جھارکھنڈ: ہائی کورٹ نے لالو کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی

Image caption بہار کے سابق وزیر اعلیٰ لالو پرساد یادو کی پارلیمان کی رکنیت ختم کردی گئی ہے

بھارت کی ریاست جھارکھنڈ کی ہائی کورٹ نے چارہ گھپلے مقدمے میں جیل میں گرفتار بہار کے سابق وزیر اعلیٰ لالو پرساد یادو کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی ہے۔

راشٹریہ جنتا دل کے صدر لالو کی درخواست پر سماعت بدھ کو مکمل ہو گئی تھی لیکن عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

ہائی کورٹ نے اس سے پہلے جمعہ کو اس معاملے میں جیل بھیجے گئے بہار کے ایک اور سابق وزیر اعلیٰ جگن ناتھ مشر کو عبوری ضمانت دے دی تھی۔

واضح رہے کہ بہار کے سابق وزیر اعلیٰ لالو پرساد یادو کی پارلیمان کی رکنیت ختم کردی گئی ہے اور وہ چارہ گھپلے سے متعلق ایک کیس میں پانچ سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔

بھارتی سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کےتحت اگر کسی شخص کو دو سال سے زیادہ کی سزا سنائی جاتی ہے تو وہ کسی قانون ساز ادارے کا رکن نہیں رہ سکتا۔

لالو پرساد یادو بہار کے سارن حلقے سے لوک سبھا کے رکن تھے۔ اب وہ گیارہ سال تک اتنخابی سیاست میں حصہ نہیں لے سکیں گے کیونکہ سزا پوری کرنے کے پانچ سال بعد تک وہ کوئی الیکشن نہیں لڑ سکتے۔

بھارت کی حکومت نے حال ہی میں ایک آرڈیننس جاری کیا تھا جس کا مقصد یہ تھا کہ ان سیاست دانوں کی پارلمیان کی رکنیت اور انتخاب لڑنے کے حق کا اس وقت تک تحفظ کیا جا سکے جب تک انھیں کسی مجرمانہ معاملے میں سپریم کورٹ سے سزا نہیں ہوتی۔

حکومت نے شدید تنقیش اور سیاسی تنازعات کے بعد بدھ کو یہ آرڈیننیس واپس لے لیا ہے۔

اس سے قبل لالو پرساد اور 44 دیگر افراد پر چائیباسا خزانے سے 90 کی دہائی میں 37.7 کروڑ روپے نکالنے کا الزام تھا۔

اسی بارے میں