افغان امن کونسل ملا برادر سے ملاقات کے لیے جلد پاکستان کا دورہ کرے گی: حامد کرزئی

Image caption نواز شریف اور کرزئی نے جنوبی ایشیائی خطے میں استحکام کے حوالے سے سہ فریقی مذاکرات کے چوتھے دور میں برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون سے لندن میں ملاقات کی تھی

افغان صدر حامد کرزئی کا کہنا ہے کہ پاکستانی وزیر اعظم کے ساتھ ایک معاہدہ ہوا ہے جس کے تحت افغان امن کونسل اہم طالبان کمانڈر ملا برادر سے ملاقات کے لیے جلد پاکستان کا دورہ کرے گی۔

یہ بات بدھ کو افغانستان کے صدارتی محل سے جاری ہونے والے بیان میں کہی گئی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس بارے میں وزیر اعظم پاکستان نواز شریف کے ساتھ معاہدہ طے پایا ہے۔

کیا ملا برادر کی رہائی محض علامتی تھی؟

طالبان رہنما ملا برادر کو رہا کردیا گیا: پاکستان

گذشتہ روز نواز شریف اور کرزئی نے جنوبی ایشیائی خطے میں استحکام کے سلسلے سے سہ فریقی مذاکرات کے چوتھے دور میں برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون سے لندن میں ملاقات کی تھی۔

بیان میں کہا گیا ہے: ’تینوں رہنماؤں نے افغانستان میں امن کے عمل میں پاکستان کے کردار پر بات چیت کی۔ اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ملا برادر سے ملنے کے لیے افغان امن کونسل عنقریب پاکستان کا دورہ کرے گی۔‘

ملا برادر کو ستمبر میں افغانستان میں امن مذاکرات شروع کرنے کی کوششوں کے طور پر پاکستان کی جیل سے رہا کیا گیا تھا۔

حامد کرزئی کے دفتر سے جاری ہونے والے اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ معاہدے کے تحت ایک اعلیٰ سطح کا امن کونسل کا وفد مستقبل قریب میں ملا برادر سے ملاقات کے لیے پاکستان جائے گا۔

اس افغان امن کونسل کو طالبان جنگجوؤں کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کا اصرار ہے کہ ماضی میں طالبان کے سپریم رہنما کے نائب رہنے والے ملا برادر کو رہا کر دیا گیا ہے اور وہ امن مذاکرات میں پیش رفت کے لیے کسی سے بھی مل سکتے ہیں۔

دوسری جانب افغان طالبان کا کہنا ہے کہ برادر اب بھی زیر حراست ہیں اور ان کے بقول پاکستان کے سکیورٹی حکام گذشتہ مہینے کہہ چکے ہیں کہ برادر کو کراچی کے ایک سیف ہاؤس میں رکھا گیا ہے۔

افغان حکام کا خیال ہے کہ اگر برادر کو مکمل آزادی کے ساتھ کام کرنے دیا جائے تو وہ طالبان رہنماؤں کو بارہ سال سے جاری شدت پسندی ختم کرنے پر آمادہ کر سکتے ہیں۔

افغان صدر کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ نواز شریف نے کابل کا پہلا دورہ کرنے کی ہامی بھری ہے لیکن اس ضمن میں پاکستان کی جانب سے کوئی تصدیق نہیں کی گئی۔

اسی بارے میں