بنگلہ دیش:اپوزیشن کی تین روزہ ہڑتال کا آغاز، جھڑپوں میں 3 ہلاک

Image caption بنگلہ دیش کی وزیرِاعظم شیخ حسینہ واجد کی جانب سے ہڑتال مؤخر کرنے کی اپیل کے باوجود ہڑتال کی جا رہی ہے

بنگلہ دیش میں حزبِ اختلاف کی اپیل پر ہونے والی تین روزہ ہڑتال کے پہلے دن پرتشدد واقعات میں کم از کم 3 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

حزبِ اختلاف کے حامیوں کا تصادم کچھ مقامات پر پولیس اور کچھ جگہ حکومت کے حامیوں سے ہوا۔

جماعت اسلامی رہنما کو سزا پر بنگلہ دیش میں ہڑتال

بنگلہ دیش میں حزبِ مخالف کی بڑی جماعت اور اس کے اتحادیوں نے ملک میں ہونے والے نئے عام انتخابات کے لیے نگراں کابینہ کی تشکیل میں ناکامی پر حکومت کے خلاف اتوار سے یہ ہڑتال شروع کی ہے۔

بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی سربراہ خالدہ ضیاء نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آئندہ سال جنوری میں ہونے والے عام انتخابات سے قبل اقتدار سے علیحدہ ہو جائے۔

بنگلہ دیش کی وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد کی جانب سے ہڑتال مؤخر کرنے کی اپیل کی گئی تھی تاہم اپوزیشن نے ان کی درخواست ماننے سے انکار کر دیا۔

بی این پی اور اس کی اسلامی اتحادی جماعتِ اسلامی کو امید ہے کہ وہ اس ہڑتال سے پورے ملک کو مفلوج کر دیں گے۔

بنگلہ دیش کی حزبِ مخالف وزیرِ اعظم کو مجبور کرنا چاہتی ہے کہ وہ آئندہ برس ہونے والے انتخابی عمل کے لیے غیر جانب دار نگران انتظامیہ کی اجازت دیں۔

دوسری جانب بنگلہ دیش کی وزیراعظم اور عوامی لیگ کی سربراہ شیخ حسینہ واجد نے اس منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں غیر منتخب افراد کی جانب سے انتخابی عمل کی نگرانی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

دریں اثناء بی این پی کی سربراہ خالدہ ضیاء نے اعلان کیا ہے کہ وزیرِاعظم شیخ حسینہ کی جانب سے انھیں کی جانے والی غیر معمولی فون کال کے باجوو ہڑتال جاری رہے گی۔

بی این پی اور اس کی اتحادی جماعتیں موجودہ آئینی شقوں کے باعث انتخابات میں شرکت کرنے سے اجتناب کر رہی ہیں۔

یہ آئینی شقیں ملک میں غیر جانبدار، نگران حکومت یا موجودہ وزیرِاعظم کو عبوری وقفے کے دوران مستعفی ہونے کی اجازت نہیں دیتیں۔

بنگلہ دیش کی حزب مخالف کو اس بات کا خدشہ ہے کہ حکومت اقتدار میں رہتے ہوئے انتخابات میں دھاندلی کرے گی۔

خیال رہے کہ ہڑتال کی یہ اپیل بنگلہ دیش میں جمعہ کو ہونے والے تشدد کے تازہ واقعے میں کم سے کم چھ افراد کی ہلاکت کے بعد کی جا رہی ہے۔

بنگلہ دیش میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں ایک سو سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔

پرتشدد جھڑپوں کی اطلاعات سب سے پہلے دارالحکومت ڈھاکہ سے 80 میل دور واقع ضلع فرید پور سے آئیں۔

وہاں پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ اور مرکزی سڑک بند کیے جانے کے بعد فائرنگ کرنا پڑی۔

حزبِ مِخالف کے کارکنوں کے مطابق اس فائرنگ سے ایک بائیس سالہ کارکن ہلاک ہوا ہے۔

اس کے علاوہ مغربی بنگلہ دیش کے قصبے اشوردیہ میں ایک شخص حکومت کے حامی افراد سے جھڑپ میں مارا گیا جبکہ جیسور کے علاقے میں حکومتی جماعت کے ایک کارکن کو مشتعل ہجوم نے ہلاک کر دیا۔

بی بی سی کی بنگالی سروس کے صابر مصطفیٰ کا کہنا ہے کہ عوام میں مستقبل قریب کے بارے میں سخت خدشات اور بےچینی پائی جاتی ہے اور انہیں خدشہ ہے کہ اگر حکومت اور اپوزیشن کے حامی دوبدو ہوئے تو حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ جمعہ کو بھی بنگلہ دیش میں سکیورٹی فورسز کی اپوزیشن کے حامیوں پر فائرنگ سے چھ افراد مارے گئے تھے۔

اسی بارے میں