بنگلہ دیش: ڈیڑھ سو فوجیوں کو سزائے موت

Image caption بنگلہ دیش رائفلز کے ہیڈ کوارٹر میں ہونے والی بغاوت میں بعد ازاں دوسرے بارڈر یونٹ بھی شامل ہو گئے تھے

بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے 2009 میں سرحدی محفاظوں کی خونی بغاوت کے جرم میں ایک سو پچاس فوجی اہلکاروں کی موت کی سزا سنائی ہے۔

ایک سو پچاس دیگر افراد کو عمر قید کی سزا دی گئی ہے، جن میں زیادہ تر سرحدی فوج کے اہلکار ہیں۔

مقدمے کا فیصلہ ابھی سنایا جا رہا ہے۔ 23 عام شہریوں کو بھی سازش کے الزامات کا سامنا ہے۔

بنگلہ دیش: بغاوت، 723 باغی قید

823 فوجیوں کے خلاف شہری عدالت میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے جنہیں فوجی عدالت نے بغاوت کے الزام میں قید کی سزا سنا رکھی ہے۔

2009 میں ڈھاکہ میں سرحدی فوج کے اہلکاروں نے تنخواہوں میں اضافے اور کچھ دوسرے تنازعات کی وجہ سے بغاوت کر دی تھی۔ اس دوران تشدد پھوٹ پڑا اور تین گھنٹوں میں 74 افراد ہلاک ہو گئے جن میں 57 اعلیٰ افسران بھی شامل تھے۔

اس وقت باغی فوجیوں نے قتل کیے جانے والے افسران کی لاشیں اجتماعی قبروں میں دفن کر دیں تھیں۔

دوسرے یونٹوں تک پھیل جانے والے اس بغاوت کے جرم میں چھ ہزار کے قریب فوجیوں کو پہلے ہی جیل ہو چکی ہے۔

2009 میں ڈھاکہ میں بنگلہ دیش رائفلز کے ہیڈ کوارٹر میں ہونے والی بغاوت میں بعد ازاں دوسرے بارڈر یونٹ بھی شامل ہو گئے تھے اور اسے ملکی تاریخ میں سکیورٹی فورسز کی بدترین بغاوت قرار دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں