راہل اور مودی میں کیا فرق ہے؟

Image caption راہل گاندھی نے حال ہی میں آئی ایس آئی پر متاثرہ بھارتی مسلمانوں سے رابطہ کرنے کا الزام لگایا تھا

آج کے بھارت میں یہ بالکل ضروری نہیں کہ کسی مسجد کے آگے خنزیر کا سر کاٹ کے ڈال دیا جائے یا مندر کے سامنے کوئی جلوس رک کے اللہ اکبر کے نعرے لگائے۔

اب تو صرف دو موٹر سائیکلوں کا آپس میں ٹکرانا یا دوسری برادری کی لڑکی چھیڑنے کا الزام ہی تینتالیس لاشیں گرانے، سو سے زائد کو زخمی کرنے اور پچاس ہزار سے زائد افراد کو بے گھر کرنے کے لیےکافی ہے۔

اس سے پہلے کہ دھواں بیٹھے اور یہ طے ہو کہ ظالم کون ہے اور مظلوم کون، سیاسی انویسٹرز پانی کے کنستروں میں دیوانگی کا پٹرول لے کے آگ بجھانے دوڑ پڑتے ہیں۔

اور پھر نفرت کے ایندھن پر آہوں، سسکیوں، ہمدردی، الزامات، جوابی الزامات، دھرم، شرم، کرم اور بھرم کے مصالحوں کی انتخابی دیگ کی جم کے گھٹائی ہوتی ہے تاکہ اگلے کسی ریاستی یا مرکزی چناؤ تک مل بانٹ کر یہ پکوان کھاتے رہیں۔

یوں نفرت کے کوئلوں سے لوک تنتر (جمہوریت) کے انجن کو توانائی ملتی رہتی ہے۔ کبھی سکھ، کبھی عیسائی، کبھی نکسل تو کبھی مسلمان اور قلت کے زمانے میں دلت بھی بطور کوئلہ استعمال ہوتے ہیں اور جب ہر طرح کے ایندھن کی شدید کمی کے سبب سیاست کی گاڑی جھٹکے کھانے لگتی ہے تو پھر ایک اور فساد کسی بھی جگہ ایجاد کر کے اس سے ترنت نیا ایندھن بنا لیا جاتا ہے یا اس کی بھی گنجائش نہ ہو تو پھر آئی ایس آئی تو ہے ہی۔۔۔

(شکر ہے جب گاندھی جی نے پاکستان کو برٹش انڈیا کے قرضوں میں سے حصہ ادا کرنے کے لیے نہرو اور پٹیل پر اخلاقی دباؤ ڈالنے کے لیے مرن برت رکھا اس وقت آئی ایس آئی نہیں تھی ورنہ مہاتما آئی ایس آئی کے پہلے ایجنٹ قرار پاتے۔ اور جب 30 جنوری 1948 کو گاندھی جی گوڈسے کی گولی کا نشانہ بنے اور پاکستان نے بھی تین دن کے لیےاپنا قومی پرچم سرنگوں کیا تب بھی کسی نے یہ ثابت نہیں کیا کہ وہ پاکستان کے پکے ایجنٹ تھے۔)

Image caption راہل کے بیان کی مسلمانوں سے بھی زیادہ مذمت نریندر مودی نے کی تھی

ان مجرب صدری نسخہ جات کے تحت سن 46 کے نواکھلی، 48 کے حیدرآباد، 84 کے دلی، 92 کے ایودھیا، 2002 کے گجرات اور 2008 کے اڑیسہ سے 2013 کے مظفر نگر تک ایک ہی تھیٹر ہے جو چلے چلا جا رہا ہے ۔ اداکاروں اور تماشائیوں کی ایک پیڑھی بوڑھی ہوجاتی ہے تو اس کی جگہ اگلی پیڑھی لے لیتی ہے۔

ویسے بھی نیتا اور ابھینیتا ( اداکار ) میں بس ایک لفظ ہی تو اضافی ہے۔ جیسے فلم پھیکی پڑنے کا خطرہ ہو تو اسے سو کروڑ روپے کے کلب میں ڈلوانے کے لیے آئٹم سانگ کا ٹیکہ لگایا جاتا ہے اسی طرح سیاست دیوالیہ ہونے لگے تو اس میں فسادات کا آئٹم نمبر ڈال کے سو کروڑ ووٹ کے کلب میں انٹری ڈالنے کی کوشش ہوتی ہے۔

سنجے گاندھی تو آر ایس ایس میں نہیں تھے تو کیا پرانی دلی کے ترکمان گیٹ کے آس پاس مغلوں کے دور سے بسے ستر ہزار باسی سرکاری بلڈوزروں پر سوار سنجے شاہی سے بچ گئے تھے؟ راجیو گاندھی کا نام تو راجیو گولوالکر نہیں تھا پھر بھی بابری مسجد عرف رام مندر کے تالے سرکار نے اپنے ہاتھ سے تڑوائے۔

سنجے کے بیٹے ورون گاندھی کی رگوں میں تو جواہر لال نہرو کا بھی تھوڑا بہت خون دوڑ رہا ہے۔(وہی جواہر لال جنہیں جنوری 48 کے ایک دن خبر ملی کہ پرانی دلی میں پھر بلوہ ہوگیا ہے تو جواہر لال تیزی سے بلوے کے عین مرکز میں پہنچ کے اپنی ایمبیسڈر پر لال پیلے کھڑے ہوگئے۔ بلوائی سکتے میں آگئے اور تلواریں، برچھیاں اور اینٹیں کمر کے پیچھے چھپاتے گلیوں میں غائب ہونے لگے۔)

Image caption مظفر نگر میں حالیہ مسلم کش فسادات میں درجنوں افراد مارے گئے تھے

تو پھر جواہر لال کے پر نواسے ورون کو 2009 میں کس نے پٹی پڑھائی کہ عام چناؤ میں تیزی سے اوپر جانے کا سب سے مختصر اور آسان راستہ یہ ہے کہ اپنے ہاتھ کو مکہ بنا کر ہوا میں لہراتے ہوئے گیتا کی قسم کھا کر ببانگِ دہل کہو کہ یہ کانگریس کا نہیں بی جے پی کا ہاتھ ہے جو ’ کٹ ووں‘ ( ختنہ یافتہ) کے سر اتار دے گا اور پیلی بھیت میں ورون کی اس تقریر پر اس کے کزن راہل نے بڑے دکھ سے کہا تھا کہ ورون غصے اور نفرت میں اندھا ہوچکا ہے۔

مگر کیا ستم ظریفی ہے کہ 2013 کا راہلی مظفر نگر 2009 کے ورونی پیلی بھیت سے بہت زیادہ دور نہیں۔

لیکن جب پولیٹیکل انڈسٹری میں گلا کاٹ مقابلے کی فضا ہو تو ایسے میں کون جواہر لال کا پرنواسا راہل اور کیسا ایک چائے بیچنے والے کارسیوک کا بیٹا مودی۔ کیا فرق پڑتا ہے کہ راہل کا نام مودی نہیں۔

مظفر نگر کے مسلمان تو تب بھی آئی ایس آئی کے ایجنٹ ہی کہلائے اور راہل کے اس بیان کی مسلمانوں سے بھی زیادہ مذمت نریندر مودی کر رہے ہیں۔ وہی مودی جنہوں نے 2002 کے فسادات کے بعد گورآو یاترا میں گجراتی مسلمانوں کے لیے کہا تھا کہ ’ کیا اب ہم ان کے لیے مستقل ریلیف کیمپ بنائیں۔ تو کیا اب ہم ان کے لیے بچے پیدا کرنے کے مرکز کھولتے چلے جائیں۔یہ وہی ہیں نا جو ہر وقت سوچتے ہیں کہ ہم پانچ ہمارے پچیس۔۔۔‘

بات یہ ہے نیتا ہو کہ ابھینیتا دونوں میں اگر فوراً راون سے رام اور رام سے راون کا روپ دھارنے کی بھی صلاحیت نہ ہو تو پھر بینگن کے ابھینیتا۔۔۔۔

اسی بارے میں