اب خوشیوں کے دن آئے رے بھیا!

ایک تیر سے دو شکار

Image caption چھ ہفتوں کے اندر اترپردیش کے اس قدیم مندر کے قریب کھدائی ختم ہوجائے گی

اب جلد ہی ہندوستان میں بس ایک شخص کو چھوڑ کر سب کے دن بدلنے والے ہیں۔ غریب امیر ہو جائیں گے اور امیر، افسوس کہ وہ امیر ہی رہیں گے!

چھ ہفتوں کے اندر اترپردیش کے اس قدیم مندر کے قریب کھدائی ختم ہوجائے گی جہاں ’ایک ہزار ٹن سونا دبا ہوا ہے‘۔ پوری دنیا تو نہیں پھر بھی بہت سے لوگ ہندوستان پر ہنس رہے ہیں لیکن یہ ہنسی اس وقت بند ہوجائے گی جب سونا نکلنا شروع ہوگا۔

اس وقت انھیں معلوم ہوگا کہ یہاں خواب حقیقت میں کیسے بدلا کرتے ہیں۔ یہ کرشموں اور معجزوں کا ملک ہے، یہاں ایک چائے بیچنے والا وزیر اعظم بننے کا خواب دیکھ رہا ہے، ملک کی آدھی سے زیادہ آبادی بجلی آنے اور ایک دن اپنے نجی ٹائلٹ میں جانے کا خواب دیکھ رہی ہے، دو تہائی لوگ روزانہ دو وقت کی روٹی کا خواب دیکھ رہے ہیں اور سادھو، جنھیں ان سب دنیاوی مسائل سے کوئی سروکار نہیں، ایک ہزار ٹن سونے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔

اور حکومت صرف اس لیے کہ کہیں چائے بیچنے والے کا خواب پورا نہ ہوجائے، سادھو کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کی کوشش کر رہی ہے۔ لوگ حکومت پر ہنس رہے ہیں، لیکن شاطر حکومت ایک تیر سے دو شکار کر رہی ہے۔

اگر اس سادھو کا خواب سچ ہوگیا تو محرومی کا شکار آدھے ہندوستان کے دن بدل جائیں گے اور اگر ایسا ہوتا ہے تو جو لوگ وزیر اعظم بننا چاہتے ہیں وہ غریبوں کو کیا خواب دکھائیں گے؟

لیکن بی جے پی کے لیڈر نریندر مودی حکومت کی چال سمجھ گئے ہیں۔ اسی لیے انھوں نے مشورہ دیا ہےکہ سادھو کے خواب پر وقت ضائع کرنے سے بہتر ہے کہ حکومت کھربوں روپے کی وہ دولت واپس لائے جو ہندوستانیوں نے غیر قانونی طور پر بیرون ملک چھپا رکھی ہے۔

لیکن یہاں اتنا بے وقوف بھلا کون ہے، جب خزانہ گھر میں دبا ہوا ہے تو پردیس کی خاک چھاننے سے کیا فائدہ؟

سپنوں کے سوداگر

Image caption اکشے کھنہ اپنے پیسوں کی شکایت لے کر پولیس تک پہنچ گئے

فلم سٹار اکشے کھنہ کا نام تو آپ نے سنا ہی ہوگا۔ وہ اپنی فلموں میں ہمیں حسین سپنے دکھاتے ہیں، مگر لگتا ہے کہ سادھو کے خواب پر انھیں بھی یقین نہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ خود خواب نہیں دیکھتے۔

اسی ہفتے ان کا بھی ایک خواب چکناچور ہوا ہے۔ خواب بھی ٹوٹا اور شاید دل بھی، اسی لیے وہ شکایت لے کر پولیس تک پہنچ گئے۔

ہوا یوں کہ ایک شخص نے ان سے پندرہ دن میں رقم دگنی کرنے کا وعدہ کیا تو اکشے نے اسے پچاس لاکھ روپے دے دیے اب یہ شخص پیسے واپس کرنے سے انکار کر رہا ہے۔

اکشے آپ کو خوش ہونا چاہیے کہ کم سے کم اس شخص کا خواب تو پورا ہوگیا، یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ آپ سے ہی سمجھنے میں غلطی ہوئی ہو اور اس نے آپ سے صرف (اپنے) پیسے دگنے کرنے کا دعویٰ کیا ہو، لوٹانے کا نہیں۔

نوٹوں کا بستر

Image caption ثمر آچارگی کا دعوی ہے کہ انھوں نے اپنے بینک سے بیس لاکھ روپے نکالے تھے کیونکہ وہ نوٹوں کے بستر پر سونےکا اپنا دیرینہ خواب پورا کرنا چاہتے تھے

ہندوستان کی شمال مشرقی ریاست تریپورا میں مارکس وادی کمیونسٹ پارٹی نے اپنے ایک مقامی رہنما کو پارٹی سے نکال دیا ہے۔ لیڈر کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ نوٹوں کے بستر پر سو رہے تھے۔ ویڈیو کس نے بنائی اور کیسے عام ہوئی، یہ تو واضح نہیں لیکن ثمر آچارگی کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے اپنے بینک سے بیس لاکھ روپے نکالے تھے کیونکہ وہ نوٹوں کے بستر پر سونےکا اپنا دیرینہ خواب پورا کرنا چاہتے تھے۔

مارکس وادی پارٹی کی ریاستی حکومت بھی عجیب ہے۔ اگر خواب دیکھنے پر پابندی نہیں تو اسے پورا کرنے پر سزا کیسے دی جاسکتی ہے؟ اگر مرکز میں بھی اسی اصول پر عمل کیا جائےتو پورا کھیل بگڑ سکتا ہے۔ وفاقی حکومت مندر کے قریب کھدائی بھی کرا رہی ہوگی اور ڈر بھی رہی ہوگی کہ کہیں سونا مل نہ جائے۔

اور کیا آپ نے سوچا ہے کہ ہندوتوا کی سیاست کرنے والے نریندر مودی نے سادھو کے خواب کا مذاق تو اڑایا لیکن اگر سونا مل گیا تو ان کا کیا حشر ہوگا؟

اگلے چھ ہفتے اس ملک کے مستقبل کا تعین کرسکتے ہیں۔

اسی بارے میں