جوہری مذاکرات پر اسرائیلی تنقید، ’ایرانی پروگرام کو رکوائیں گے‘

Image caption بنیامن نیتن نیاہو نے کہا تھا کہ جنیوا میں ہونے والی بات چیت سے واضح ہے کہ ایران اپنے پسند کا معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو جائے گا اور اس پر سے پابندیاں اٹھا لی جائیں گی

امریکی صدر براک اوباما نے اسرائیلی وزیر اعظم کو ایران کے ساتھ اس کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔

صدر اوباما نے یہ فون ایسے وقت کیا جب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن نیاہو نے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر اوباما نے اسرائیل کے وزیر اعظم کے ساتھ بات چیت میں ایک بار پھر ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے عزم کو دوہرایا۔

اس سے قبل بنیامن نیتن نیاہو نے کہا تھا کہ جنیوا میں ہونے والی بات چیت سے واضح ہے کہ ایران اپنے پسند کا معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو جائے گا اور اس پر سے پابندیاں اٹھا لی جائیں گی۔

تاہم اس بیان پر صدر اوباما کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا تھا کہ جنیوا میں مذاکرات جاری ہیں اور ایسا کہنا قبل از وقت ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ابھی تک کوئی معاہدہ نہیں ہوا ہے اور ایران کے اقدامات کے مطابق ہی اس کو مراعات دی جائیں گی۔

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور ایرانی وزیر خارجہ جاوید ظریف کی جمعہ کو جنیوا میں پانچ گھنٹوں کی ملاقات ہوئی ہے۔

اس ملاقات میں ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت ہوئی۔ مذاکرات کا تیسرا دور سنیچر کے روز ہو گا جب چین کے اعلیٰ عہدیدار اور روس کے وزیر خارجہ بھی شامل ہوں گے۔

ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے تنازع کافی عرصے سے چل رہا ہے۔ لیکن حالیہ دنوں میں اس حوالے سے تیزی سے پیش رفت ہوئی ہے۔

بی بی سی کے جنیوا میں نامہ نگار کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں ایران کا کہنا ہے کہ اس کو یورینیم کی افزودگی جاری رکھنے کی اجازت دی جائے۔

ایران کا کہنا ہے کہ یورینیم کی افزودگی توانائی کے حصول کے لیے کی جائے گی۔ تاہم عالمی طاقتوں کو خدشہ ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار تیار کرے گا۔

روس کے نائب وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ امید ہے کہ ان مذاکرات سے مثبت نتائج سامنے آئیں گے جس کا انتظار پوری دنیا کو ہے۔

ایران میں جمعہ کے خطبے میں کہا گیا کہ وہ ایران کی مذاکراتی ٹیم کے لیے دعا کریں۔

اسی بارے میں