’جنگی جرائم‘ کی تحقیقات سے سری لنکا کا انکار

سری لنکا
Image caption سری لنکا کی حکومت اور تمل باغیوں کی جنگ میں چالیس ہزار افراد ہلاک اور دس ہزار لاپتہ ہوئے

سری لنکا کی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ تمل باغیوں کے خلاف لڑائی میں جنگی جرائم کے ارتکاب کے الزامات کے حوالے سے کسی بھی بین الاقوامی تفتیشی مشن کے ساتھ تعاون نہیں کرے گی۔

سری لنکا کی حکومت اور تمل باغیوں کے درمیان چار سال قبل ہونے والی اس جنگ کے آخری مہینوں میں مبینہ طور پر جنگی جرائم عروج پر تھے۔

اس جنگ میں چالیس ہزار افراد ہلاک ہوئے اور دس ہزار افراد لا پتہ ہوئے۔

اقوامِ متحدہ میں انسانی حقوق کی سربراہ نوی پلے نے کہا تھا کہ اگر مارچ تک سری لنکا کی حکومت نے یہ واضح نہ کیا کہ وہ جنگی جرائم کے الزامات کی تحقیقات کرنے میں سنجیدہ ہے تو ایسے میں بین الاقوامی تحقیقات لازمی ہو جائیں گی۔

اگلے ماہ سری لنکا میں دولتِ مشترکہ کے رہنماؤں کا اجلاس ہونے والا ہے اور اطلاعات کے مطابق رہنماؤں سے اس اجلاس کا بائیکاٹ کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

رواں برس فروری میں انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ سری لنکا کی فوج تمل قیدیوں پر دورانِ حراست جنسی تشدد میں ملوث رہی ہے۔

ہیومن رائٹس واچ نے سری لنکا کی حکومت سے ان معاملات کی تحقیقات کروانے کی اپیل کی تھی جس پر سری لنکا کی حکومت نے ان الزامات کو ’جھوٹ‘ اور ’بکواس‘ قرار تھا۔

سری لنکا میں حکومتی فوج اور علیحدہ ریاست کے لیے جدوجہد کرنے والے تمل باغیوں کے مابین چھبیس برس تک تصادم جاری رہا تھا اور 2009 میں فیصلہ کن معرکے کے بعد تمل باغیوں کو شکست ہوگئی تھی۔

اس تنازع کے دوران عموماً اور فیصلہ کن لڑائی میں خصوصاً فریقین نے اس وقت ایک دوسرے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے تھے جب ملک کے شمالی علاقے میں ہزاروں عام شہری جنگ زدہ علاقے میں پھنس گئے تھے۔

سنہ دو ہزار تیرہ میں اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق سے متعلق کونسل نے ایک قرارداد کے ذریعے سری لنکا سے استدعا کی تھی کہ وہ تمل باغیوں کے خلاف مبینہ جنگی جرائم کی تحقیقات کرے۔ اس وقت بھی سری لنکا کی حکومت نے اسے ایک آمرانہ اقدام قرار دیا تھا۔

اسی بارے میں