’بی جے پی نے مظفر نگر میں ہندو مسلم فساد کی آگ لگائی‘

بھارت میں انڈین نیشنل کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے الزام عائد کیا ہے کہ بی جے پی نے اتر پردیش میں سیاسی فوائد کے لیے فسادات کروائے۔

جمعرات کو مدھیہ پردیش کے علاقے اندور میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس کے نائب صدر نے کہا کہ فسادات کے بعد وہ مختلف فرقوں کے لوگوں سے ملنے مظفرنگر گئے تھے جہاں انہیں بتایا گیا کہ لوگوں میں کوئی دشمنی نہیں ہے لیکن پھر بھی انہیں ایک دوسرے سے لڑایا گیا۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق راہل نے الزام لگایا کہ ’بی جے پی کو لگا کہ جب تک اتر پردیش میں ہندو بمقابلہ مسلم جیسے حالات نہیں ہوں گے تب تک ان کو فائدہ نہیں ہوگا اس لیے انہوں نے (بی جے پی) نے یہ آگ لگائی۔‘

راہل گاندھی نے یہ بھی کہا کہ کانگریس نے اس ’آگ کو بجھايا تھا۔‘

کانگریس کے نائب صدر نے کہا ’انہوں نے (بی جے پی) نے یہ آگ لگائی ہے اب اسے کون بجھائےگا؟ وہ جہاں بھی جاتے ہیں یہ سوچ کر آگ لگا دیتے ہیں کہ اس سے انہیں انتخابات میں فائدہ ہوگا لیکن وہ یہ نہیں دیکھتے کہ اس سے ملک کو نقصان ہوتا ہے۔‘

اپنی پارٹی کی بات کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ’ہم لوگوں سے کہتے ہیں کہ وہ نہ لڑیں۔‘

راہل گاندھی نے یہ بھی کہا کہ اپنے ’انڈیا شائننگ‘ کی مہم کے باوجود بی جے پی 2004 میں لوک سبھا انتخابات ہار گئی تھی اور سال 2009 میں بھی ہاری کیونکہ ہندوستانی عوام ان پر اعتماد نہیں کرتے ہیں۔