قبائلی لڑکی جو ہاتھیوں سے بات کرتی ہے

Image caption بھارت کی ریاست جھارکھنڈ کی نرملا ٹوپو کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ہاتھیوں سے بات کرتی ہیں

بھارت کی مشرقی ریاست جھارکھنڈ کی 14 سالہ قبائلی لڑکی نرملا ٹوپّو ان دنوں کسی سلیبریٹی سے کم نہیں۔

رواں سال جون کے مہینے میں بھارتی ریاست اڑیسہ کے صنعتی شہر راؤرکیلا میں اس وقت خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہو گیا تھا جب شہر سے ملحق جنگل سے ہاتھیوں کا ایک جھنڈ رہائشی علاقوں میں گھس آیا تھا۔

محکمۂ جنگلات کے افسروں کا کہنا ہے کہ اس وقت نرملا نے ایک حقیقی ’پائڈ پائپر‘ کا کردار نبھاتے ہوئے ہاتھیوں کو واپس جنگل پہنچا دیا جس کے بعد لوگوں نے چین کا سانس لیا۔

کئی میل تک نرملا ہاتھیوں کے جھنڈ کے ساتھ چلتی رہی تاکہ انہیں جنگل واپس بھیجا جا سکے اور اس عمل کے دوران اس کے پاؤں میں زخم بھی آئے جس میں بعد میں انفیکشن ہو گیا اور وہ ایک قسم کا ناسور بن گیا۔

انھوں نے بی بی سی ہندی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اب انفیکشن دور ہو گیا ہے اور زخم تقریباً سوکھ چکے ہیں۔‘ عالمی فلاحی تنظیم ریڈ کراس کا مقامی شعبہ اس کے علاج کی کوششوں میں شامل ہے۔

اڑیسہ کے سرکاری اہلکاروں نے بتایا کہ جب حکومت شہر سے ہاتھیوں کو نکالنے میں ناکام ہو گئی تو اس نے پڑوسی ریاست جھارکھنڈ کی نرملا سے ہاتھیوں کے نکالنے کے سلسلے میں امداد طلب کی۔

محکمۂ جنگلات کے اہلکار پی کے دھولا نے کہا: ’جب ہاتھیوں کا جھنڈ شہر میں داخل ہوا تو ہم نے ان کی نقل و حرکت کو کنٹرول کرنے کی حتی الامکان کوشش کی۔ اس جھنڈ میں ہاتھیوں کے دو بچوں سمیت کل 11 ہاتھی تھے۔ ہم کسی طرح انھیں ایک فٹ بال سٹیڈیم میں پہنچانے میں کامیاب رہے لیکن ہماری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ آخر انہیں جنگل میں کس طرح واپس روانہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ بڑا مشکل کام تھا۔‘

مسٹر دھولا کا کہنا ہے کہ شش و پنج کے اسی عالم میں محکمۂ جنگلات نے نرملا کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔

انھوں نے کہا: ’ہمیں علم تھا کہ پڑوسی ریاست جھارکھنڈ میں ایک قبائلی لڑکی رہتی ہے جو ہاتھیوں سے بات کرتی ہے اور وہ انہیں جنگل میں واپس بھیج سکتی ہے۔ ہم نے ان کے والد سے رابطہ کیا اور وہ لڑکی اپنے گاؤں کے بعض دیگر قبائلیوں کے ساتھ یہاں آئی۔‘

Image caption انھیں ان کے علاقے میں لیڈی ٹارزن کے نام سے پکارا جاتاہے

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ریاستی حکومت نے اس لڑکی کی خدمات کے لیے اسے معاوضہ بھی دیا۔

نرملا نے بتایا کہ وہ ہاتھیوں سے مقامی قبائلی بولی منڈاری میں بات کرتی ہیں اور جانوروں کو وہ اسی زبان میں اپنے علاقے میں لوٹ جانے کے لیے کہتی ہیں۔

نرملا رومن کیتھولک ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ’پہلے میں دعا کرتی ہوں اور پھر ان سے بات کرتی ہوں۔ میں جو کہتی ہوں اسے وہ سمجھتے ہیں۔ میں ان سے کہتی ہوں کہ یہ ان کا گھر نہیں ہے انہیں وہاں لوٹ جانا چاہیے جہاں سے وہ آئے ہیں۔‘

نرملا کا کہنا ہے کہ جنگلی ہاتھیوں نے ان کی ماں کو مار ڈالا تھا اس کے بعد ہی انھوں نے ہاتھیوں کو بھگانے کا طریقہ سیکھنے کا فیصلہ کیا۔

ان کے کام میں انہیں ان کے والد اور بعض مقامی بچوں کی مدد حاصل ہے۔

انھوں نے بتایا: ’پہلے ہم ہاتھیوں کے جھنڈ کو گھیر لیتے ہیں اور پھر اس کے قریب جاتے ہیں اور دعا کے بعد ان سے بات کرتے ہیں۔‘

لیکن بعض لوگ نرملا کے طریقۂ کار کے معتقد نہیں ہیں۔

Image caption جھارکھنڈ، اڑیسہ اور چھتیس گڑھ کی ریاستوں کے جنگل میں تقریبا تین ہزار ہاتھی گھومتے ہیں

اڑیسہ کے سماجی کارکن ربی پردھان کہتے ہیں کہ اس بات کا کوئی سائنسی ثبوت نہیں ہے کہ ہاتھی انسانوں کی بات سمجھتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ لڑکی کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ ہاتھیوں سے اپنی قبائلی زبان میں بات کرتی ہے لیکن ہاتھی اسے سمجھتے بھی ہیں، لیکن اسے تسلیم کرنے کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔

بہر حال بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ اس لیے ممکن ہے کہ قبائلی اور ہاتھی یا پھر دوسرے جنگلی جانور صدیوں سے ایک ساتھ رہتے آ رہے ہیں۔

جھارکھنڈ کے سیمڈیگا علاقے کے نیل جسٹن بیک کا کہنا ہے کہ نرملا کا جس علاقے سے تعلق ہے وہاں لوگ یہ جانتے ہیں کہ جنگلی جانوروں کے ساتھ کیسا سلوک کیا جاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’جھارکھنڈ میں ہم نرملا کو لیڈی ٹارزن کے نام سے پکارتے ہیں جب کبھی طوفان برپا کرتے ہاتھی کسی گاؤں میں داخل ہوتے ہیں یا پھر فصلیں تباہ کرنے پر آمادہ ہوتے ہیں تو مقامی محکمۂ جنگلات کے اہلکار کبھی نہیں آتے۔ ایسے میں گاؤں کے لوگ نرملا کو مدد کے لیے پکارتے ہیں اور پھر نرملا ان سے بات کرکے انہیں واپس بھیجنے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔‘

واضح رہے کہ جھارکھنڈ، اڑیسہ اور چھتیس گڑھ کے جنگلات میں تقریبا تین ہزار ہاتھی گھومتے ہیں جو کہ انسانوں اور جانوروں کے تصادم کا محور کہلاتا ہے۔

ماحولیات اور جنگلات کی وزارت کے مطابق گذشتہ ایک دہائی کے دوران انسان اور جانور کے تصادم میں تقریباً 200 ہاتھی اور 800 افراد مارے جا چکے ہیں۔

اسی بارے میں