کیا کشمیر میں’جہاد ‘ پھر سے شروع ہو سکتا ہے؟

Image caption بھارت کے زیرِانتظام کشمیر میں گزشتہ دنوں فوج نے شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کے دعوے کیے ہیں

سنہ دو ہزار چودہ میں افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا کے بعد مختلف حلقوں کی جانب سے یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں ’جہاد ‘ پھر سے شروع ہو سکتا ہے؟

ماضی میں ایسا دیکھا گیا ہے کہ ’جہادی گروپوں‘نے اپنے ٹھکانے تبدیل کیے ہیں جس سے اس خدشے کو تقویت ملتی ہے کہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کے نکلنے کے بعد پنجابی طالبان کے نام سے مشہور عسکریت پسند اپنی توجہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کی جانب کر سکتے ہیں۔

طالبان کشمیر کا رخ کر سکتے ہیں: میر واعظ

اس حوالے سے دو مختلف آرا سامنے آتی ہیں۔ ایک یہ کہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان اشتعال دائمی مسئلہ ہے جبکہ دوسری رائے یہ ہے کہ کشمیر کے بارے میں دونوں ممالک کی فوجی اور سویلین قیادت کی سوچ میں فرق ہے۔

کشمیر کا تنازع پاکستان کی دفاعی اور سٹریٹیجک پالیسی کا مرکزی نکتہ بن گیا ہے اور ممکن ہے پاکستان اب بھی انتہا پسند قوتوں کے لیے نرم گوشہ رکھتا ہو۔

اس کے علاوہ گذشتہ کئی دہائیوں سے دونوں ملکوں کی جانب سے ایک دوسرے پر لگائے گئے الزامات اور ہونے والی جنگوں کی وجہ سے لگنے والے زخم اتنے گہرے ہیں جن کا جلدی مندمل ہونا قدرے مشکل ہے۔

اگرچہ دونوں ممالک کشمیر کے تنازعے کا حل چاہتے ہیں مگر وہ یہ بھی چاہیں گے کہ برسوں سے جاری خونریزی اور ’پراکسی فورسز‘ پر خرچ کی جانے والی رقم کے کوئی مناسب نتائج بھی حاصل ہوں۔

افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد ممکن ہے پشتون عسکریت پسند کشمیر میں کارروائی کرنے میں دلچسپی ظاہر نہ کریں مگر پنجابی طالبان، جنہوں نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں اپنے ٹھکانے بنا رکھے ہیں ان کی توجہ ایک ایک بار پھر کشمیر کی طرف ہو جائے۔

پشتون عسکریت گروپوں کے کردار کو بھی مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ سنہ دو ہزار آٹھ سے تحریک طالبان پاکستان نے اپنے پروپیگنڈہ میں کشمیر کا ذکر کیا ہے۔ حال ہی میں جنوری سنہ دو ہزار تیرہ میں طالبان کمانڈر ولی الرحمان نے بیان جاری کیا تھا کہ وہ کشمیر میں شدت پسندوں کو بھیجیں گے اور شریعت نافذ کریں گے۔

ممکن ہے کہ پنجابی گروپ آئی ایس آئی کے کنٹرول کے بغیر آزادانہ طور پر کارروائیاں کریں۔ پاکستانی فوج پہلے ہی سے ملک کی سکیورٹی کی صورتحال پر قابو پانے میں مصروف ہے۔ اسی لیے کہا جا رہا ہے کہ شاید فوج کا کشمیر میں لڑنے والے جنگجو گروپوں پر اثر و رسوخ پہلے کی طرح مؤثر نہ ہو۔

اب ایک اور سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ’جہادی گروپ‘ کس حد تک اپنی توجہ کشمیر پر مرکوز رکھ سکتے ہیں اور کیا مستقبل میں پاکستانی فوج تمام گروپوں کی یا پھر ان میں سے بعض کی مدد کر سکتی ہے؟

اس سوال کے جواب کے لیے ذرا خطے کی صورتحال کے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی اقتصادی صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اب معیشت ہی پالیسی بنانے کا ماخذ ہوگا اسی لیے پاک بھارت تعلقات کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دو طرفہ تجارت فروغ پائے۔

دونوں ملکوں کے بہتر تعلقات کی وجہ سے خطے میں استحکام آئے گا اور نتیجے میں چین اور دیگر ممالک سرمایہ کاری کریں گے۔

چین پہلے ہی سے پاکستان میں ایک اقتصادی راہداری کے ذریعے پاکستان اور جنوبی و وسطی ایشیا میں اپنے مفادات کو فروغ دے رہا ہے۔ اس کے لیے چین نے خطے میں امن و امان کی بہتر صورتحال پر زور دیا ہے۔

پاکستانی فوج نے نوے کی دہائی میں جن گروپوں کے قیام اور تربیت کی تھی آج ان ہی کے ساتھ برسرپیکار ہے۔کشمیر کے حوالے سے پاکستانی فوج کی سوچ میں تبدیلی نظر آ رہی ہے۔

Image caption جنوری سنہ دو ہزار تیرہ میں طالبان کمانڈر ولی الرحمان نے بیان جاری کیا تھا کہ وہ کشمیر میں شدت پسندوں کو بھیجیں گے اور شریعت نافذ کریں گے

پاکستان کی نو منتخب حکومت نے بھی بھارت کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو بہتر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ اب اس بات کو بھی ایک حد تک قبولیت حاصل ہوئی ہے کہ خود زیادہ تر کشمیری پاکستان کے ساتھ یکجا نہیں ہونا چاہتے۔

پاکستان کے سابق سفیر عارف کمال کے مطابق پاکستان کی سویلین اور فوجی قیادت کی کشمیر کے حوالے سے یہ سوچ ابھری ہے جو کشمیر کے بارے میں پاکستان کی پرانی پالیسی سے مختلف ہے۔ عارف کمال کہتے ہیں کہ دونوں، انڈیا اور پاکستان مسئلہ کشمیر کو اپنی مرضی سے نہیں حل کر پائے ہیں۔ نہ تو پاکستان بھارت کو کشمیر میں استصواب رائے کرنے پر رضامند کر پایا ہے اور نہ ہی بھارت کشمیر میں فوجی طاقت کے ذریعے اپنے مقاصد حل کر پایا ہے۔

سابق سفیر عارف کمال کا کہنا ہے کہ کشمیر اب ایک علاقے کو اپنے ساتھ ملانے کا جھگڑا نہیں ہے بلکہ سولہ ملین لوگوں کی زندگیوں کا مسئلہ ہے جو اب اپنے مسئلے کے حل کے لیے دہلی اور اسلام آباد سے باہر جانا شروع ہو گئے ہیں۔

اس صورتحال کو نظر میں رکھا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ کشمیر کا مسئلہ خطے کے امن و استحکام کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہے ۔ اسی لیے پاکستان کی حکومت نے کشمیری ’جہادی‘ گروپوں کی حوصلہ شکنی لیے بعض اقدامات کیے ہیں اور معیشت اور امن کی فروغ کی جانب زیادہ توجہ دی ہے لیکن اس کے باوجود بھارت کو ایک سٹریٹیجک خطرہ سمجھا جا رہا ہے۔

اس سال اگست میں دونوں ملکوں کی فوجوں کے درمیان کنٹرول لائن پر جھڑپیں ہوئیں۔ اگر اس تناظر میں دیکھا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ پاکستان پراکسی گروپوں کے ساتھ تعلقات برقرار رکھے گا تاکہ ضرورت کے وقت انہیں استعمال کیا جا سکے۔

اسی بارے میں