حکیم اللہ محسود کو غلط وقت پر ہلاک کیا گیا: حامد کرزئی

Image caption قیامِ امن کی کوششیں زیادہ متاثر ہونے کا امکان نہیں: کرزئی

پاکستان کے بعد افغانستان نے بھی امریکی ڈرون حملے میں تحریکِ طالبان پاکستان کے امیر حکیم اللہ محسود کی ہلاکت پر تنقید کی ہے اور افغان صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ طالبان رہنما کو ’غلط وقت پر‘ ہلاک کیا گیا ہے۔

افغان صدراتی محل سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر کرزئی نے یہ بات امریکی اراکینِ کانگریس کے وفد سے ملاقات کے دوران کہی۔

اتوار کی شب سامنے آنے والے بیان کے مطابق صدر کرزئی نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ اس ہلاکت کے باوجود قیامِ امن کی کوششیں متاثر نہیں ہوں گی۔

صدر کرزئی کا کہنا تھا کہ یہ کوششیں ابھی اپنے ابتدائی مراحل میں ہی تھیں اس لیے ان کے زیادہ متاثر ہونے کا امکان نہیں ہے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں لندن میں افغان صدر نے پاکستانی وزیراعظم میاں نواز شریف سے ملاقات کی تھی جس کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کی امید بھی ظاہر کی گئی تھی۔

اس سے قبل پاکستان نے امریکی جاسوس طیارے کے میزائل حملے کا نشانہ بننے والے پاکستانی طالبان کے سربراہ کی ہلاکت کو امن کو سبوتاژ کرنے کی سازش قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ حالیہ ڈرون حملوں کی وجہ سے ملک میں قیام امن کے لیے تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ بات چیت کی کوششوں پر منفی اثر پڑے گا۔

Image caption حامد کرزئی اور نواز شریف حال ہی میں لندن میں ملے تھے

پاکستان نے سنیچر کو اسلام آباد میں امریکی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر کے ڈرون حملوں پر امریکہ سے احتجاج بھی کیا تھا۔

سنیچر کو ہی پاکستانی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے ایک پریس کانفرنس میں حکیم اللہ کی ہلاکت کو امن کی کوششوں کے قتل سے تشبیہ دی تھی۔

وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ حالیہ ڈرون حملے بات چیت کے عمل پر شب خون مارنے کے مترادف ہیں۔ انہوں نے امریکی سفیر سے اپنی حالیہ ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے امریکی سفیر پر واضح کیا تھا کہ امریکہ کو ڈرون حملوں کے بارے میں پاکستان کی موجودہ حکومت کے موقف کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔

چوہدری نثار نے امریکی ارادوں پر بھی تحفظات کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ اگر امریکہ نے حکیم اللہ محسود کو نشانہ بنانا تھا تو اس نے اس پہلے اتنے مواقع کیوں ضائع کیے۔ انھوں نے کہا حکیم اللہ محسود کئی بار افغانستان گئے اور اگر امریکہ چاہتا تو باآسانی انہیں نشانہ بنا سکتا تھا۔

اسی بارے میں