’فلیٹ فرنشڈ اور روشن ہے لیکن مسلمانوں کے لیے نہیں‘

بھارت کے کاروباری مرکز ممبئی میں جائیداد کی خرید و فروخت کے اشتہارات میں مذہبی امتیاز کے پیغامات سامنے آنے کے بعد مہاراشٹر کے اقلیتی کمیشن نے کہا ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ اس طرح کی تفریق کوئی نئی بات نہیں ہے۔

حال ہی میں انڈیا میں پراپرٹی کی خرید و فروخت کی ایک ویب سائٹ پر فلیٹ کے ایک اشتہار میں واضح الفاظ میں یہ لکھا گیا کہ مسلمان خریدار زحمت نہ کریں۔

یہ اشتہار 99 ایکڑ نامی ویب سائٹ پر شائع ہوا تھا اور اسے اب ہٹا لیا گیا ہے لیکن جمعے کی صبح تک ویب سائٹ پر درجنوں دوسرے ایسے اشتہار موجود تھے جن میں صاف لکھا گیا تھا کہ مکان یا فلیٹ مسلمانوں کو نہیں دیا جائے گا۔

مہاراشٹر کے اقلیتی کمیشن کے چیئرمین مناف حکیم نے کہا کہ گذشتہ ایک سال میں انہیں اس طرح کی کئی شکایتیں موصول ہوئی ہیں اور کمیشن اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ اس ایجنٹ کے خلاف کیا کارروائی کی جا سکتی ہے جس نے یہ اشتہار شائع کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم نے ماضی میں بھی سوسائٹیوں کے خلاف کارروائی کی ہے اور اس کیس میں بھی ہم متعلقہ اہلکاروں سے بات کرنے کے بعد کارروائی کریں گے۔‘

اشتہار کے خلاف سماجی کارکن شہزاد پوناوالا نے قومی اقلیتی کمیشن سے بھی شکایت کی تھی۔ ایک ٹی وی چینل سےبات کرتے ہوئے مسٹر پونا والا نے کہا کہ کیا آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کسی ٹوپی پہننے والے یا داڑھی والے مسلمان کے ساتھ ممبئی میں کتنا امتیازی سلوک ہوتا ہوگا۔

یہ شکایت ملنے کے بعد قومی اقلیتی کمیشن کے سربراہ وجاہت حبیب اللہ نے کہا ہے کہ ’یہ اشتہار انتہائی قابل اعتراض ہے۔ اس میں مسلمانوں کا ایسے ذکر کیاگیا ہے جسیے وہ فرنیچر کا حصہ ہوں۔۔۔ہم غور کر رہے ہیں کہ ہم کیا کارروائی کر سکتے ہیں۔‘

نامہ نگار سہیل حلیم کے مطابق ممبئی اور ملک کے دوسرے بڑے شہروں میں بہت سے لوگ مسلمانوں کو فلیٹ کرائے پر دینے یا بیچنے سے بچتے ہیں اور فلم سٹار عمران ہاشمی سمیت بالی وڈ کے کئی بڑے اداکار بھی ایسے امتیازی رویے کی شکایت کر چکے ہیں۔

تازہ ترین اشتہار جسنتھا ریئل سٹیٹ کمپنی نے جاری کیا تھا جو دو بیڈروم کا فلیٹ تین کروڑ روپے میں بیچ رہی تھی۔ اشتہار میں لکھا تھا کہ فلیٹ ’فرنشڈ اور روشن ہے، لیکن مسلمانوں کے لیے نہیں۔‘

یہ فلیٹ دادر کی ہندو کالونی میں واقع ہے جس کے منتظمین کا دعویٰ ہے کہ وہ صرف سبزی کھانے والوں کو اپنی سوسائٹی کی رکنیت دیتے ہیں۔

لیکن سماجی کارکن کہتے ہیں کہ یہ مسلمانوں کو سوسائٹیوں سےباہر رکھنے کا بہانہ ہے۔ لیکن یہ بظاہر پہلا موقع ہےکہ اس طرح کھل کر کوئی اشتہار جاری کیا گیا ہو۔

وجاہت حبیب اللہ کے مطابق ویب سائٹ نے کمیشن کو فون کر کے کہا کہ اشتہار کے لیے اسے ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔

ویب سائٹ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایجنٹ براہِ راست ویب سائٹ پر اپنے اشتہار شائع کرتے ہیں اور چونکہ ویب سائٹ پر ایک ساتھ چار لاکھ کے قریب اشتہار ہوتے ہیں لہٰذا کمپنی کے لیے یہ دیکھنا ممکن نہیں کہ ان میں کوئی قابل اعتراض بات تو شامل نہیں ہے۔

تاہم کمپنی کا کہنا ہےکہ وہ اب زیادہ موثر نظام وضع کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ ایسا دوبارہ نہ ہو۔

اسی بارے میں