بھارت: ڈائن کے نام پر آٹھ ماہ میں 40 قتل

Image caption پولیس رپورٹ کے مطابق گذشتہ آٹھ مہینوں میں تقریبا 40 خواتین کو ڈائن ہونے کے الزام میں قتل کر دیا گیا ہے

بھارت کی مشرقی ریاست جھارکھنڈ میں ڈائن قرار دے کر برہنہ گھمانے اور تشدد کا نشانہ بنانے کا نیا واقعہ سامنے آیا ہے۔ بھارت میں گذشتہ آٹھ ماہ میں ڈائن کے نام پر متعدد خواتین کو اپنی جان گنوانی پڑی ہے۔

بی بی سی کے لیے صحافی نیرج سنہا نے لکھا ہے کہ جھارکھنڈ کی كدني دیوی اس رسم کی نئی شکار بنی ہیں۔

ان کے مطابق کدنی دیوی کو ایک پنچایت میں مبینہ طور پر ڈائن قرار دے کر ان کے بال کاٹ دیے گئے، بری طرح پٹائی کی گئی، کپڑے اتار دیے گئے اور اہل خانہ کے سامنے سرعام برہنہ گاؤں میں گھمایا گیا۔

یہ واقعہ جھارکھنڈ کے قبائلی اکثریتی علاقے لوہردگا ضلع کے كوڑو تھانے میں ٹاٹي ڈومرٹولي گاؤں کا ہے۔

پولیس نے اس معاملے میں ایف آئی آر درج کر لی ہے اور چار افراد کو گرفتار کیا ہے۔

كوڑو تھانہ انچارج پترس ناگ نے بتایا: ’متاثرہ کے بیٹے امیش منڈا کے بیان پر رپورٹ درج کی گئی ہے۔ اس معاملے میں گاؤں کے 17 لوگوں پر الزام عائد کیا گيا ہے۔‘

پولیس کے مطابق: ’متعلقہ گاؤں کے چار افراد بليندر اوراؤں، بھوگلو اوراؤں، بھولا منڈا اور ساوتری دیوی کو گرفتار کیا گیا ہے۔‘

پولیس نے بتایا کہ اس متاثرہ خاتون کے شوہر، بیٹے اور بیٹی نے کسی طرح بھاگ کر تھانے میں اطلاع دی تھی۔اس کے بعد پولیس وہاں پہنچی۔

متاثرہ خاتون کو مقامی ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ تشدد کی وجہ سے ان کے جسم پر کئی زخم آئے ہیں۔

ٹاٹي ڈومرٹولي گاؤں کے مکھیا یعنی سربراہ بندے پاہن کہتے ہیں کہ ان کی رضامندی کے بغیر پنچایت کی گئی اور اس طرح کی سزا دی گئی۔

ان کے مطابق اس طرح کے پنچایتی فیصلے غلط ہیں اور یہ ضروری ہے کہ اب قانون اپنا کام کرے۔

اس سے قبل متاثرہ خاتون کے بیٹے امیش منڈا کے مطابق چھ سال پہلے بھی ان کی ماں کو مبینہ طور پر ڈائن قرار دیا گيا تھا اور ان کی سرعام پٹائی کی گئی تھی۔

امیش منڈا نے بتایا کہ انہوں نے اپنی بہن کے ساتھ مل کر ماں کو بچانے کی کوشش کی لیکن گاؤں والوں نے انہیں بھگا دیا۔ ان کی ماں فریاد کرتی رہی، لیکن انہیں بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا گيا۔

پولیس کے مطابق: ’پانچ نومبر کی صبح گاؤں میں پنچایت بٹھائی گئی جس میں كدني دیوی کے خلاف سزا سنائی گئی۔ اس سے پہلے چار نومبر کو گاؤں میں دیوالی کا میلہ لگا تھا۔ جترا میں متاثرہ خاتون کے ساتھ بعض گاؤں والوں کا جھگڑا ہوا تھا۔ اس کے بعد اگلے روز صبح گاؤں کی پنچایت میں یہ فیصلہ سنایا گیا۔‘

پولیس کا دعویٰ ہے کہ اس واقعے میں گاؤں کی کئی خواتین بھی شامل تھیں۔

اس سے قبل بھی لوہردگا سے متصل گملا ضلع میں اسی قسم کا واقع پیش آیا تھا جب لیمہا گاؤں میں ایک بیوہ کو ڈائن قرار دے کر ان کا قتل کر دیا گیا تھا۔

اس معاملے میں مبینہ ملزم سودھوا منڈا نے تھانے جا کر خود کو پولیس کے حوالے کر دیا تھا۔

Image caption ریاست میں ڈائن سے وابستہ توہمات کو ختم کرنے کے لیے منصوبہ بندی کی گئی

پولیس کے مطابق سودھوا منڈا کے ایک بچے کی موت ہو گئی تھی اور انہیں شک تھا کہ اس بیوہ نے کسی قسم کا جادو ٹونا کیا تھا جس سے بچے کی موت ہو گئی۔

اطلاعات کے مطابق جھارکھنڈ میں گذشتہ آٹھ ماہ میں 40 خواتین کو ڈائن قرار دے کر قتل کیا گیا ہے۔ یہ رپورٹ جنوری سے اگست تک کی ہے۔ یہ اعداد و شمار جھارکھنڈ پولیس کے جرائم کی ماہانہ رپورٹ میں درج ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کی زیادہ تر ہلاکتیں قبائلی اکثریتی علاقوں میں ہوتی ہیں۔

رانچی انسٹی ٹیوٹ آف نیورو سائكیٹري اینڈ الايڈ سائنسز کے ڈائریکٹر اور نفسیات کے ڈاکٹر امول رجن سنگھ کہتے ہیں: ’کسی کی بیماری یا موت میں بھوت، آسیب یا جھاڑ پھونک کرنے والوں کا کوئی کردار نہیں ہوتا لیکن گاؤں میں اب بھی مختلف قسم کے توہمات ہیں جنہیں آگہی کے ذریعے ہی دور کیا جا سکتا ہے۔‘

خاتون رضاکار لكھي داس ڈائن کے مبینہ رواج کے خلاف کولہان علاقے میں سرگرم ہیں۔ وہ کہتی ہیں: ’ان معاملات میں زیادہ تر بیواؤں کو ہی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ قبائلی علاقوں میں اب بھی توہمات کے گہرے اثرات ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ اس بابت ایک مطالعے میں یہ پایا گیا ہے کہ ڈائن قرار دی جانے والی خواتین کو عوامی طور پر پاخانہ کھلایا جاتا ہے، ان کے بال کاٹ دیے جاتے ہیں اور انہیں برہنہ کر کے سر عام گھمایا جاتا ہے، لیکن دور دراز کے علاقوں میں ہونےوالے زیادہ تر واقعات سامنے نہیں آ پاتے۔

جھارکھنڈ کی ریاستی حکومت نے ڈائن رواج کے خاتمے کی منصوبہ بندی کی ہے۔ اس منصوبہ بندی کے نام پر ہر سال بیس لاکھ روپے خرچ کیے جاتے ہیں۔

اسی بارے میں