’نریندر مودی نئی کے ساتھ پرانی تاریخ بھی بدلنے کے درپے‘

سکندرِ اعظم بہار آئے تھے!

اگر بہار نہ ہوتا تو کچھ بھی نہ ہوتا۔ وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار نریندر مودی بہار پہنچے تو انہوں نے ریاست کے دانشمند عوام کو تاریخ کا ایسا سبق پڑھایا جسے وہ آسانی سے نہیں بھلا پائیں گے۔

مسٹر مودی کے مطابق 2300 سال پہلے جب سکندر اعظم نے ہندوستان پر چڑھائی کی تو بہار ہی کی وجہ سے ہم بال بال بچ گئے! بہار نے ہی سکندر کو مار بھگایا تھا، وہ بھلے ہی وہاں کبھی گئے ہی نہ ہوں!

مودی بھارت کے سب سے طاقتور سیاست دان

سکندر اعظم کی طرح نریندر مودی بھی اب ملک پر حکمرانی کرنا چاہتے ہیں۔ اور ان کے لیے کسی بھی قیمت پر بہار کو فتح کرنا ضروری ہے۔ شاید اسی لیے وہ بہار کی ایک نئی زیادہ سنہری تاریخ لکھ رہے ہیں۔

جب مسٹر مودی بہار میں درس و تدریس کے سنہرے دور کے بارے میں سوچتے ہیں تو ان کے ذہن میں تکشیلا اور نالندا کی تصویر ابھرتی ہے۔ یہ بات اور ہے کہ تکشیلا (پاکستان کا موجودہ شہر ٹیکسلا) کا نہ اب بہار سے کوئی تعلق ہےاور نہ دو ہزار سال پہلے تھا!

مورخین کو تو چھوڑیے خود بہار کے وزیر اعلیٰ تک انکار کر رہے ہیں کہ سکندر نے کبھی ان کی ریاست کا رخ کیا تھا، آتے تو انہیں ضرور پتہ چلتا، اتنی بڑی فوج ساتھ لے کر جو چل رہے تھے! وزیر اعلیٰ خود بہاری ہیں اور اگر سکندر کی فوجوں کو پسپا کرنے کا سہرا اپنے سر باندھ سکتے تو موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے، اس لیے ان کی بات پر اعتبار کر لینا چاہیے!

لیکن یہ بات نریندر مودی کو کون سمجھائے۔ ان باریکیوں کے لیے ان کے پاس وقت کہاں؟ وہ مستقبل بدلنے کے وعدے کے ساتھ میدان میں اترے تھے لیکن آغاز ماضی سےکررہے ہیں۔

مودی صاحب پلیز، آپ نئی تاریخ ضرور رقم کیجیے لیکن پرانی، جیسی بھی ہے اسے ویسا ہی چھوڑ دیجیے۔ اگر آپ تکشیلا بہار کے لیے مانگیں گے تو پاکستان کے ساتھ ایک اور نیا تنازع کھڑا ہوجائے گا!

’اوریجنل آئرن مین‘

Image caption سردار ولبھ بھائی پٹیل کا یہ مجسمہ دنیا کا سب سے بڑا مجسمہ ہوگا

انڈیا میں ’مرد آہن‘ کے خطاب کے تین دعویدار ہیں۔ کانگریس کے سردار ولبھ بھائی پٹیل (جنہیں آپ اوریجنل آئرن مین کہہ سکتے ہیں) اور اس کے بعد بی جے پی کے دو رہنما لال کرشن اڈوانی اور نریندر مودی۔

سردار پٹیل ملک کے پہلے وزیر داخلہ تھے۔ آزادی کے بعد انہی کی قیادت میں ساڑھے پانچ سو سے زیادہ ریاستوں کو ایک متحد ملک کی شکل دی گئی۔ اور انہی کی ہدایت پر حیدرآباد دکن پر چڑھائی کی گئی کیونکہ نظام عثمان علی خان ہندوستان کے ساتھ الحاق کے حق میں نہیں تھے۔

اسی لیے قوم پرست ہندو تنظیمیں انہیں اپنا ہیرو مانتی ہیں۔ ان کا پرانا موقف ہے کہ اگر جواہر لال نہرو کے بجائے سردار پٹیل کو وزیر اعظم بنایا جاتا تو آج ملک کی شکل کچھ اور ہی ہوتی کیونکہ نہرو اور پٹیل کے درمیان شروع سے ہی نظریاتی اختلافات تھے۔

اس پس منظر میں آج کل بی جے پی اور کانگریس کے درمیان ان کی وراثت پر رسہ کشی چل رہی ہے۔ اور نریندر مودی گجرات میں سردار پٹیل کا ایک دیو قامت مجسمہ تعمیر کروا رہے ہیں جس پر ڈھائی ہزار کروڑ (25 ارب) روپے خرچ ہوں گے، یعنی مریخ کو جانے والے انڈیا کے مشن سے پانچ گنا زیادہ!

سردار ولبھ بھائی پٹیل کا یہ مجسمہ دنیا کا سب سے بڑا مجسمہ ہوگا، تقریباً چھ سو فٹ اونچا۔

آپ شاید سمجھیں گے کہ انڈیا جیسے غریب ملک میں یہ پیسے کی بربادی ہے لیکن مجسمے کے مکمل ہونے کے بعد مریخ پر جانے کے لیے خلائی جہاز کی ضرورت نہیں پڑے گی، جہاں یہ مجسمہ ختم ہوگا وہاں سے مریخ کا راستہ پیدل بھی طے کیا جاسکتا ہے، اور وقت بس اتنا ہی لگے گا جتنا سکندر اعظم کو پنجاب سے بہار پہنچنے میں لگا تھا۔

داؤد ابراہیم کا دل بدل گیا؟

Image caption انڈین کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان دلیپ وینگسر کے مطابق داؤد ابراہیم نے جیت کی صورت میں ٹیم کو انعام کی پیشکش کی تھی

انڈین کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان دلیپ وینگسرکر نے یہ حیرت انگیز انکشاف کیا ہے کہ 1986 میں انڈر ورلڈ کے ڈان داؤد ابراہیم شارجہ میں پاکستان کے خلاف ایک میچ سے پہلے ہندوستانی ٹیم کے ڈریسنگ روم میں آئے تھے اور انہوں نے یہ پیش کش کی تھی کہ اگر انڈیا نے پاکستان کو ہرا دیا تو وہ ہر انڈین کھلاڑی کو ایک ایک گاڑی تحفے میں دیں گے۔

یہ وہی یادگار میچ تھا جس میں چیتن شرما کی آخری گیند پر جاوید میانداد نےچھکا مارا تھا، اور اس چھکے نے ہند پاک کرکٹ کا توازن بدل دیا تھا۔

اس کے بعد کی تاریخ آپ کو معلوم ہی ہے۔ 1993 میں ممبئی میں بم دھماکے ہوئے اور انڈیا کا الزام ہے کہ اس کے بعد داؤد ابراہیم کراچی چلے گئے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وہ اب بھی انڈین ٹیم کو سپورٹ کرتے ہیں؟ اگر ہاں تو یہ ثابت ہو جائے گا کہ سیاست، پیشے اور سپورٹس کو الگ رکھا جاسکتا ہے! ویسے بھی آج کل وقت، تاریخ اور وفاداریاں بدلتے دیر نہیں لگتی۔

اسی بارے میں