اٹھارہ کروڑ مسلمانوں سے تلخ مذاق

Image caption ماہرین کے مطابق راہل گاندھی کا الزام ان کی ہندو فرقہ پرست ذہنیت کا عکاس ہے۔

بھارت میں پارلیمانی انتخابات میں تو ابھی کم ازکم پانچ مہینے باقی ہیں لیکن آئندہ مہینے دلی سمیت کئی ریاستوں میں ہونے والے ریاستی اسمبلی کے انتخابات کے سبب ملک کی سیاسی فضا کافی گرم ہے اور انتخابی مہم زور پکڑتی جا رہی ہے۔

ملک کی دو بڑی جماعتوں کے رہنما یعنی بی جے پی کے نریندر مودی اور کانگریس کے راہل گاندھی روزانہ ملک کے کسی نہ کسی حصّے میں انتخابی ریلیوں سے خطاب کر رہے ہیں اور دونوں ہی رہنما ایک دوسرے کی جماعت پر ملک میں فرقہ پرستی کو فروغ دینے کا الزام لگاتے رہے ہیں۔

بی جے پی نے ہندو مسلم فساد کو ہوا دی: راہل گاندھی

راہل گاندھی نے مدھیہ پردیش میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے یہ حیرت انگیز انکشاف کیا کہ ’مظفر نگر کے حالیہ فسادات میں جو مسلمان مارے گئے ہیں ان کے پندرہ بیس نوجوانوں کے رشتے داروں سے پاکستان کی خفیہ سروس آئی ایس آئی نے رابطہ قائم کر رکھا ہے۔ آئی ایس آئی انہیں بھارت کے خلاف استعمال کرنے کے لیے اپنا ایجنٹ بنانے والی ہے‘۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ معلومات انہیں انٹیلی جنس بیورو کے ایک افسر نے ان کے دفتر میں آ کر دی۔ ایجنٹ نے کانگریس کی وزارت عظمی کے امیدوارکو یہ بھی بتایا کہ بھارتی انٹیلی جنس کے اہلکار ان مسلم نوجوانوں کو سمجھانے کی کوشش کررہے ہیں وہ آئی ایس آئی کی طرف نہ جائیں۔

راہل گاندھی حکومت میں شامل نہیں ہیں اور سرکاری طور پر ان کی حیثیت صرف ایک رکن پارلیمان کی ہے۔ یہ معلوم نہیں کہ انٹیلی جنس کے اہلکار ایک رکن پارلیمان کو کیوں رپورٹ کریں گے۔

یہ سوال تو راہل سے پوچھا ہی جا رہا ہے لیکن ان کے سیاسی حریف نریندر مودی نے انہیں چیلنج کیا ہے کہ وہ ان مسلم نوجوانوں کے نام بتائیں جن سے بقول راہل گاندھی آئی ایس آئی نے رابطہ قائم کیا ہے۔ مودی نے کہا کہ اگر راہل ان نوجوانوں کا نام نہیں بتاتے تو وہ مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لیے ان سے معافی مانگیں۔

مودی واضح طور پر مسلمانوں کے ہمدرد نہیں لیکن راہل سے ان کا سوال بالکل موزوں ہے۔

راہل نے مظفر نگر کے فساد زدہ مسلمانوں کے بارے میں انٹیلی جنس کے جوالے سے جو بات کی ہے اس کے بارے میں بعض تجزیہ کاروں نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ وہ ہندو فرقہ پرست ذہنیت کی عکاس ہے۔

کئی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ راہل نے اپنے والد مرحوم راجیو گاندھی کی ہی طرح انتخابات سے پہلے ہندو کارڈ کھیلنے کی کوشش کی ہے۔

ہزاروں مسلمان اب بھی اپنے لٹے ہوئے گھروں سے دور مظفر نگر کے جنگلات کی زمین پر واقع ریلیف کیمپوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ وہ اس قدر خوفزدہ ہیں کہ شاید وہ کبھی بھی اپنے گھروں کو نہیں لوٹ سکیں گے۔

اتر پردیش کی حکومت نے ملائم سنگھ یادو کے بھائی اور ریاستی وزیر شیو پال یادو کی قیادت میں ایک وفد ریلیف کیمپوں کے حالات کا جائزہ لینے کے لیے بھیجا تھا۔ شیو پال یادو نے اپنے دورے کے بعد کہا ہے کہ ’ہزاروں متاثرین اپنے گھر اس لیے واپس نہیں جانا چاہتے کیوں کہ اِن کیمپوں میں انہیں ان کے گھروں سے زیادہ عیش و آرام حاصل ہے‘۔ شیوپال نے یہ بھی کہا بہت سے متاثرین نے قرض لے رکھا ہے اور وہ قرض ادا نہیں کرنا چاہتے اس لیے وہ اپنے گاؤں واپس نہیں نہیں جانا چاہتے۔

راہل گاندھی اور شیو پال یادو کے بیانات سے سیاسی جماعتوں کی ذہنی پرورش اور مسلمانوں کے تئیں ان کی عمومی ہتک کا پتہ چلتا ہے۔

یہ مظفر نگر کے فساد کے مارے ہوئے مظلوم مسلمانوں کے ساتھ ہی نہیں بھارت کے اٹھارہ کروڑ مسلمانوں سے بھی بہت ہی تلخ مذاق ہے۔

اسی بارے میں