مذہبی تفریق اب ایک خطرناک روش

Image caption بھارت میں تفریق اب رفتہ رفتہ ایک خطرناک روش بنتی جا رہی ہے

گذشتہ ہفتے بھارت میں مکانات اور زمین کی خرید و فروخت کی ایک سرکردہ ویب سائٹ پر ایک مکان کے اشتہار میں جب یہ نوٹ دیکھا کہ یہ مکان مسلمانوں کے لیے نہیں ہیں تو اس میں کوئی حیرت نہیں ہوئی۔

یہ اشتہار ممبئی کی ایک کثیر منزلہ عمارت کے لیے تھا اور ممبئی میں عام مسلمانوں کے لیے مکان خریدنا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔

فلیٹ فرنشڈ لیکن مسلمانوں کے لیے نہیں

اٹھارہ کروڑ مسلمانوں سے تلخ مذاق

جس ویب سائٹ پر یہ اشتہار شائع ہوا تھا وہاں اب بھی ایسے کئی اشتہار ہیں جن میں مسلمانوں نے کے لیے معانعت ہے۔ یہ سلسلہ پرانا ہے پہلے لوگ دوسرے بہانوں سے مسلمانوں کو مکان فروخت کرنے سے انکار کیا کرتے تھے اب وہ باضابطہ طور پر اشتہار کے ذریعے اس کا اعلان کر رہے ہیں۔

بھارت کے آئین کے مطابق ملک کا کوئی بھی شہری کسی بھی جگہ زمین و مکان خریدنے و فروخت کرنے کا مجاز ہے۔اس عمل میں کسی کے ساتھ مذہب، نسل، یا علاقے کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں برتی جا سکتی۔ لیکن بھارتی جمہوریت میں فسطائی دور کا یہ طریقہ کار کوئی انفرادی یا حادثاتی حرکت نہیں ہے۔ یہ پالیسی مہاراشٹر اور گجرات میں کامیابی کے ساتھ نافذ کی گئی ہے۔ اسے سخت گیر ہندو تنطیموں اور ان کی سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل رہی ہے۔

دارالحکومت دہلی میں بھی مہاراشٹر اور گجرات کا ماڈل اختیار کرنے کی کوشش کی گئی لیکن یہاں کچھ تو رہائشی عمارتوں کی نوعیت اور کچھ خرید و فروخت کے نظام میں فرق ہونے کے سبب مذہب کے نام پر یہ تفریق کامیاب نہ ہو سکی۔

مذہب کے نام پر تفریق برتنے اور مذہبی نفرت کے اظہار کا اس قدر اور اتنا کھل کر مظاہرہ ہو رہا ہے لیکن یہ بھارتی معاشرے میں نہ تو کسی بحث کا موضوع ہے اور نہ کسی تشویش کا سبب۔

ابھی پچھلے دنوں گوا میں ایک نائیجیریا کے ایک شہری کے قتل کے بعد بی جے پی کی ریاستی حکومت نے پورے ملک میں منشیات کے مسئلے کے لیے نائجیریا کے شہریوں کو ذمےدار قرار دیا۔ ایک وزیر اپنی نسلی نفرت میں اس قدر آگے نکل گئے کہ انہوں نے بھارت میں زیرِ تعلیم اور رہنے والے نائجیریا کے شہریوں کو ’کینسر‘ قرار دیا۔ اس طرح کا واقعہ اگر برطانیہ یا امریکہ میں ہوتا تو وہاں کی حکومت معافی مانگتے مانگتے تھک چکی ہوتی۔

Image caption بھارت میں مذہبی، نسلی اور ذات پات پر مبنی تفریق معاشرے میں ایک عرصے سے موجود رہی ہے

بھارت میں مذہبی، نسلی اور ذات پات پر مبنی تفریق معاشرے میں ایک عرصے سے موجود رہی ہے۔ اسی لیے جب گوا کا ایک وزیر نائیجریا کے شہریوں کو ان کی نسل کی بنیاد پر کینسر کہتا ہے یا مہاراشٹر کا ایک بلڈر اپنے اشتہار میں جب یہ لکھتا ہے اس کے مکان مسلمانوں کے ہاتھ نہیں فروخت کیے جا سکتے تو ان خوفناک ذہنیت پر ملک میں کوئی ہنگامہ نہیں ہوتا اور لوگ اسے محض ایک مقامی اور انفرادی معاملہ سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔

لیکن بھارت میں یہ تفریق اب رفتہ رفتہ ایک خطرناک روش بنتی جا رہی ہے۔ انفرادی سوچ اب اجتماعی اور ادارہ جاتی شکل اختیار کر رہی ہے۔ جس طرح بھارت کی سیاست ایک افراتفری کا شکار ہے اسی طرح بھارتی معاشرہ بھی ایک تغیر سے گزر رہا ہے۔ بھارتی معاشرے میں ابھی خود سے سوال کرنے یا تحلیل نفسی کا عمل شروع نہیں ہوا ہے۔ ایک جمہوری سیاسی نظام کے شہری ایک غیر جمہوری سوچ اور عمل کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ معاشرے کو جمہوری سوچ و فکر پر عمل کرنے کے لیے ان سوالوں کا جواب تلاش کرنا ہو گا۔

اسی بارے میں