بھارت: ’30 کروڑ لوگوں کے گھر ایک بھی بلب نہیں‘

Image caption اطلاعات کے مطابق بھارت اپنے زرِ مبادلہ کا 52 فیصد توانائی کی درآمدات پر صرف کرتا ہے

بھارت میں توانائی کے شعبے کے ایک ماہر کا کہنا ہے کہ بھارتی معیشت کے سامنے سب سے بڑا چیلنج توانائی ہے اور ابھی بھی ملک میں چالیس کروڑ ایسے افراد ہیں جنہیں باضابطہ طور پر توانائی تک رسائی حاصل نہیں ہے۔

توانائی کے ماہر نریندر تنیجہ نے بی بی سی ہندی کے لیے اپنے مضمون میں کہا ہے کہ اگر ملک میں تمام افراد کو توانائی فراہم کرنی ہے تو بھارت کو ایک ٹھوس پالیسی پر عملدرآمد کرنا ہوگا۔

انھوں نے بتایا کہ باضابطہ طور بجلی سے محروم چالیس کروڑ افراد میں سے تقریباً تیس کروڑ ایسے ہیں جن کے گھر میں ایک بھی بلب نہیں جلتا۔

انھوں نے مزید کہا کہ چالیس کروڑ لوگ ایسے ہیں جنہیں نہ ہی ایل پی جی دستیاب ہے اور نہ کوئی اور گیس۔

انھوں نے کہا: ’جب تک ہم تمام افراد کو توانائی کے دائرے میں نہیں لاتے تب تک ہمارے ملک میں اقتصادی ترقی نہیں ہو سکتی‘۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’اس وقت میں ہم اپنی کل ضرورت کا اسّی فیصد تیل درآمد کر رہے ہیں، چھبیس فیصد گیس درآمد کر رہے ہیں۔ آنے والے وقت میں درآمد تیل پر ہمارا انحصار نوے فیصد ہو جائے گا جبکہ درآمد گیس پر ہمارا انحصار بڑھ کر چالیس فیصد ہو جائے گا‘۔

ان کے مطابق بھارت اپنی زرِ مبادلہ کا باون فیصد توانائی کی درآمدات میں لگا دیتا ہے۔

توانائی کے ماہر نریندر تنیجہ نے بھارت کے ’اقتصادی سپر پاور‘ بننے پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے کہا کہ کیا موجودہ صورتحال میں بھارت ایک اقتصادی سپر پاور بن سکتا ہے؟

انھوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ وہ ملک جودرآمد پر اس قدر زیادہ انحصار کرتا ہوکیا وہ معاشی طور پر خوشحال بن سکتا ہے؟

Image caption بھارت کی دیہی آبادی کو عام طور پر بجلی دستیاب نہیں ہے

انھوں نے کہا: ’ہمارے ملک میں جتنا تیل، گیس یا کوئلے کے ذخائر ہیں ہمیں جلدی ان کی کان کنی کرنی چاہیے۔ ہماری پالیسیاں غلط ہیں۔ ہم جی جان لگا کر کام نہیں کرتے۔‘

اپنے مضمون میں انھوں نے کہا ہے کہ ’خلیجِ بنگال کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ گیس پر تیر رہی ہے اور ہم گیس درآمد کر رہے ہیں۔ خلیجِ بنگال میں تیل اور گیس پر جو کام ہونا چاہیے تھا وہ تقریباً ٹھپ پڑا ہوا ہے۔ کام شروع ہوتے ہی وہاں گھپلے ہونے لگتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا: ’آپ تاریخ اٹھا کر دیکھیں ایسا کوئی بھی ملک اقتصادی سپر پاور نہیں بن پایا ہے جہاں ترقی کے لیے توانائی کی درآمدات پر اس قدر زیادہ انحصار ہو۔‘

ملک میں کوئلے کے وسیع ذخائر پر تبصرہ کرتے ہوئے نریندر تنیجہ نے لکھا: ’مجھے سمجھ نہیں آتا کہ بھارت جہاں دنیا کے چونتیس بڑے کوئلے کے ذخائر ہیں وہ ہر سال بیس ارب ڈالر کا کوئلہ درآمد کیوں کر رہا ہے‘۔

اس کی وجہ خود ہی بیان کرتے ہوئے انھوں نےکہا کہ ’حکومت کی پالیسیاں غلط ہیں۔ اس نے کوئلے سے مالا مال باون فیصد علاقوں کو اپنے قبضے میں لے رکھا ہے۔ ان کے مطابق ان ذخائر کی نجکاری اور جدید کاری ہونی چاہیے‘۔

انھوں نے حکومت کو شمسی توانائی سمیت توانائی کے دوسرے متبادل کے وسیع ذخائر پر کام کرنے کی صلاح بھی دی ہے۔

انھوں نے مرکزی اور ریاستی دونوں حکومتوں پر تونائی کی خراب صورت حال کا الزام عائد کیا ہے۔

انھوں نے کہا: ’موجودہ صورت حال میں بھارت میں توانائی کی صورت حال بہت ہی خراب ہے۔ توانائی کے معاملے میں ہم مسلسل درآمد پر منحصر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ توانائی کی پالیسیوں پر نہ تو مرکز ٹھیک طرح سے کام کر رہا ہے اور نہ ہی ریاستی حکومتیں ٹھیک طرح سے کام کر رہی ہیں۔‘

اسی بارے میں