’کنٹرول لائن جہنم بن گئی‘

Image caption لائن آف کنٹرول پر آئے دن ہونے والی فائرنگ نے وہاں رہنے والوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے

’کنٹرول لائن کے نزدیک رہنے والے لوگ موت کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ہر طرف خوف اور بے یقینی کے ڈیرے ہیں۔ کنٹرول لائن ہمارے لیے جہنم بن گئی ہے۔ کشمیریوں کو اس عذاب سے نجات چاہیے۔‘ یہ الفاظ ہیں کنٹرول لائن کے نزدیکی قصبے لنگیٹ کے رکن اسمبلی اور سماجی کارکن انجینیئر عبدالرشید کے۔

اوڑی، پنچھ، آوورہ اور تنگ ڈار جیسے سرحدی علاقوں میں کشیدگی کے درمیان زندگی انتہائی مشکل ہو گئی ہے۔

تنگڈار کے باشندے نثار احمد لون کہتے ہیں ’جب گولہ باری ہوتی ہے یا بارودی سرنگ پھٹتی ہے تو کسی کا بازوجاتا ہے، کسی کا پیر جاتا ہے۔ کوئی مارا ہی جاتا ہے۔ یہ سارا بارڈر بہت خطرناک ہے۔‘ خود لون کے پیر میں لوہے کی چار راڈیں لگی ہوئی ہیں۔

آوورہ کے محمد اقبال کہتے ہیں کہ بس موت کے سائے میں زندگی بسر ہو رہہی ہے: ’نہ گھروں میں محفوظ ہیں اور نہ باہر جا سکتے ہیں۔ شام کو پتہ نہیں ہوتا کہ سویرا ہو گا۔‘

واجپئی کے دور حکومت میں 2003 میں کنٹرول لائن پر جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تھا۔ کشمیر کے حوالے سے یہ ایک بڑی کامیابی تھی۔ اس پر پوری طرح عمل ہوا، حالات بہتر ہوئے اور رشتوں میں بہتری آئی۔ لیکن اس سال کے آغاز کے ساتھ ہی جنگ بندی کی خلاف ورزیاں شروع ہو گئیں۔ گزشتہ تین مہینے میں دو سو سے زیادہ خلاف ورزیوں کی اطلاعات ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کنٹرول لائن پر کشیدگی سے ہر طرف گھبراہٹ پھیلی ہو ئی ہے۔ اوڑی اور پنچھ کے بعض علاقوں میں لوگ محفوظ مقامات پر منتقل ہو گئے ہیں۔

جو لوگ امن کی باتیں کر رہے تھے وہ بھی جوابی کارروائی کی باتیں کرنے لگے۔ ریاست کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کہتے ہیں: سممجھ میں نہیں آتا کہ جب دونوں ملکوں نے جنگ بندی کے معاہدے سے اتفاق کیا تھا تو پھر اسے کون پامال کر رہا ہے؟‘

کنٹرول لائن پر اس وقت کشیدگی برقرار ہے۔ پیر کو بھی کچھ حصوں میں خونریزی ہوئی ہے۔ دونوں جانب کے فوجی کمانڈروں کی ملاقاتیں بھی ہوئی ہیں۔ ایم ایل اے عبدالرشید کہتے ہیں کہ کشمیریوں کی تمنا ہے کہ جنگ بندی ایک بار پھر نافذ ہو: ’جنگ بندی ٹوٹنے سے کشمیریوں کا حوصلہ ٹوٹا ہے۔ ہر طرف بے یقینی ہے۔ جو لوگ سرحدوں پر رہ رہے ہیں وہی وہاں کے مصائب سمجھ سکتے ہیں دونوں ملکوں کے رہنماؤں کو مل بیٹھ کر بات چیت کرنی چاہیے اور کنٹرول لائن کے سوال کو انسانی جذبے سے حل کرنا چاہیے۔‘

کشمیر کو تقسیم کرنے والی کنٹرول لائن غالباً دنیا کی سب سے خطرناک سرحد ہے۔ یہی نہیں بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان غالباً یہ دنیا کا طویل ترین تنازع بھی ہے۔ کسی نہ کسی مرحلے پر تو اسے حل کرنا ہی ہو گا۔ لیکن کنٹرول لائن پر بسے ہوئے لوگوں کے حوصلے اب ٹوٹنے لگے ہیں۔

اسی بارے میں