تہران میں بعض امریکہ مخالف پوسٹر ہٹا دیے گئے

Image caption فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق اس طرح کے چند پوسٹرز اب بھی شہر میں دیکھے جا سکتے ہیں

ایران کے دارالحکومت تہران میں حکام نے امریکہ مخالف چند پوسٹرز کو ہٹایا ہے جس سے اشارہ ملتا ہے کہ ایران امریکہ سے بہتر تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے۔

ایران حکام کی جانب سے یہ اقدام ایک ایسے وقت کیا گیا ہے جب دونوں ممالک جوہری پروگرام پر بات چیت شروع کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

ایرانی رویے میں تبدیلی خوش آئند: امریکہ

خیال رہے کہ گذشتہ ماہ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے بعد وطن روانگی کے وقت صدر روحانی نے فون پر اپنے امریکی ہم منصب سے گفتگو کی جو گزشتہ 34 سالوں میں دونوں ممالک میں اعلیٰ ترین سطح پر پہلا رابطہ تھا۔

اس کے علاوہ ایرانی وزیر خارجہ کی بھی اپنے امریکی ہم منصب جان کیری سے ملاقات ہوئی تھی۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نیوز کے حوالے سے بتایا ہے کہ تہران میونسپل کے ایک اہلکار نے کہا کہ شہر میں امریکہ مخالف بل بورڈز یعنی اشتہاری بورڈ غیر قانونی طور پر نصب کیے گئے تھے اس لیے ان کو اتار دیا گیا ہے۔

ترجمان ہادی ایازی کے مطابق ایک ثقافتی ادارے نے بلدیہ کو آگاہ کیے بغیر اپنی مرضی کرتے ہوئے تشہیری بورڈ لگا دیے تھے۔

ترجمان نے یہ نہیں بتایا کہ کن پوسٹرز کو ہٹایا گیا ہے۔

اِرنا نیوز کے مطابق آئندہ ماہ چار نومبر کو سنہ 1979 میں تہران میں امریکی سفارت خانے میں امریکی اہلکاروں کو یرغمال بنانے کی برسی کے موقع پر گزشتہ ہفتے شہر میں نئے امریکہ مخالف پوسٹرز لگائے گئے تھے۔

ایک پوسٹر پر ایران مذاکرات کار دکھائے گئے ہیں اور ان کے سامنے ایک امریکی اہلکار ہے جس نے جیکٹ اور پتلون اور جوتے پہن رکھے ہیں۔ یہ امریکی ایرانی اہلکار کے سامنے میز پر بیٹھا ہے اور اس کے نیچے سرخ رنگ میں تحریر ہے ’امریکی ایمانداری‘۔

ایران متعدد بار امریکہ پر الزام لگا چکا ہے کہ اس کا اصل مقصد جوہری پروگرام پر بات چیت کے ذریعے سفارتی حل نکالنے کی بجائے ایران پر حملہ کرنا ہے۔

Image caption ایران کے بڑے شہروں کی دیواریں برسوں سے امریکہ مخالف پوسٹرز سے آراستہ ہیں

فارس نیوز کے مطابق امریکی مخالف مواد تیار کرنے والے ’او جے‘ ثقافتی ادارے کے سربراہ احسان محمد حسنی کا کہنا ہے انہوں نے اتوار کو میونسپل کی اجازت سے پوسٹر لگائے تھے۔

اے ایف پی کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ ان پوسٹروں میں جوہری پروگرام پر مذاکرات کی مخالفت نظر نہیں آتی۔

انہوں نے کہا کہ انہیں ایران کے صدر حسن روحانی کی سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں اور انہوں نے یہ پوسٹر اگست میں صدر روحانی کا عہدہ صدارت سنبھالنے سے پہلے تیار کیے تھے۔

ایران کے دارالحکومت سمیت مختلف شہروں میں کئی دہائیوں سے امریکہ مخالف پوسٹر موجود ہیں اور دیواروں پر نعرے درج کیے گئے ہیں۔

امریکہ مخالف پوسٹر ہٹائے جانے پر سخت گیر حلقوں نے احتجاج کیا ہے، جن میں قدامت پسند خیان اخبار بھی شامل ہے۔ اس نے اتوار کو اپنے اداریے میں پوسٹر ہٹائے جانے کے فیصلے پر تنقید کی ہے۔

اداریے کے مطابق یہ پوسٹر صرف امریکہ کی بے ایمانی پر متنبہ کرتے تھے، اور انھیں ہٹانا ان لوگوں کے ساتھ ناانصافی ہے جنہوں نے اپنا خون بہایا اور تیس سال سے زائد عرصے تک امریکی دشمنی کی تلخی سے متاثر ہوئے۔

اسی بارے میں