت مذہب کے بانی بھی اسی علاقے میں رہے اور ممکنہ طور پر یہیں ان کی وفات ہوئی

یہاں سے تھوڑے ہی فاصلے پر چشمۂ شفا کے نخلستان میں واقع قربان گاہ میں ایک بہت بڑا پتھر ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہاں زرتشت عبادت کیا کرتے تھے۔ اس پتھر کے اوپر ایک سوراخ ہے جہاں پر زرتشت تیل ڈالتے تھے اور آگ لگاتے تھے۔ یہ آگ جلتی رہتی تھی اور اسے دور دراز علاقوں سے بھی دیکھا جا سکتا تھا۔

فرانسیسی ماہرین کا خیال ہے کہ ہو سکتا ہے اسی مقام پر سکندرِ اعظم نے شہزادی روکسین یا رخسانہ سے شادی کی ہو۔

فرنسیسی آثارِ قدیمہ کے ماہرین بلخ میں گذشتہ سو سال سے کام کر رہے ہیں البتہ ان کے کام میں جنگوں نے کئی بار خلل ڈالا ہے۔

آخری بار 90 کی دہائی میں طالبان کی جانب سے خلل آیا کیونکہ طالبان کے مطابق تاریخ کا آغاز ہی ساتویں صدی میں اسلام کے آنے کے بعد ہوا ہے۔

افغانستان میں طالبان نے ہی بامیان میں گوتم بدھ کے مجسموں کو تباہ کیا تھا۔

آج ماہرین اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ہزاروں سال تک ایک چوتھائی دنیا میں خوشحالی اور فلسفہ پھیلانے میں افغانستان کا بہت اہم کردار ہے۔

تاریخی بلخ شہر کا شمار دنیا کے قدیم ترین شہروں میں ہوتا ہے اور سات سال کی کھدائی کے کام کے بعد یہاں بیس میٹر کی بنیادیں دیکھی جاسکتی ہیں۔

ان بنیادوں سے آج کا بلخ نظر آتا ہے جہاں جگہ جگہ کپڑے سوکھنے کے لیے لٹکے ہوئے ہیں، بچے کھیل رہے ہیں، گدھا گاڑیاں چل رہی ہیں۔

افغانستان میں جاری جنگ جب ختم ہوگی اور غیر ملکی فوجی یہاں سے چلیں جائیں گے اس کے بعد بھی جو کچھ ہو گا وہ بلخ کی طویل تاریخ کا حصہ بن کر رہ جائے گا۔

Image caption تاریخی بلخ شہر کا شمار دنیا کے قدیم ترین شہروں میں ہوتا ہے اور سات سال کی کھدائی کے کام کے بعد بیس میٹر کی دیواریں دیکھی جاسکتی ہیں

اسی بارے میں