ورکنگ باونڈری پر بھارت اور پاکستان کے درمیان فائرنگ

Image caption بھارتی علاقے میں گرنے والے شیلز اور بموں کے ٹکڑوں کی تصاویر بھی اتاری گئیں

پاکستان اور بھارت کے درمیان ورکنگ باونڈری پر دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان گزشتہ دو دنوں سے فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے اور دونوں اطراف سے ایک ایک فوجی کے ہلاک ہونے کا دعوی کیا گیا ہے۔

پاکستان کی فوج کے دفتر تعلقاتِ عامہ نے کہا ہے کہ بھارت فوج کی بلااشتعال فائرنگ میں دو دیہاتی اور ایک فوج ہلاک جبکہ چھبیس دیہاتی زخمی ہو گئے ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی باڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) نے ستائیس پاکستان چوکیوں پر فائرنگ کی ہے اور چار ہزار ماٹر اور انسٹھ ہزار مشین گن کے راونڈ فائر کیے ہیں۔

ادھر بھارتی فوج نے دعوی کیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ ورکنگ باونڈری پر پاکستان فوج کی فائرنگ سے ایک نیم فوجی اہلکار ہلاک ہو گیا ہے جس کے بعد سرحدوں پر بھارتی فوج اور نیم فوجی دستوں کو مزید چوکس کر دیا گیا ہے۔

جموں کشمیر سمیت چار بھارتی ریاستوں میں بھارت کی تقریباً تین ہزار کلومیٹر طویل سرحدیں پاکستان کے ساتھ ملتی ہیں۔ تاہم کشمیر اور جموں کے پونچھ اور راجوری اضلاع میں 740 کلومیٹر طویل عبوری سرحد یعنی لائن آف کنٹرول (ایل او سی) واقع ہے۔ اکثر اوقات دونوں فوجوں کے درمیان ایل او سی پر ہی کشیدگی ہوتی ہے۔ یہ پہلا موقعہ ہے کہ ورکنگ باونڈری پر فائرنگ ہوئی ہے اور ایک فوجی اہلکار ہلاک ہوا ہے۔

سری نگر سے بی بی سی اردو کے نامہ نگار ریاض مسرور نے اطلاع دی ہے کہ ایل او سی اور باقاعدہ سرحدوں اور دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی پر کشمیر کے علیٰحدگی پسندوں اور ہند نواز گروپوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

تازہ حملہ بھارتی وزیر داخلہ سشیل کمار شندے کے دورے کے چند گھنٹوں بعد ہوا۔

مسٹر شندے نے منگل کی صبح جموں کے سام بھا ضلع میں قائم بی ایس ایف کے ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا اور وہاں جوانوں کے ساتھ ملاقات کی۔ بھارتی فورسز کا کہنا ہے کہ منگل کی رات کو ہی کئی سیکٹروں میں پاکستانی فوج نے فائرنگ کی ۔

Image caption ہلاک ہونے والی بھارتی فوج کی آخری رسومات جموں میں ادا کی گئیں

نیم فوجی بارڈر سیکورٹی فورس یا بی ایس ایف کے ترجمان ونود یادو نے بی بی سی کو بتایا کہ جموں کے آر ایس پورہ اور آرنیا سیکٹروں میں پچاس مقامات پر پاکستانی افواج نے بھارتی تنصیبات کو نشانہ بنایا جس کے دوران ایک بی ایس ایف اہلکار ہلاک ہوگیا۔

مسٹر یادو نے بتایا: ’ہمارا ایک جوان شہید ہوا ہے۔ ہم نے بھی فائرنگ کا مناسب جواب دیا ہے۔ ہمیں ہدایت ہے کہ عام شہریوں کو نشانہ نہ بنایا جائے۔‘

تاہم پاکستانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ لائن آف کنٹرول اور سرحد کے قریبی علاقوں میں آبادیوں کو نشانا بنایا جارہا ہے جس کے دوران کئی شہری مارے گئے ہیں۔

بھارتی وزیرداخلہ نے کشمیر کے دورے کے دوران کہا تھا کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور اس میں کسی تیسری طاقت کی مداخلت بھارت کے لیے قابل قبول نہِیں ہوگی۔ انہوں نے پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ مبمئی حملوں میں بقول ان کے ملوث حافظ محمد سعید کو حکومت ہند کے سپرد کرے تو تعلقات میں مزید بہتری ہوسکتی ہے۔

واضح رہے بھارت اور پاکستان کے ساتھ ملنے والی کشمیر کی عبوری سرحد یا لائن آف کنٹرول پر تازہ کشیدگیوں کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان سفارتی تناؤ میں اضافہ ہوگیا ہے۔

دس سال سے نافذ سیز فائر معاہدے کے باوجود دونوں ملک ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کرتے رہے ہیں ۔ پچھلے دو ماہ سےلائن آف کنٹرول پر پرتشدد واقعات میں اضافہ ہوا جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تناؤ پیدا ہوگیا ہے۔

بھارتی وزیر نے دعویٰ کیا کہ لائن آف کنٹرول کے قریب رہنے والے سینکڑوں شہریوں نے پاکستانی افواج کی فائرنگ کی وجہ سے ہجرت کر لی ہے اور ان کے لیے عارضی رہائش کا انتظام کیا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں