بھارت: سونے کی تلاش میں کھدائی، لوہے کے کیل اور چوڑیاں برآمد

خزانہ
Image caption محکمہ ارضیات کی رپورٹ کے مطابق یہ سونا، چاندی اور دیگر دھاتیں ہو سکتی ہیں

بھارت کی ریاست اتر پردیش میں واقع اوناؤ قلعہ میں سونے کی تلاش کے لیے آٹھ دن سے جاری کھدائی میں لوہے کے چند کیل، چوڑیوں کے ٹکڑے اور مٹی کے چولہے ملے ہیں۔

بابا شوبھن سرکار نے خواب میں دیکھا کہ اوناؤ کے قلعہ میں ایک ہزار ٹن سونا دبا ہوا ہے اس کے بعد ہندوستان کے محکمہ آثارِ قدیمہ کی جانب سے اس علاقے میں دھات کی موجودگی کی تصدیق ہوئی تھی اور دھات کی تلاش کے لیے کھدائی شروع کی گئی۔

اس ٹیم کے اعلیٰ اہلکار پروین مشرا نے بی بی سی کو کھدائی کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا ’جو چیزیں مل رہی ہیں وہ عام آدمی کے لیے شاید ضروری نہ ہوں لیکن ہمارے لیے بہت اہم ہیں، سونا ملے یا نہ ملے لیکن ہم آثارِ قدیمہ کے نقطۂ نظر سے اس وقت تک کھدائی جاری رکھیں گے جب تک ہم مطمئن نہیں ہو جاتے‘۔

جمعہ کی شام تک دس لوگوں کی ٹیم نے اوناؤ قلعے میں ڈھائی میٹر تک کھدائی مکمل کر لی تھی۔

بھارتی محکمۂ آثار قدیمہ کے ترجمان بيار منی نے بی بی سی کو بتایا کہ کھدائی کا خواب سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

ترجمان نے کہا ’جہاں تک کسی کے خواب کی بات ہے ہم لوگ خواب کی بنیاد پر یہ کھدائی نہیں کر رہے ہیں چونکہ بھارتی ارضیاتی سروے نے یہ بتایا کہ وہاں دھات موجود ہے، اس کے بعد ثقافتی وزارت نے یہ فیصلہ کیا کہ وہاں کھدائی کر کے پتہ لگایا جائے‘۔

انھوں نے کہا کہ یہ قلعہ اناؤ میں ہے اناؤ میں دریا کے کنارے اس جگہ کا نام سنگرام پور ہے۔

قلعے کی کھدائی کے لیے مرکز کی جانب سے دباؤ ہونے کے بارے میں بیار منی نے کہا ’یہ کھدائی مرکزی حکومت ہی کروا رہی ہے ۔ہم نے اپنی طرف سے کچھ نہیں کیا جب محکمۂ ارضیات نے حکومت کو اپنی رپورٹ دی جس میں بتایا گیا کہ زمین کے نیچے بڑی مقدار میں دھات موجود ہے اس کے بعد ہی یہ فیصلہ کیاگیا‘۔

بيار منی نے بتایا کہ سنہ 1857 میں وہاں کے حکمران راجا رام بكش سنگھ تھے، جنھیں پھانسی دی گئی تھی، کیونکہ انھوں نے سنہ1857 میں انگریزوں کے خلاف جنگ میں حصہ لیا تھا۔انھوں نے کہا کہ’یہ قلعہ كھنڈر میں تبدیل ہو چکا ہے‘۔

ترجمان نے کہا کہ حکومت کے کہنے پر کھدائی کی جا رہی ہے۔ سروے کی رپورٹ پیشہ ورانہ رپورٹ ہے اور اس کی بنیاد پر ہی یہ فیصلہ کیا گیا۔

اسی بارے میں