پٹنہ دھماکے: فون کالز کی بنیاد پر ایک اورگرفتاری

Image caption پٹنہ دھماکوں کے درجنوں زخمی اب بھی ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں

بھارتی ریاست بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں سلسلہ وار دھماکوں کے سلسلے میں پولیس نے ایک اور شخص کو گرفتار کیا ہے۔

پٹنہ میں اتوار کو بی جے پی کے رہنما نریندر مودی کے جلسے سے کچھ دیر قبل ہلکی نوعیت کے متعدد دھماکے ہوئے تھے جن سے 6 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔

پولیس اس سلسلے میں پہلے ہی پٹنہ سے دو افراد کو گرفتار کر چکی ہے اور اب تیسری گرفتاری مشرقی چمپارن سے ہوئی ہے۔

مشرقی چمپارن کی پولیس کے مطابق ارشد نامی شخص کو تھانہ کلیان کی حدود میں الولا گاؤں سے حراست میں لے کر پٹنہ پولیس کے حوالے کیا گیا۔

پولیس افسر نے بتایا کہ پٹنہ میں گرفتار کیے جانے والے مشتبہ شخص امتیاز کے فون اور کال کی تفصیلات میں ارشد کا نمبر پایا گیا تھا۔

ادھر پٹنہ میں منگل کو بھی پولیس نے تین بم برآمد کیے۔ یہ بم گاندھی میدان سے ہی ملے اور پولیس کنٹرول روم کے مطابق ان میں ٹائمر لگے تھے تاہم انہیں ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔

اتوار کو بھی دھماکوں کے بعد گاندھی میدان سے چار مزید بم ملے تھے جنہیں ناکارہ بنایا گیا تھا۔

نامہ نگار کے مطابق سخت سکیورٹی کے باوجود علاقے سے بم ملنے کے واقعے سے پولیس اور سکیورٹی ایجنسیوں کی صلاحیت پر بھی سوال کھڑا ہو گیا ہے۔

اسی بارے میں