’خلا میں بھارت کی چین سے مسابقت نہیں‘

Image caption مریخ مشن کو بھارت کے مشرقی ساحل پر واقع شری ہری كوٹا سے لانچ کیا جا رہا ہے

سیارہ مریخ کی جانب بھارت کا پہلا خلائی مشن منگل کو روانہ ہوناہے اور بھارت کے خلائی ادارے کے سربراہ کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں ان کا چین سے کوئی مقابلہ نہیں ہے۔

بھارت میں خلائی تحقیق کے ادارے اسرو (آئی ایس آر او) کے سربراہ کے رادھا کرشنن نے اس مشن کے متعلق کہا ہے کہ ’جس مریخ مشن کی ہم منصوبہ بندی کر رہے ہیں اس کا پہلا ہدف بھارت کی خلائی صلاحیت کا اظہار ہے ۔‘

انھوں اس مشن کے ذریعے سیارے مریخ کے بارے میں معنی خیز اور سائنسی تجربات حاصل کرنے کی بات بھی کہی۔

رادھا کرشنن نے کہا کہ ’جب ہم مریخ کی بات کرتے ہیں تو سب سے پہلے ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آيا وہاں زندگی ممکن ہے یا نہیں۔ ہم اس بابت معلومات حاصل کرنا چاہیں گے۔‘

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’کسی ملک سے ہمارا مقابلہ نہیں ہے۔ چین کی اپنی ترجیحات ہیں اور ہماری اپنی۔ ہماری کسی ملک سے کوئی ریس نہیں ہے۔ اگر کوئی ریس ہے تو وہ خود سے ہے۔‘

ایک ایسے ملک کے لیے جہاں ابھی بھی کروڑوں لوگ بھوکے سوتے ہیں کیا وہاں اس طرح کا پروگرام چلایا جانا چاہیے۔ اس سوال کے جواب میں انھوں نے کہا: ’گذشتہ 50 سال سے یہ سوال پوچھا جا رہا ہے کہ بھارت خلائی پروگرام کیوں چلا رہا ہے۔ اس کا جواب یہی ہے کہ عام آدمی اور سماج کے مسائل کا حل تلاش کرنے کے لیے۔‘

اسرو کے سربراہ نے کہا کہ ’اس شعبے میں بھارت کا کردار دنیا کے لیے مثالی ہے۔ اگر ہم مرکزی حکومت کے اخراجات کی بات کریں تو ہم بجٹ کا صرف 0.34 فیصد حصہ ہی اپنے خلائی پروگرام پر خرچ کرتے ہیں۔ اس کا زیادہ تر حصہ ٹیلی مواصلات اور سمت نما مصنوعی سیارہ کی تعمیر پر خرچ ہو جاتا ہے۔ مریخ مشن پر اس کا صرف آٹھ فیصد خرچ ہوا ہے جبکہ اس کے فوائد بہت ہیں۔‘

انھوں نے مشن کو بھیجنے کے وقت کے بارے میں کہا: ’مریخ پر کسی بھی مشن کو کسی خاص وقت میں ہی بھیجا جا سکتا ہے۔ ہمارے پاس مستقبل قریب میں سب سے پہلے جو موزوں مدت ہے وہ نومبر 2013 ہے۔ ہمیں کسی بھی حالت میں 30 نومبر تک جہاز کو لانچ کر دینا ہے کیونکہ اس دوران زمین اور مریخ کے درمیان فاصلہ بہت کم ہوتا ہے۔‘

اطلاعات کے مطابق مریخ مشن کو منگل کے روز دوپہر دو بجے کے بعد بھارت کے مشرقی ساحل پر واقع شری ہری كوٹا سے لانچ کیا جائے گا۔ اس مشن پر کل 450 کروڑ روپے کے اخراجات آئے ہیں۔

جہاز نومبر 2013 سے ستمبر 2014 کے درمیان اپنے مشن کو مکمل کرلےگا۔ نومبر میں شروع ہونے کے بعد یہ زمین کی مدار میں قائم ہو جائے گا۔ اس کے بعد اس کے چھ انجن اس سے الگ ہو کر اسے وہاں سے 215 ہزار کلومیٹر کے بعید ترین مقام پر قائم کر دیں گے، جہاں یہ تقریبا 25 دن تک رہے گا۔ پھر اسے 30 نومبر کو دو سیاروں کے درمیانی حصہ میں بھیج دیا جائے گا۔

انھوں نے بتایا کہ جب یہ مریخ کے مدار میں پہنچ جائے گا اس کے بعد یہ اپنا کام شروع کر دے گا اور اعداد و شمار بھیجنا شروع کر دے گا۔

اسرو کے سربراہ نے بتایا کہ کسی بھی طرح کے اعداد و شمار کو مریخ کے مدار سے زمین تک آنے میں صرف 4 سے 20 منٹ لگیں گے۔

اسی بارے میں