20 سال سے ندی تیر کر سکول جانے والا استاد

Image caption کیرالہ کے عبدالملک گذشتہ بیس برسوں سے روزانہ تیر کر سکول جاتے ہیں

عبدالملک گذشتہ بیس سال سے روزانہ ندی تیر كر پار کرتے ہیں اور دوسرے گاؤں کے سکول میں پڑھانے جاتے ہیں۔

بھارت کی جنوبی ریاست کیرالا کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہنے والے ریاضی کے استاد عبد الملک نے 20 سال میں کبھی سکول پہنچنے میں تاخیر نہیں کی اور نہ ہی کبھی کوئی چھٹی لی ہے۔

آج بھی وہ سر پر بیگ رکھ ربر کے ٹائر کے سہارے تیركر بچوں کو پڑھانے سکول جاتے ہیں۔ اپنی زندگی کی یہ انوکھی داستان عبد الملک نے بی بی سی کے خاص پروگرام آؤٹ لک سے بات کرتے ہوئی بیان کی۔

اپنے گاؤں کے بارے میں عبدالملک بتاتے ہیں: ’یہ ایک چھوٹا سا گاؤں ہے۔ چھوٹا گاؤں ہونے کے باوجود یہ بہت ہی خاص ہے۔ بہت سے تعلیم یافتہ لوگوں کا یہاں ہونا ہی اس کی خصوصیت ہے۔ دور افتادہ دیہی علاقہ ہونے کے باوجود یہاں بہت سے اساتذہ رہتے ہیں۔ یہاں کئی نسلوں سے درس و تدریس کی روایت قائم ہے۔‘

آپ استاد کیوں بننا چاہتے تھے؟ اس سوال کے جواب عبدالملک کہتے ہیں: ’میرے خیال میں استاد بننے سے ہمیں اچھا شہری بننے میں مدد ملتی ہے۔ میں بچپن سے ہی استاد بننا چاہتا تھا۔ تعلیم ہمیں بچوں کے لیے مثالی بننے میں مدد کرتی ہے۔‘

سکول سے ندی کی دوری کے بارے میں بتاتے ہوئے ملک کہتے ہیں کہ ’سکول میرے گاؤں سے گزرنے والی کادالندی ندی کے دوسرے کنارے پر آباد ایک گاؤں میں ہے۔ سڑک کے ذریعے سکول کا فاصلہ سات کلومیٹر ہے جبکہ ندی عبور کر کے جانے میں یہ فاصلہ صرف ایک کلومیٹر رہ جاتا ہے۔ اس گاؤں میں نہ تو کوئی استاد ہے اور نہ ہی کوئي ڈاکٹر۔ یہ گاؤں تین طرف سے ندی سے گھرا ہوا ہے۔‘

بیس سال قبل کام شروع کرتے وقت عبد الملک سکول کیسے جاتے تھے؟ وہ بتاتے ہیں: ’ان کے راستے میں کوئی بھی پل نہیں ہے۔ بس سے سکول تک سات کلومیٹر کے راستے میں صرف ایک پل ہے اور وہ ابھی حال ہی میں بنا ہے۔ جب میں پہلی بار سکول پڑھانے گیا تھا تو میں نے بس لی تھی اور 12 کلومیٹر کے بعد ایک پل پڑتا تھا۔ پہلے مجھے تین تین بسیں بدل کر جانا پڑتا تھا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ انہیں گھر سے جلدی نکلتا ہوتا تھا تاکہ سکول کے لیے تاخیر نہ ہو: ’سوا دس بجے تک اسکول پہنچنے کے لیے مجھے تقریباً ساڑھے آٹھ بجے گھر سے نکلنا پڑتا تھا۔ اس طرح اپنے گاؤں سے ندی کے دوسرے کنارے پر آباد گاؤں تک پہنچنے میں دو گھنٹے لگ جاتے تھے۔ سب سے زیادہ وقت تو بس کا انتظار کرنے میں ضائع ہو جاتا تھا۔‘

پڑھانے کے لیے تیركر سکول جانے کا خیال کیسے آیا، اس بابت انھوں نے کہا: ’ایک ساتھی ٹیچر نے مجھے تیر كر سکول آنے کی تحریک دی۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ تیركر سکول آنا میرے لیے آسان ہوگا۔ پھر میں نے تیرنا سیکھا اور اس کے بعد میں تیركر سکول جانے لگا۔‘

کیا کبھی کسی نے آپ کو ایسا کرنے سے روکنے کی کوشش کی؟ انھوں نے کہا: ’کسی نے مجھے روکنے کی کوشش نہیں کی۔ ہاں شروع میں میرے اہل خانہ کو تھوڑی تشویش تھی۔ میری ماں فکر مند رہتی تھیں کیونکہ ندی میں پانی کی سطح خاصی بلند ہوتی تھی، لیکن جلد ہی سب سمجھ گئے کہ تیركر سکول جانے میں مجھے آسانی ہے اور پھر سب نے اسے قبول کر لیا۔‘

Image caption عبدالملک کہتے ہیں کہ راستے کی دشواریاں انہیں اپنے مقصد سے بہکا نہیں سکتیں

اپنے معمول کے بارے میں عبدالملک نے کہا: ’میں ساڑھے پانچ بجے بیدار ہوتا ہوں، چائے پینے کے بعد سکول کا کچھ کام پورا کر کے ساڑھے آٹھ بجے تک غسل کر کے شرٹ اور دھوتی پہن کر میں سکول کے لیے نکل پڑتا ہوں۔ چھتری، تولیہ، لنچ اور کچھ کتابوں سے بھرا بیگ بھی میرے ساتھ ہوتا ہے۔‘

عبد الملک بتاتے ہیں: ’ندی کے کنارے پہنچنے کے بعد میں اپنے کپڑے اتار کر تولیہ لپیٹ لیتا ہوں اور کپڑے بیگ میں ڈال کر ندی میں اتر جاتا ہوں۔ میرے پاس ربڑ کے ٹائر کی ایک ٹیوب بھی ہوتی ہے جو مجھے ڈوبنے سے بچانے میں مدد کرتی ہے۔ میرے بیگ میں اس کی ایک خاص جگہ ہے۔ تیرنے کے دوران سامان سے بھرا بیگ اپنے سر پر رکھ لیتا ہوں۔ پھر ندی کے دوسرے کنارے پر پہنچنے کے بعد کپڑے دوبارہ پہن کر اسکول پہنچ جاتا ہوں۔‘

عبدالملک نویں جماعت سے ہی عینک لگاتے ہیں اور تیرتے وقت بھی وہ اسے پہنے رہتے ہیں۔

دریا کی چوڑائی کے بارے میں انھوں نے کہا: ’کادالندی کی چوڑائي تقریبا 70 میٹر ہے، اس لیے اسے عبور کرنا زیادہ مشکل نہیں ہے۔ کبھی کبھی دریا میں تیرتے ہوئے درخت ، کیڑے مکوڑے ، ناریل، کوڑے کرکٹ بھی ہوتے ہیں لیکن میں ان سب سے نہیں ڈرتا یہ چیزیں مجھے میرے مقصد سے نہیں بھٹکا سکتیں۔

’برسات کے موسم میں دریا میں پانی قدرے گندا ہوتا ہے لیکن اس کے علاوہ عام طور پر پانی صاف ہوتا ہے۔ برسات کے موسم میں پانی 20 فٹ ہوتا ہے لیکن موسم گرما میں سطح بہت ہی کم ہوتی ہے۔‘

اس عمل پر گاؤں والوں کے رد عمل کے بارے میں وہ کہتے ہیں: ’پہلی بار جب لوگوں نے مجھے تیرتے دیکھا تھا تو وہ خوش اور حیران تھے لیکن اب انہیں اس کی عادت ہو گئی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ساڑھے نو بجے میں انہیں دریا میں تیرتا مل جاؤں گا۔ تیرنے کے بعد میں تھکاوٹ محسوس نہیں کرتا۔ موسم گرما میں تیر كر سکول پہنچنے کے بعد میں تازہ دم محسوس کرتا ہوں۔ سکول سے واپس آنے کے بعد بھی میں تیرنے کے اسی عمل سے گزرتا ہوں۔‘

اسی بارے میں