کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے: بھارتی وزیرِ داخلہ

Image caption سُشیل کمار شندے بھارت کے وزیر داخلہ ہیں اور بھارت کی بارڈر سیکوریٹی فورس ان کی وزارت کے ماتحت ہے

بھارت کے وزیرداخلہ سُشیل کمار شندے نے بھارتی زیرانتظام کشمیر کے خطے کو ملک کا ’اٹوٹ انگ‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ باہمی مفاد کے مسائل دوطرفہ بات چیت کے ذریعہ حل کیے جائیں گے۔

انہوں نے گذشتہ چند ماہ کے دوران لائن آف کنٹرول پر سیز فائر معاہدے کی مبینہ خلاف ورزیوں کو ’افسوسناک‘ اور قیامِ امن کے لیے خطرہ قرار دیا۔

شندے منگل کے روز جموں پہنچے جہاں سے وہ سرحدی علاقوں کا معائنہ کرنے کے لیے خصوصی پرواز میں سانبہ گئے۔ یہ جموں کا وہی ضلع ہے جہاں حالیہ دنوں ایک طویل تصادم میں چار فوجی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے اور حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

بھارتی وزیرِ داخلہ کشمیر میں تعینات مختلف سکیورٹی ایجنسیوں کی مشترکہ کمان کے اجلاس کی صدارت بھی کریں گے۔

اس سے قبل وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے سرینگر میں تقریر کرتے ہوئے پاکستان کو خبردار کیا تھا کہ لائن آف کنٹرول پر مسلسل فائرنگ کا جواب دیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے حکومت ہند سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ پاکستان کی طرف سے ہونے والی مبینہ خلاف ورزیوں پر سخت ردعمل ظاہر کرے۔

واضح رہے کہ کشمیر کو بھارت اور پاکستان کے درمیان تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول پر دس سال قبل دونوں ملکوں نے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ دونوں ملک ایک دوسرے پر اس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے رہتے ہیں۔

لیکن اس سال اگست سے ایسا لگتا ہے کہ سیز فائر کا یہ معاہدہ اب 26 نومبر 2003 کو رقم ہونے والے ایک مشترکہ اعلانیے تک ہی محدود ہے۔ کیونکہ فوجی حکام کا کہنا ہے کہ صرف اس سال جنوری سے اب تک دو سو مرتبہ پاکستانی افواج نے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیاں کی ہیں ۔بھارتی فوج کا کہنا ہے کہ ان واقعات میں کئی فوجی بھی مارے گئے۔

لائن آف کنٹرول پر اس کشیدگی کا براہ راست اثر بھارت اور پاکستان کے درمیان متوقع مفاہمت پر پڑ رہا ہے۔

بھارت کے وزیرخارجہ سلمان خورشید نے بھی گذشتہ روز انڈونیشیا کے دورے سے واپسی کے دوران سرکاری طیارے میں نامہ نگاروں کو بتایا: ’اس ماحول میں مربوط مذاکرات کا بحال ہوجانا ناممکن ہے، تاہم ہم نے پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کی طرف سے تعلقات کی بہتری کے لیے پہل کا خیر مقدم کیا ہے۔‘

مسٹر خورشید نے کہا کہ ایل او سی کی کشیدگی کو فوجی سطح پر حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان اور بھارت کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کا اجلاس 21 اکتوبر کو طے تھا لیکن اس سے قبل بی ایس ایف نے پاکستانی فوج کی طرف سے تازہ حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔

پاکستان نے بھارتی قیادت کے اس موقف کو ’بدقسمتی‘ سے تعبیر کیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ پاکستانی وزیراعظم نواز شریف نے حالیہ دنوں کشمیر کے معاملے میں امریکی مداخلت کی اپیل کی تھی جس کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان سفارتی کشیدگی پیدا ہوگئی۔

واضح رہے کہ لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج تعینات ہے جب کہ جموں کے بعض اضلاع میں بھارت کی بین الاقوامی سرحد پاکستان کے ساتھ ملتی ہے۔ اس سرحد پر بھارت کی بارڈر سیکورٹی فورس تعینات ہے، جو بھارتی وزارت داخلہ کے ماتحت ہے۔

اسی بارے میں