چین:’تھرڈ پلینم‘ میں معاشی اصلاحات پر غور

Image caption یہ چین کے موجودہ صدر شی جن پنگ کے دس سالہ دورِ اقتدار کا پہلا ایسا اجلاس ہے

آئندہ دہائی کے لیے چین کا اقتصادی اور سیاسی ایجنڈا طے کرنے کے لیے چینی رہنماؤں کا اہم اجلاس بیجنگ میں شروع ہوگیا ہے۔

سنیچر کو اس چار روزہ اجلاس کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے چین کے سرکاری خبر رساں ادارے زنہوا نے کہا ہے اس اجلاس میں جامع اور دیرپا اثر رکھنے والی اصلاحات کے بارے میں اہم معاملات پر بات چیت ہوگی۔

اجلاس میں جن موضوعات کے زیرِ بحث آنے کی توقع ہے ان میں معاشی شعبے کی آزادی، سرکاری ادارے اور کاروبار اور ملک میں خاندانوں کے رجسٹریشن کے نظام کی اصلاح شامل ہیں۔

یہ بحث بند کمرے میں ہوگی۔

اس اجلاس میں عالمی دلچسپی اس وقت زیادہ بڑھ گئی تھی جب چین کی کمیونسٹ پارٹی کے سینیئر رہنما تو زینگ شینگ نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ اس میں ایسی اقتصادی اور معاشرتی اصلاحات زیرِ بحث آئیں گی جن کی نظیر نہیں ملتی۔

چین میں حکومت سے وابستہ تھنک ٹینک ڈویلپمنٹ ریسرچ سنٹر آف دی سٹیٹ کونسل کی جاری کردہ حالیہ رپورٹ میں اصلاحات کے لیے آٹھ کلیدی شعبوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

Image caption اس اہم اجلاس کے موقع پر سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں

383 منصوبہ نامی اس منصوبے میں چینی رہنماؤں سے معاشی شعبے کو آزادی دینے، ایجاد و اختراع اور مقابلے کی فضا کو فروغ دینے اور حکومت کے معاملات میں شفافیت بڑھانے کو کہا گیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس اجلاس میں کسی قسم کی سیاسی اصلاحات کے زیرِ بحث آنے کا امکان نہیں ہے۔

اس اجلاس کو ’تھرڈ پلینم‘ کا نام دیا جاتا ہے اور یہ چین کے موجودہ صدر شی جن پنگ کے دس سالہ دورِ اقتدار کا پہلا ایسا اجلاس ہے۔

شی جن پنگ کے پیشرو ہوجن تاؤ کی قیادت میں چین دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت بنا تھا لیکن اب اس کی ترقی کی رفتار سست ہوئی ہے اور تشویش ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس کا اثر ملک کے سماجی استحکام پر پڑ سکتا ہے۔

ماضی میں ایسے ’تھرڈ پلینم‘ ملک کی ترقی پر گہرے اثرات ڈالتے رہے ہیں۔

1978 میں اپنے ’تھرڈ پلینم‘ میں سابق رہنما ڈینگ زیاؤ پنگ نے چین کی معیشت کو آزاد بنانے کا اعلان کیا تھا جبکہ 1993 میں زو رونگ جی نے ملک میں سرکاری سیکٹر کو ختم کرتے ہوئے ’سوشلسٹ مارکیٹ اکانومی‘ کا اعلان کیا تھا۔

اسی بارے میں