’بھارت بتوں کا کباڑ خانہ‘

Image caption سردار پٹیل بھارت کے پہلے وزیر داخلہ تھے جنہیں آئرن مین یعنی مرد آہن کہا جاتا ہے

گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی نے اپنی ریاست میں بھارت کے پہلے وزیر داخلہ سردار ولبھ بھائی پٹیل کے ایک دیو قامت مجسے کا سنگ بنیاد رکھا ہے۔

یہ مجسمہ دنیا کا سب سے اونچا مجسمہ ہو گا۔ یہ امریکہ کے اسٹیچیو آف لبرٹی کے مجسمے سے ڈھائی گنا اونچا ہو گا۔ سردار پٹیل کو بھارت کا ’مرد آہن‘ کہا جاتا ہے اور اسی مناسبت سے یہ مجسمہ فولاد کا بنایا جا رہا ہے۔

سردار پٹیل جواہر لال نہرو کے سب سے قریبی ساتھیوں میں سے ایک تھے اور وہ کانگریس کے ایک اہم رہنما تھے۔ یہ سوال بہت اہم ہے کہ آخر بی جے پی نے کانگریس کے ایک رہنما کو ملک کے عظیم ہیرو کے طور پر پیش کرنے کا فیصلہ کیوں کیا۔

جب سے مودی نے پٹیل کے مجسمے کا سنگ بنیاد رکھا ہے اس وقت سے ملک میں سیکولرزم کے سوال پر بحث چھڑی ہوئی ہے۔ سردار پٹیل کی شخصیت اور ان کےنظریات کے بارے میں بڑے بڑے دانشوروں کے مضامین شائع ہورہے ہیں۔

آزادی کے بعد 65 برس میں صرف دس برس چھوڑ کر ملک پر کانگریس نے ہی حکومت کی ہے۔ کانگریس نہرو-گاندھی خاندان میں اس قدر رچ بس گئی ہے کہ وہ اس سے باہر کچھ دیکھ نہیں پاتی۔

آزادی کی جد وجہد میں گاندھی جی اور نہرو کے علاوہ درجنوں اعلی سطح کے رہنما شریک تھے جن کی خدمات ملک کی آزادی میں کبھی فراموش نہیں کی جا سکتیں۔ ان رہنماؤں کی سیاسی بصیرت نے ایک آزاد اور جد ید ہندوستان کی تعمیر میں کلیدی کردار ادا کیا۔ یہ وہ رہنما تھے جن کی بے لوث قربانیوں سے ایک نئے بھارت کی بنیاد رکھی گئی۔

لیکن وقت گزرنے کے ساتھ کانگریس نے نہرو-گاندھی کے علاوہ اپنے باقی سارے رہنماؤں کو تاریخ کے صقحات میں گم کر دیا۔ کانگریس کی خاندان پرستی اس حد تک پہنچ گئی کہ بندرگاہوں، ہوائی اڈوں، نہروں، اسکولوں - یونیوسٹیوں، سٹیڈیموں، شاہراہوں، حکومتی اسکیموں اور یہاں تک کہ محلوں کے نام بھی نہرو، اندرا گاندھی اورراجیو گاندھی کے نام پر ہی ملتے ہیں۔ بہت مشکل سے کسی اور رہنما کا نام نظر آتا ہے۔

ملک کے عوام اب اس طرح کی دیوانگی سے بیزارہو چکے ہیں۔ انہیں ایک نئے آئیکن، نئے رول ماڈل اورنئے ہیرو کی تلاش ہے۔ نریندر مودی اس عوامی خلش کو اچھی طرح محسوس کر رہے ہیں۔ لیکن بی جے پی کی بدقسمتی یہ رہی ہے کہ گزشتہ ایک صدی میں مختلف شکلوں میں ہندوتوا کی تحریک کوئی بڑا رہنما نہ دے سکی۔

Image caption پٹیل کانگریس کے بڑے رہنماؤں میں شمار ہوتے رہے

ہندوئیت کے علمبردار گاندھی جی کواس لیے قبول نہ کر سکے کیونکہ وہ ان کے عدم تشددکے فلسفے کو ہندوؤں کی کمزوری سے تعبیر کرتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق گاندھی کوبہت سے لوگ مسلم نوازبھی تصور کرتے ہیں۔ اس کے بر عکس ایک عرصے سے بی جے پی اور بہت سے ہندونواز دانشور اور مورخ سردار پٹیل کو ایک ہندونواز رہنما کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ یہ بھی بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ پٹیل نہرو سے زیادہ قابل تھے اور اصولی طور پر انہیں ہی وزیر اعظم ہونا چاہیے تھا لیکن نہرو اور گاندھی نے انہیں وزیر اعظم نہیں بننے دیا۔

پٹیل کے مجسمے نے کانگریس کو اس لیے مشکل میں ڈال دیا کہ بی جے پی نے نہ صرف یہ کہ ان کے ایک رہنما کو اپنا آئڈیئل بنا کر پیش کر دیا بلکہ وہ انہیں ایک ایسے ہندو نواز رہنما کے طور پر پیش کر رہے ہیں جو کانگریس کے سیکولرزم کے تصور سے اتفاق نہیں رکھتے۔

درا صل سیاسی بتوں کی یہ جنگ پارلیمانی انتخابات میں انتخابی رسہ کشی کی شدت کی غماز ہے۔ بی جے پی بنیادی طور پر ایک ہندوئیت پرست پارٹی ہے۔ وہ انتخابات میں اگرچہ ’بہتر نظام‘ کے نعرے کے ساتھ اتری ہے لیکن ہندوئیت کے چولے کو وہ الگ نہیں کر سکی ہے۔ اپنے نظریے کے فروغ کے لیے کبھی وہ قوم پرستی تو کبھی سیاسی بتوں کا استمعال کر لیتی ہے۔

لیکن مجسموں کی سیاست سے عوام ہی نہیں اب سیاسی جماعتیں بھی بیزار ہونے لگی ہیں۔ سردار پٹیل کے مجسمے کی سنگ بنیاد رکھے جانے پر ملک کے سرکردہ سیاسی رہنما شرد یادو نے اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہو کہا کہ بھارت بتوں کا کباڑ خانہ بن چکا ہے۔

اسی بارے میں